Saturday, 3 October 2015

The Books of Sultan Makhdoom Ashraf Jahangir Simnani

ایک شبہ کا ازالہ
حاجی الحرمین الشریفین  مخدوم الآفاق سید عبدا لرزاق نورالعین قدس سرہ النورانی  7 ذی الحجہ                      872؁ ہجری میں وصال فرمایا ۔ معتبر روایات سے پتہ چلتا ہے کہ سید عبدالرزاق نورالعین نے اپنی زندگی ہی میں اپنے صاحبزادگان کو تبرک اور مختلف علاقوں کی ولایت عطافرمادی تھی اور ان کے لئے مقام تجویز کردیئے تھے تاکہ اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے تبلیغ دین کا فریضہ ادا کرسکیں،چنانچہ بڑے صاحبزادے سید شاہ حسن کو اپنا جانشین بنایا اور ولایت کچھوچھہ عطا کیا دوسرے صاحبزادے سید شاہ حسین کو ولایت جونپور عطا کی تیسرے صاحبزادے سید شاہ احمد کو ولایت جائس رائے بریلی اور چوتھے صاحبزادے سید شاہ فرید کو ولایت بارہ بنکی عطا کی اس طرح آپ نے تمام صاحبزادگان کو علاقے عطافرمائے لیکن اپنا جانشین سید شاہ حسن کو ہی بنایا ۔ہماری اس بات کی حیات محدث اعظم ہند کے مصنف کی اس تحریر سے ہوتی ہے وہ  لکھتے ہیں :
"حضرت نورالعین پاک نے ہر وجہہ اور ہر لحاظ سے اکبریت حسن کا خاص خیال کھتے ہوئے اپناقائم مقام خلیفہ اور سجادہ نشین سید شاہ حسن خلف اکبر کو بنایا اور خدمت آستانہ و جاروب کشی بھی ان کے سپرد فرمائی جیساکہ مولانا صالح رودولوی خلیفہ سید شاہ کرم اللہ اشرف جائسی اپنے رسالہ"خلافت نامہ اشرفیہ" میں تحریر کرتے ہیں " چنانچہ حضرت نورالعین وقت وفات خدمت جاروب کشی بخلف اکبر سپردند وسید حسین رابجون پوروسید احمد رابجائس وسید فرید رابردولی فرستادہ وصیت بجاآورند" اس بیان سے یہ حقیقت رونما ہوگئی کہ حضرت حاجی الحرمین الشریفین شیخ الاسلام والمسلمین سید عبدا لرزاق نورالعین کی وفات کے بعد درگاہ کچھوچھہ شریف کے تنہا واحد حقیقی اصلی اور جائزسجادہ نشین سید شاہ حسن خلف اکبر یا سرکارکلاں تھےسید شاہ حسن خلف اکبر یا سرکارکلاں کے عہد سجادگی میں ان کے چھوٹے بھا ئی سید شاہ حسین ایک عرصے کے بعد ولایت جونپور سے درگاہ کچھوچھہ شریف بغرض چلہ کشی پہنچےاور پھر مستقل سکونت اختیار کرنے کا ارادہ ظاہر فرمایاولایت جونپور چھوڑنے کی وجہ بھی بتائی جاتی ہے کہ"چوں بست ودومواضع ازبعض معتقدین بفتوح دارندحصہ سید حسین خلف ثانی نیز درآن قراریافت بدیں وجہہ تعلق سکونت کچھوچھہ اختیارکردند"۔   (بحوالہ:  خلافت نامہ اشرفیہ)
بہرحال ! سید شاہ حسین ثانی جب کچھوچھہ شریف پہونچے تو بڑے بھائی کی محبت و شفقت نے انہیں پناہ دی اور مستقل رہنے کی اجازت بھی ان کی بے نفسی وسیع القلبی اور والہانہ تعلق خاطر کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے یہ بھی گوارہ نہ کیا کہ خود تمام حقوق رکھنے کے باوجود تنہامراسم عرس اداکریں اور چھوٹے بھائی کے نام کا چراغ روشن نہ ہو لہذا انہوں نے بکمال اخلاص و محبت اپنے چھوٹے بھائی سید شاہ حسین کو 27محرم الحرام کی تاریخ برائے ادائیگی مراسم عرس مرحمت فرمائی اور اپنے لئے 28 محرم الحرام یعنی عرس حضرت مخدوم صاحب کی خاص تاریخ محفوظ رکھی اس طرح سید شاہ حسین خلف ثانی کو سید شاہ حسن  خلف اکبر سرکار کلاں کے بخشندہ یا مرحمت کردہ حقوق سجادہ نشینی حدوددرگاہ کچھوچھہ شریف ملے ورنہ نورالعین نے انہیں ولایت جونپور کا سجادہ نشین نامزد فرمایا تھا۔                   (حیات محدث اعظم ہندصفحہ 13)
اس سے معلوم ہوا کہ شیخ الاسلام والمسلمین مخدوم الآفاق حاجی الحرمین الشریفین سید عبدالرزاق نورالعین الحسنی الحسینی قدس سرہ النورانی کے وصال کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے سید شاہ حسن ہی درگاہ کچھوچھہ شریف  کے سجادہ نشین تھے لیکن جب ان کےچھوٹے بھائی سید شاہ حسین ولایت جونپور چھوڑکر کچھوچھہ شریف آئے تو انہوں نے کمال مہربانی اور خلوص و محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں جگہ دی بلکہ مراسم عرس بھی تقسیم کرلیں چنانچہ 27 محرم الحرام کو سید شاہ حسین درگاہ شریف میں مراسم عرس ادا کرتے ہیں اور اصل تاریخ یعنی 28 محرم الحرام کو سید شاہ حسن جو درگاہ شریف کے سجادہ نشین تھے مراسم عرس ادا فرماتے تھے۔
             بہرحال رسالؔہ قبریہ اور بشاؔرۃ المریدین  جس میں حالات نزول ملائکہ اور اظہار اپنے عقائد حقہ اور بشارت عالم غیب تحریر فرمایااور علم اصول میں فصوؔل اشرفی لکھی ۔ ایک جلد مکتوباؔت اشرفی آپ کے صاحب سجادہ حضرت نورالعین نے جمع کیا ۔ ایک جلد رقعاتؔ اشرفی جس کو حضرت مولانا شیخ دریتیم نے جمع کیا تھا ۔ اس میں مختصر رقعات حضرت محبوب یزدانی درج  کئے ہیں اور دیوان ؔاشرف ایک مبسوط کتاب منظوم ہے جس کو اہل زمانہ مثل دیوان حافظ لسان الغیب مانتے ہیں۔          (بحوالہ:صحائف اشرفی حصہ اول صفحہ118)
حضرت نورالعین نے فرمایا کہ جس وقت امیر تیمور گورکانی ، حضرت محبوب یزدانی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ تقتمش خاں پر فوج کشی کرنا چاہتا ہوں حضور فال نیک دیکھ کر بتلائیے۔ حضرت کے سامنے آپ کا دیوان رکھا ہوا تھا اس میں جو فال دیکھی یہ شعر برآمد ہوا۔
از  آیت   و   حدیث  دو قرن  اند بیقراں
اے بادشاہ کو ش کہ صاحب قران شوی
لقب صاحب قرانی  امیر تیمور کو حضور کے دیوان کے فال سے عطا ہوا ۔ بعد ملاحظہ فال امیر صاحب قراں کے حضرت محبوب یزدانی دست دعا ہوئے اور فاتحہ پڑھا۔ چنانچہ آپ کی دعا کے برکت سے سلطان صاحب قران نے غنیم پر نصرت و فتح پائی ۔
غوث العالم محبوب یزدانی سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی نے  ارشاد فرمایا:
میرے خاندان کی عظمت اور شان بلند ہے یہاں سے تصور کرنا چاہیے کہ سلطان محمود غزنوی جیسے بادشاہ ہمارے بزرگوں کے غلام زادوں نے سلطنت اور بادشاہت کی ہے۔ (حوالہ: اشرف الفوائد)
آپ  اپنے مکتوبات اشرفی  میں تحریر فرما تے ہیں کہ میرے جد امجد حضرت سید شمس الدین محمود نوربخشی قدس سرہ حضرت قطب الدین بختیار کاکی اوشی چشتی قدس سرہ کے زمانہ میں ہندوستان کی سیر کو تشریف لائے اور سلطان شمس الدین التمش کے گھر مہمان ہوئے سلطان موصوف جو قطب صاحب کے مرید اور خلیفہ تھے ۔ ان سے تعریف کی کہ میرے گھر ایک مہمان سید عالی خاندان ملک ایران کے رہنے والے تشریف لائے ہیں وہ مرتبہ ولایت میں نقباء کے درجہ کو پہونچے ہوئے ہیں ۔
حضرت قطب الدین بختیارکاکی علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ ایسے مہمان عظیم الشان کو تم نے اپنے گھر میں ٹھہرالیا ان کو ہمارے گھر ٹھہرنا چائیے تھا ۔ میں تو ان کو خواجگان چشت سے سمجھتا ہوں۔ دوسرے دن سید شمس الدین محمود حضرت قطب صاحب کے گھر مہمان ہوئے حضرت قطب صاحب نے ان سے فرمایا کہ میں آپ کو خوش خبری سناتا ہوں کہ آپ کی ذریت میں ایک غوث جہانگیر پیدا ہوں گے اور وہ میرے سلسلے کو جاری کریں گے اور خطہ یوض جس کو اودھ کہتے ہیں ۔ اس میں پچھم حدودقصبہ جائس اور سترک سے لے کر پورب دریائے کوسی تک اسی درمیان میں ان کا ظہور کامل ہوگا اور رسالہ غوثیہ میں حضرت خواجہ خواجگان سلطان الہند خواجہ معین الدین ولی الہند چشتی اجمیری نے تحریر فرمایا ہے کہ میرے سلسلوں میں ایک غوث جہانگیر پیدا ہوگا اور وہ ترقی کے ساتھ میرے سلسلہ کو جاری کرے گا۔ غرض کہ جس طرح غوث الثقلین محبوب سبحانی کے زمانہ ظہور سے پہلے آپ کی ظہور کی بشارت مشائخ ماسبق فرماتے تھے اسی طرح سید اشرف جہانگیر سمنانی کے ظہور سے پہلے اولیاماسبق نے آپ کے ظاہر ہونے کی پیشن گوئی فرمائی تھی اور آپ کے پیر برحق حضرت شیخ علاؤ الحق پنڈوی نےمحبوب یزدانی کو  خوشخبری سنائی تھی کہ تم غوث زمانہ ہوگے اور اسی طرح حضرت مخدوم جلال الدین بخاری جہانیاں جہاں گشت قدس سرہ نے مژدۂ حصول مراتب غوثیہ اور قطبیہ حضرت محبوب یزدانی کو پہونچایا تھا۔                               (صحائف اشرفی حصہ اول صفحہ135)
حضرت محبوب یزدانی نےفرمایا کہ اس فقیر نے حضرت شیخ محی الدین ابن عربی کی تصانیف سے پانچ سو کتابیں دیکھی ہیں ۔ بیشتر آپ کی تصانیف فن حدیث و تصوف میں دیکھی گئی ۔ دوسو کتابوں کا دیباچہ اور خطبہ مجھ کو یاد ہے ۔ کتاب خاتمہ مکتوبات اشرفی میں نورالعین سے منقول ہے کہ حضرت محبوب یزدانی نے فرمایا کے سند علم قرأت  کی معناً پانچ پشتوں تک اپنے آباؤ اجداد سے علی الاتصال پہونچی ہے جس کی سند علی ابن حمزہ الکسائی سے اوپر منسوب ہے ۔ میر ا عمل قرأت امام عاصم اور نافع ہے ۔ اور یہ  بھی فرماتے تھے کہ میر ے سلطنت میں میرے خاندان سادات نوربخشیہ سے ستر حافظ قرآن اور قاری فرقان ایک زمانے میں  موجود تھے۔ سبحان اللہ کیا شان ہے حضرت محبوب یزدانی کی کہ پانچ پشتوں میں سلطان ابن سلطان اور سید ابن سید اور ولی ابن ولی اور حافظ ابن حافظ اور قاری ابن قاری اور عالم ابن عالم برابر نسلاً بعد نسلاٍ حضرت کے ہوتے ہوئے چلے آئے۔

غوث العالم محبوب یزدانی سید اشرف جہانگیر سمنانی  صرف عربی اور فارسی پر ہی عبور نہیں رکھتے تھے بلکہ اردو زبان کےسب پہلے ادیب بھی مانے جاتے ہیں ۔ چنانچہ جامعہ کراچی کے شعبہ اردو کے سابق سربراہ ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی نے اپنی تحقیق میں دریافت کیا ہے کہ آپ کا ایک رسالہ اردو نثر میں ’’ اخلاق و تصوف‘‘ بھی تھا۔ پروفیسر حامد حسن قادری رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق بھی یہی ہے کہ اردو میں سب سے پہلی نثری تصنیف سید اشرف جہانگیر سمنانی کا رسالہ ’’اخلاق و تصوف‘‘ ہے جو ۷۵۸؁ھ مطابق ۱۳۰۸؁ ء میں میں تصنیف کیا گیا یہ قلمی نسخہ ایک بزرگ مولانا وجہہ الدین کے ارشادات پر مشتمل ہے اور اس کے ۲۸ صفحات ہیں قادری صاحب نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ مذکورہ رسالہ اردو نثر ہی نہیں بلکہ اردو زبان کی پہلی کتاب ہے اور داستان تاریخ اردو میں لکھے ہیں ۔ اردو نثر میں اس سے پہلے کوئی کتاب ثابت نہیں پس محققین کی تحقیق سے ثابت ہوا کہ سید اشرف جہانگیر سمنانی  قدس سرہ  اردو نثر نگاری کے پہلے ادیب و مصنف ہیں۔

تصانیف جلیلہ
تارک السلطنت غوث العالم محبوب یزدانی سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ عنہ
ê رسالہ مناقب اصحاب کاملین و مراتب خلفائے راشدین
ê رسالہ غوثیہ
ê بشارۃ الاخوان 
ê ارشاد الاخوان
ê فوایدالاشرف
ê اشرف الفواید
ê رسالہ بحث وحدۃ الوجود
ê تحقیقات عشق
ê مکتوبات اشرفی
ê شرف الانساب
ê مناقب السادات
ê فتاوائے اشرفی
ê دیوان اشرف
ê رسالہ تصوف و اخلاق(بزبان اردو)
ê رسالہ حجۃ الذاکرین 
ê بشارۃ المریدین
ê کنزالاسرار
ê لطائف اشرفی  (ملفوظات سید اشرف سمنانی)
ê شرح سکندرنامہ
ê سرالاسرار  
ê شرح عوارف المعارف
ê شرح فصول الحکم  
ê قواعد العقائد
ê تنبیہ الاخوان
ê رسالہ مصطلحات تصوف
ê تفسیر نور بخشیہ
ê رسالہ در تجویز طعنہ یزید
ê بحرالحقائق
ê نحو اشرفیہ
ê کنزالدقائق
ê ذکراسمائے الہی
ê مرقومات اشرفی
ê بحرالاذکار
ê بشارۃ الذاکرین
ê ربح سامانی
ê رسالہ قبریہ
ê رقعات اشرفی
ê تسخیرکواکب
ê فصول اشرفی
ê شرح ہدایہ
حوالاجات
حیات غوث العالم   صفحہ 74 تا 77
صحائف اشرفی حصہ اول 115 تا 118
سید اشرف جہانگیر سمنانی  علمی دینی اور روحانی خدمات  صفحہ 173 تا 206

Makhdoom Ashraf Simnani ki Ilmi aur Adbi Khidmat

تصانیف ، علمی وادبی خدمات
سید اشرف جہانگیر سمنانی اپنے وقت کے جلیل القدر عالم اور برگزیدہ صوفی کے علاوہ صاحب تصانیف بزرگ تھے آپ بیک وقت مصنف ، مؤلف، مترجم،مفسر، مجدد، مصلح، محدث، فقیہ، محشی، مؤرخ، مفکر،نعت گوشاعر، منجم اور شارح تھے۔ بیشتر علوم و فنون میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ آپ نے اپنے علم و روحانیت کے ذریعے تبلیغ دین کا فریضہ بحوبی انجام دیااور اس مقصد کے لئے تحریر وتقریر دونوں سے اہم کا م کیا کسی کی علمیت کا جائزہ لینے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی تحریر یعنی کتب کا جائزہ لیا جائے اس سلسلے میں کتب نمایاں حیثیت رکھتی ہیں کیونکہ یہی وہ علمی سرمایہ ہے جو کسی بھی عالم کی علمی حیثیت اور مقام کو واضح کرتا ہے۔ آپ نےبہت ساری کتب تصنیف فرمائیں جو مرور ایام کے ساتھ ساتھ وہ ناپید ہو گئیں ، لیکن اب بھی الحمد اﷲ کچھ کتابیں ایسی ہیں جو صحیح حالت میں ہیں ۔ اور عالم اسلام کی مختلف جامعات میں محفوظ ہیں۔اکثر کتابیں فارسی میں تھیں بعد میں آپ نے ان کا عربی میں ترجمہ کیا جس طرح ایک کتاب فوائد العقائد تھی یہ کتاب فارسی میں تھی بعد میں اسکا عربی میں ترجمہ کیا گیا ۔ آپ کی تصانیف میں لطائف اشرفی کو بڑی اہمیت حاصل ہے یہ کتاب فارسی میں ہے اور اس میں آپ نے تصوف کے بڑے اہم اسرار و رموز بیان فرمائے ہیں طریقت کے تمام سلاسل کے بزرگوں نے اس سے استفادہ کیا ہے یہ کتاب کچھوچھہ مقدسہ کی لائبریری کے علاوہ  دیگر جامعات میں بھی محفوظ ہے اور اس کا اردو میں ترجمہ ہو چکا ہے ۔
 مجمع البحرین   حاجی الحرمین الشریفین اعلیٰ حضرت قدسی منزلت مخدوم الاولیاء  مرشدالعالم محبوب ربانی ہم شبیہ غوث الاعظم حضرت سید شاہ ابواحمد المدعومحمد علی حسین اشرف اشرؔفی میاں الحسنی الحسینی قدس سرہ النورانی اپنی مشہور ومعروف کتاب صحائف اشرفی میں لکھتے ہیں:
حضرت مولانا ابوالفضائل نظام الدین یمنی خلیفہ حضرت کے جامع لطائف اشرفی ملفوظات حضرت محبوب یزدانی فرماتے ہیں کہ حضرت محبوب یزدانی کا علم عجیب خداداد علم تھا کہ روئے زمین میں جہاں تشریف لے گئے وہیں کی زبان میں وعظ فرماتے اور اسی زبان میں کتاب تصنیف کرکے وہاں کے لوگوں کے لئے چھوڑ آتے ۔ بہت سی کتابیں آپ کی عربی ، فارسی ، سوری، زنگی، اور ترکی مختلف ملک کی زبانوں میں جو تصنیف فرمائیں جن کی فہرست اگر لکھی جائے تو ایک طومار ہو جائے گی۔ علماء جلیل القدر کا یہ قول تھاکہ جس قدر تصانیف حضرت محبوب یزدانی نے فرمائیں بہت کم علماء اس قدر تصانیف کثیرہ کے مصنف ہوئے ہوں گے۔
کتاب کؔنزالاسرار ۔ ذکراسمائؔے الہی اور تسخیر کواکؔب حضرت نے تالیف فرمائیں جس کی تعلیم مجھ کو حضور سے حاصل ہوئی تھی ۔ یہ عجیب کتاب آ پ کی تالیفات سے فن تکسیر میں تھی  تصانیف کثیرہ آ پ کی اس قدر ہیں کہ جس کی فہرست لکھنا محال ہے اکثر کتابیں آ پ کی تالیفات سے بنام قدوۃ الخوانین حضرت مسند عالی سیف خاں حضرت کے خلیفہ جو دامادسلطان فروزشاہ تغلق بادشاہِ دہلی کے تھے تصنیف  ہوئیں اور اس فقیر نظام یمنی نے دوجلدیں حضرت کے ملفوظات سے کتابیں لطائف ؔاشرفی اور کتاب سرؔاالاسرار اور رقعات حضرت کو جمع کرکے اس کو مرقوماتؔ اشرفی کے نام سے موسوم کیا  اور کتاب سکنؔدرنامہ حضرت نظامی گنجوی کی بھی شرح لکھی  علاوہ اس کے مقامات مختلفہ میں حضور نے جو کتابیں تحریر فرمائیں انہیں سے خاص خاص کتابوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔
حسب ارشاد امام عبداللہ یافعی اور بموجب بشارت روحانی حضرت شیخ الشیوخ شیخ شہاب سہر وری قدس سرہ کی کتاب عوارف اؔلمعارف  پر شرح لکھی اور حضرت مولانا شیخ محی الدین ابن عربی قدس سرہ کی کتاب فصوصؔ الحکم پر بھی روم میں  جب تشریف لے گئے شرح لکھی اور اس کو حضرت صاحب المعارف شیخ نجم الدین ابن شیخ صدرالدین فغانی کے سامنے پیش کیا اور عرض کیا کہ میں اس شرح کو بحکم روحانیہ پاک شیخ اکبر لکھا ہے۔
جب عرب میں تشریف لے گئے تو اہالی عرب نے حضرت کے رسائل تصوف کی طرف نہایت میل کیا اور کتابؔ العقائد عربی زبان میں تصنیف کیا ۔ حضرت نے اہل عرب کی تعلیم کے واسطے خاص کر یہ کتاب لکھی جیساکہ مولانا اعظم اعلم مولانا علی نے لمعات کو عربی میں کیا ۔ شرح بھی عربی زبان میں لکھی ۔ اسرارمعارف الہی بہت کچھ اس میں درج فرمائے۔
جب حضرت محبوب یزدانی اطراف عراق و خراسان و ماوراء النہر میں تشریف لے گئے وہاں کے سادات نے کتاب بحرالانساب پیش کی ۔ حضرت محبوب یز دانی نے کتاب مذکورہ سے منتخب کر کے کتاب "اشرف اؔلانساب "تصنیف کی اور کتاب بحراؔلاذکار بھی وہاں ہی تصنیف فرمائی اور رسالہ"اشرف الؔفوائد" اور"فوائدالاؔشرف " ملک گجرات میں تصنیف فرمایا اور کتا ب بشارۃ الؔذاکرین  اوررسالہ تنبیہ الؔاخوان اور رسالہ بشارتؔ الاخوان بیاس خاطر حضرت مسند عالی سیف خاں تصنیف فرمائے اور روم میں رسالہ مصطلحاتؔ تصوت تحریر فرمایا  اور رسالہ مناقب خلفؔاء راشدین فضائل اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ وسلم میں لکھی جس  پر علمائے محمد آباد گوہنہ نے بسبب مناقب حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم اعتراض کیا تھا اور چند رسائل تصوف میں بمقام روم اور لکھے جن کے نام یاد نہیں اور رسالہ حجت الذاکرین بنگالہ میں تصنیف فرمایا اس رسالہ میں پانچوں وقت بعد ادائے فریضہ تین باربآواز بلند کلمہ طیبہ کا ثبوت احادیث اورتفسیر سے فرمایا ہے اس رسالہ کو نصیحت نامہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔
اور کتاب فتاوائے اؔشرفیہ بزبان عربی محض بپاس خاطر حضرت نورالعین تحریر فرمایا اس کتاب میں مسائل فقہ بڑی بڑی کتابوں سے انتخاب کرکے تصنیف فرمایا ۔ یہ فتاویٰ جامع مسائل ضروریہ مذہب حنفیہ میں اس خوبی کے ساتھ لکھا ہے کوئی ایسا مسئلہ نہ تھا کہ جس کی سفر و حضر میں دیکھنے کی ضرورت نہ ہو۔
علم تفسیر میں کتاب ربح سؔامانی  اور کتاب تفسیرنورؔبخشیہ تصنیف فرمائی ۔ جس میں تمام مسائل تصوف مثل خواجہ روز یہاں بقلی رحمۃ اللہ علیہ بکمال خوبی درج فرمائے او ر کتاب ارشاد اؔلاخوان اوراداشغال مشائخ چشت اہل بہشت میں اور رسالہ بحث وؔحدۃ الوجودمیں یہ ایک نایاب رسالہ ہے جس میں سر ہمہ اوست کو بہ دلائل احادیث و تفسیر تحریر فرمایا اوررسؔالہ تجویز یہ درتجویز لعن بر یزید جونپور میں علمائے کے مباحثہ کے بعد تحریر فرمایااورموافق عقیدۂ صاحب عقائد نسفی یزید پر لعنت فسقی کہنا جائز ثابت  کیا۔ اور کتاب بحرالؔحقائق میں سرمعرفت و حقیقت بیان ہے اور علم نحو اؔشرفیہ تصنیف فرمایا جس میں تمامی مسائل نحوی بالتفصیل درج فرمائے   اور کتاب کنز اؔلدقائق فن تصوف میں تصنیف فرمائی اور بشارۃ المؔریدین  حسب درخواست سلطان ابراہیم شرقی جونپورمیں تصنیف کیا اور رسالؔہ غوثیہ ذکر مردان اہل خدمات ابدال و اوتاد و غوث و قطب وغیرہ میں تصنیف کیا اور رسالہ قؔبریہ اپنے قبر شریف میں لکھا ۔ یہ 27 محرم الحرام کو قبر شریف میں آرام فرمایا عالم حیات میں تھا ۔ اس میں رسالؔہ قبریہ اور بشارۃ ؔالمریدین لکھا اور 28 محرم الحرام کو جملہ خلفاء اور مریدین باصفا کے حق میں دعائے خیرفرمائی  اور اسی تاریخ 28 محرم الحرام کو بعد ظہر مجلس سمع میں رحلت فرمائی ۔ مقام اعلیٰ علیین کی طرف روانہ ہوئے چنانچہ اب تک سجادہ نشینان خانقاہ حسنی مراسم و فاتحہ قل اسی تاریخ پر ادا کرتے ہیں جیساکہ اولاد شاہ حسین سجادہ نشین چھوٹی سرکار کے ایک دن پیشتر حضور کے وصال سے 27 یعنی محرم الحرام کو رسم فاتحہ ادا کرتے ہیں۔                (حوالہ: صحائف اشرفی حصہ اول صفحہ117) 

Friday, 2 October 2015

Karamaat e Syed Makhdoom Ashraf Jahangir Simnani


محبوب یزدانی غوث العالم
 تارک السلطنت مخدوم سلطان اوحدالدین
 سید اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ النورانی
کچھوچھہ شریف یوپی انڈیا
کرامت قسط 1:
صحائف اشرفی میں حضور شیخ المشائخ اعلی حضرت حضرت سید علی حسین اشرف اشرفی میاں قدس سرہ سجادہ نشین کچھوچھہ شریف لکھتے ہیں کہ سنوات الاتقیاء جو تصنیف شیخ ابراہیم سرہندی کی ہے اس کو حضرت مولانا سید اسماعیل حسن صاحب قادری مارہروی قدس سرہ نے مجھے(اعلی حضرت اشرفی میاں کو  )دکھلایا ۔اس میں لکھا ہے کہ ایک دن قاضی شہاب الدین ملک العلماء خدمت عالی حضرت محبوب یزدانی میں اس خیال سے حاضر ہوئے کہ حضور محبوب یزدانی مجھ کو میرے لائق خطاب عطا فرمائیں ۔اور وہ چیز کھلائیں۔جو میں نے کبھی نہ کھائی ہو۔جیسے ہی خیمے مبارک کے قریب آئے طناب خیمہ سے الجھ کر قاضی صاحب کی پگڑی گر پڑی۔
حضرت محبوب یزدانی نے فرمایا ۔ملک العلماء دستار سرپر رکھو ۔جب خدمت عالی میں حاضر ہوئے تو حضرت نے باورچی سے فرمایا کہ طعام ماحضر قاضی صاحب کے لئے لاو۔باورچی نے ایک پیالہ کھیر کا قاضی صاحب کے سامنے پیش کیا۔قاضی صاحب دل میں سوچنے لگے کہ کھیر کوئی نایاب کھانا نہیں ۔میں نے تو بارہا کھیر کھائی ہے۔
حضور محبوب یزدانی نے فرمایا کہ فقیر کے ساتھ گائے بھینس نہیں رہتی ہیں ۔جہاں فقیر جاتا ہے جنگل کے ہرن ۔نیل گاو آکر دودھ دے جاتے ہیں ۔بھلا ایسی کھیر آپ کو کب میسر ہوئی ہوگی۔یہ سن کر قاضی صاحب دل ہی دل میں پشیمان ہوئے ۔

کرامت قسط 2
سرکار اعلی حضرت اشرفی میاں سجادہ نشین کچھوچھہ شریف صحائف اشرفی میں لطائف اشرفی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ حضور محبوب یزدانی مقام پنڈوہ شریف سے جب رخصت ہوکر چلے اور خطہ جونپور میں قیام فرمایا ۔حضرت قاضی شہاب الدین ملک العلماء دولت آبادی قدس سرہ خدمت عالی میں تین باتوں کا خیال کرکے حاضر ہوئے۔ایک تو یہ کہ اپنا جوٹھا عنایت فرمائیں ۔دوسرے ایسا تحفہ دیں جو کہ نادرالعصر ہو۔تیسری وہ بات کریں کہ آپ کی طرف سے گمان شیعت کا میرے دل سے اٹھ جائے۔
جس وقت حاضر خدمت ہوئے حضور محبوب یزدانی وضو فرمارہے تھے۔جیسا کہ طریقہ اہل سنت کا ہوتا ہے۔جب مبارک دھوئے تو قاضی صاحب کی طرف ہنس کر فرمایا ۔
ظن المؤمنين خيرا .مسلمانوں کی طرف نیک گمان کرنا چاہئے ۔
ہندوستان کے آدمی عجیب قسم کے شبہ کرنے والے ہوتے ہیں ۔بقیہ وضو کا پانی اول حضرت نے خود پیا ۔تھوڑا سا بچا ہوا پانی قاضی صاحب کو عنایت فرمایا کہ پی جاواس میں آب زمزم ہے۔
جب حضرت نے رخصت کیا تو کتاب ہدایہ جو ولایت سے تصحیح کرکے ہمراہ لائے تھے۔اور اس پر حاشیہ قلم مبارک مولانا برہان الدین مرغینانی ہروی قدس سرہ کا تھا۔اور بعض حاشیہ حضرت محبوب یزدانی نے اپنی طرف سے اس پر لکھا تھا ۔قاضی صاحب کو عنایت فرمایا ۔اور فرمایا کہ اس راہ کا علم مشکل ہے۔کم سے برادر شہاب الدین کے علم کے برابا ہونا چاہیے ۔
آئینہ          ہوتا          ہے       اہل               دل            کا                     دل
کشف ہو تجھ پر کسی کامل سے مل


 کرامت قسط 3
صاحب صحائف اشرفی حضور اشرفی میاں قدس سرہ لکھتے ہیں ۔کہ جب حضرت محبوب یزدانی کے پیرومرشد خواجئہ خواجگان حضرت مخدوم علاء الحق گنج نبات پنڈوی بنگالی قدس سرہ نے فرمایا کہ فرزند اشرف تم کو معلوم ہے کہ تمہارے قبر کی جگہ کہاں ہے۔تم ولایت جونپور کی طرف جاو وہاں ہی اسی جوار میں تمہارا مقام اور جائے قبر ہے۔
حضور محبوب یزدانی نے عرض کیا کہ آپ مجھ کو خطئہ جونپور کی طرف بھیجتے ہیں اور مجھ کو اپنے کشف سے معلوم ہوا ہے کہ وہاں ایک شیر رہتا ہے۔
آپ کے پیرومرشد نے فرمایا کہ کچھ اندیشہ کی بات نہیں ۔وہاں ایک شیر بچہ تم کو ملے گا وہی اس شیر کے لئے کافی ہے۔چنانچہ جب حضرت محبوب یزدانی نے مقام پنڈوہ شریف خانقاہ سے رخصت ہوکر مع حشم و خدم شاہانہ قصبہ ظفر آباد متصل شہر جونپور میں نزول فرمایا ۔اور مسجد ظفر خاں میں اترے۔اسباب سفر وہاں ہی رکھا گیا۔حضرت کے ہمراہ اونٹ گھوڑے خچر جوتھے ۔ان کو قلندروں نے مسجد کے صحن کے اندر باندھنا شروع کیا۔اس خبر کو سن کر چند علماء اور طلباء بغرض استفسار آپ کی خدمت عالی میں حاضر ہوئے۔چاہتے تھے کہ کچھ عرض کریں اسی اثناء میں ایک گھوڑے نے گردن سے اشارہ کیا۔حضور محبوب یزدانی غوث العالم  نے فرمایا یہ گھوڑا لید کرے گا۔اشارہ کرتا ہے اس کو مسجد کے باہر لے جاو۔پھر ایک اونٹ نے اشارہ کیا ۔فرمایا کہ یہ پیشاب کرے گا۔اس کو بھی باہر لے جاو۔غرض کہ اسی طرح چند جانوروں نے اشارے کئے۔
حضور محبوب یزدانی نے ان لوگوں کی طرف جو حاضر ہوئے تھے متوجہ ہوکر فرمایا یہ جانور پاک ہیں ۔صحن مسجد میں ان کا لانا ممنوع نہیں ۔چونکہ ہمارے ساتھ رہنے والے جانور باادب ہیں اپنی حوائج سے خبر کردیتے ہیں ۔تو ایسے جانوروں کا مسجد میں لانا کیا قباحت ہے۔ہاں مقتضائے ادب یہ ہے کہ یہ جانور مسجد میں نہ لائے جائیں ۔
معترضین نادم اور پشیمان ہوکر چلے گئے۔
 کرامت قسط 4
سرکار اعلی حضرت اشرفی میاں لکھتے ہیں مسجد ظفر خاں شہر جونپور میں حضور محبوب یزدانی مع خلفاء و مریدین کلمات سر و معرفت الہی بیان فرمارہے تھے۔کہ کچھ لوگ ایک زندہ آدمی کو ایک چارپائی پر لٹائے ہوئے اوپر سے چادر اوڑھاکر لائے اور روروکر عرض کرنے لگے۔کہ حضرت اس کی نماز جنازہ پڑھادیجئے۔
یہ نقال تھے جن کو ہندی بھونڈا کہتے ہیں ۔اس غرض سے زندہ آدمی کو مردہ بناکر لائے تھے کہ جب حضرت اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں گے تو آدمی چارپائی سے اٹھ کر بھاگے گا جس سے ہم مذاق اڑائیں گے۔
حضرت محبوب یزدانی نے ایک خلیفہ سے فرمایا کہ ادائے نماز جنازہ فرض کفایہ ہے ۔تم جاکر اس کی نماز جنازہ پڑھا دو سب کو جانے کی ضرورت نہیں ۔
ایک نقال نے میت کا وارث بن کر نماز جنازہ پڑھانے کی اجازت دی۔
جب حضرت کے خلیفہ نے نماز جنازہ کے لئے تکبیر اولی اللہ اکبر کہکر کان تک ہاتھ اٹھائے۔ادھر اس کی روح پرواز کر گئی۔
نماز جنازہ کے بعد حضرت کے خلیفہ نے فرمایا کہ میت کو اٹھاو اور لے جاکر دفن کردو۔
وہ نقال تو اس کے آٹھ کر  بھاگنے کے منتظر تھے۔مگر اس کی روح پرواز کرچکی تھی۔سب لوگ اپنی اس حماقت پر پشیمان ہوئے۔
حضور محبوب یزدانی غوث العالم نے فرمایا کہ اب کچھ نہیں ہوگا لے جاو اس کو سپرد خاک کردو ۔(صحائف اشرفی حصہ اول  )
 کرامت قسط 5
صاحب صحائف اشرفی سرکار اعلی حضرت اشرفی میاں سجادہ نشین کچھوچھہ شریف صحائف اشرفی میں لطائف اشرفی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ حضرت مولانا شیخ محمد کبیر عباسی سرور پوری جو ایک خواب کی بنا پر سرور پور سے ظفر آباد میں حضرت حاجی چراغ ہند کی خدمت میں آئے۔خواب یہ تھا کہ جس کا سبب یہ پیدا ہوا۔یعنی جب حضرت مولانا محمد کبیر تحصیل علوم سے فارغ ہوئے آپ کے دل میں شوق پیدا ہوا کہ کسی مرد کامل اور درویش صاحب دل سے بیعت حاصل کرکے تکمیل سلوک حاصل کریں ۔شب کو یہ خواب دیکھا کہ ایک صاحب نورانی صورت ،میانہ قد، ریش مبارک کے بال سرخ،تشریف لائے ہیں اور مجھ کو بیعت کیا ہے۔شربت پلایا اور روٹی بھی کھلائی ۔جب خواب سے بیدار ہوئے ۔شوق دل طلب سلوک میں حد سے زیادہ بڑھا۔دل میں سوچنے لگے کہ اس دیار میں صاحب ولایت حضرت حاجی چراغ ہند ہیں ۔غالبا خواب میں اشارہ انہیں کی طرف سے ہوا ہوگا۔اسی خیال سے رواں دواں ظفر آباد پہونچے ۔آپ کے ہمراہ شاگردوں کی بھی ایک جماعت تھی اور وہ سب آپکے ساتھ بیعت کرنا چاہتے تھے۔جب حضرت حاجی چراغ ہند کی صورت دیکھی تو جو شکل خواب میں نظر آئی تھی وہ نہ پائی۔حضرت شیخ کبیر کا دل چراغ ہند سے بیعت کرنے پر راضی نہ ہوا۔مگر چندروز وہاں ٹھہرے ۔اسی اثناء میں نسیم ولایت جہانگیری عالم میں چلنے لگی اور تجلیات خورشید ہدایت چار سمت میں پھیل گئی ۔
حضور محبوب یزدانی مسجد ظفر خاں میں رونق افروز تھے۔اور فرماتے تھے کہ میرے دماغ میں ایک دوست کی خوشبو آتی ہے۔اور تعجب ہے کہ وہ چلا کیوں نہیں آتا۔جب حضرت کی شہرت عام طور سے ادنی واعلی کو پہونچی۔تو حضرت شیخ کبیر کو بھی اشتیاق قدمبوسی ہوا۔کہ شرف دیدار حاصل کروں ۔
حضور محبوب یزدانی بعد ادائے وظائف صبح اشراق کی نماز پڑھ کر مجمع یاراں میں بیٹھے ہوئے تھے۔کہ حضرت شیخ کبیر حاضر ہوئے۔دور سے جیسے ہی نظر پڑی ۔حضور محبوب یزدانی نے فرمایا کہ وہ یار کہ جس کو میں یاد کررہا تھا۔آگیا ۔شیخ کبیر کے آنے سے پہلے ہی خادم کو روٹی اور شربت تیار کرنے کا حکم دے چکے تھے۔جب شیخ کبیر نے دور سے جمال مبارک دیکھا جو صورت خواب میں دیکھی تھی وہی نظر آئی ۔آیتہ كريمه. انى وجهت وجهى للذى فطرالسموات والأرض؟پڑھتے ہوئے سر قدم مبارک پر رکھ دیا۔
اور شرف بیعت سے مشرف ہوئے ۔حضور محبوب یزدانی نے روٹی اور شربت اپنے دست مبارک سے کھلایا پلایا ۔بیعت کا شرف حاصل کرنے کے بعد حضرت کے اصحاب سے مصافحہ کیا اور سب نے مبارکباد دی۔
حضرت شیخ کبیر کے مرید ہونے کی خبر جب عام طور سے مشہور ہوئی۔حضرت حاجی چراغ ہند نے بھی ان کے مرید ہونے کا قصہ سنا یہ بات آپ کے مزاج کے موافق نہ ہوئی۔کہ ایک آدمی کل میرے پاس مرید ہونے کے لئے آیا اور جاکر مرید ہوگیا ۔اس لئے ہر چند کہ آپ کے مناسب حال نہ تھا۔مگر انسانی تقاضا کے تحت مزاج عالی میں تعصب پیدا ہوا۔اور تجلی اسم جلال شیخ کے سر میں متجلی ہوئی۔فرمایا کہ کبیر جوان مرجائے گا۔کہ یہاں سے جاکر وہاں مرید ہوگیا۔
چونکہ حضرت شیخ کبیر مخدوم سمنانی محبوب یزدانی کے فیض نظر کیمیا اثر سے کامل ہوچکے تھے۔حضرت حاجی چراغ ہند کا کہنا آپ پر ظاہر ہوگیا۔اور حضور محبوب یزدانی بھی اس حال سے متاثر ہوئے۔فرمایا کہ اے فرزند کبیر تم غم نہ کھاو۔کہ کبیر تو بوڑھا ہوگا۔لیکن جنہوں نے تم کو بدعا دی ہے تم بھی ان کے بارے میں کچھ کہو ۔جو تم کہوگے وہی ہوگا۔
حضرت شیخ کبیر نے کمال عاجزی سے عرض کیا۔کہ اب میں ان کو کیا کہوں جو کچھ کہ ان کی طرف سے صادر ہوا ہے انہی کی طرف لوٹ جائے۔
حضور محبوب یزدانی نے جب یہ معائنہ کیا تو فرمایا کہ درویشوں سے یہ بات آسان ہے۔مشیئت الہی یہی تھی۔دونوں بزرگوں کی بات اپنی اپنی جگہ پر رہی۔حضرت شیخ کبیر پچیس برس کی عمر میں ایسے بوڑھے ہوگئے کہ جیسے سو سال کا بوڑھا ہوتا ہے۔اور حضرت شیخ حاجی چراغ ہند کا شمع ہدایت شیخ کبیر کے انتقال سے پانچ سال قبل گل ہوگیا۔
اس مقام پر یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ ایک ولی کی زبان سے جو کچھ نکل جائے دوسرا ولی اس کو ٹال سکتا ہے ۔مگر حالت مشائخ دیکھنے سے یہ بات ثابت ہوئی کی سوائے غوث کے دوسرا ولی کسی ولی کی زبان کو ٹال نہیں سکتا۔
چونکہ حضور غوث العالم محبوب یزدانی اولیائے روئے زمین کے سردار تھے۔اس لئے آپ کےفرمانے سے حضرت کبیر پچیس برس کی عمر میں بوڑھے ہوگئے ۔اب اگر جوان ہوتے تو اسی وقت انتقال کر جاتے اسی لئے آپ کی حیات میں اسقدر خدانے برکت دی کہ حضرت چراغ ہند ظفر آبادی وصال کے بعد پانچ برس اور زندہ رہے۔
(صحائف اشرفی ۔لطائف اشرفی  )


 کرامت قسط6
ایک دن حضرت محبوب یزدانی مسجد ظفر خاں میں رونق افروز تھے۔اصحاب بھی ساتھ تھے۔ایک بار حاضرین کو سخت گرمی محسوس ہوئی کہ جیسے مسجدمیں آگے برس رہی ہو۔ایک دم سب نے سکوت کیا آخر تاب نہ لاسکے ۔سب نے باری باری مسجد سے باہر نکلنا شروع کیا۔سامنے کوئی باقی نہ رہا۔حضور محبوب یزدانی نے تبسم فرمایا ۔اور فرمایا کہ یہ آتش چراغ سے ہے اس کا بجھا دینا آسان ہے۔تھوڑی ہوا میں سرد ہوجاتا ہے ۔ایک خادم سے فرمایا کہ پانی کا لوٹا لاو۔کہ تم لوگوں کی تکلیف جاتی رہے۔بموجب فرمان ،خادم نے زمین پر پانی گرایا ۔حضرت حاجی چراغ ہند پانی میں غرق ہونے لگے۔اپنے پیر کو یاد کیا ۔اور انہوں نے اپنے پیر کو۔درجہ بدرجہ یہاں تک نوبت پہونچی کہ روحانیت پاک حضور پرنور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمان جاری ہوا کہ۔تم کو مناسب نہ تھا کہ مہمان کے ساتھ یہ ادائے مخالفت کرو۔اگر کچھ نہ تھا تو اتنا تو سمجھتے کہ میرا فرزند تھا۔اس کی رعایت تم کو کرنی چاہئے تھی۔اب اٹھو اور جاو اور ان سے معافی طلب کرو۔
حضرت حاجی چراغ ہند ادھر اپنے گھر سے نکلے ادھر حضور محبوب یزدانی غوث العالم کے پاس تمام اکابرین کی روحانیاں تشریف لائیں ۔آپ نے فرمایا کہ میرا خیال ان کی ولایت میں قیام کرنے کا نہیں ہے ۔تمام روحانیہ اکابرین سے آپ نے معذرت کی۔اور یہ فرمایا کہ درمیان خاندان چشت اور سہرورد جہاں کہ ہیں ۔ایک حد مقرر کی جاتی ہے۔بس اب درمیان جانبین دریائے گومتی حد فاضل قرار دی جاتی ہے۔کہ کوئی اپنی حد سے متجاوز نہ ہو۔
حضرت محبوب یزدانی مسجد سے نکل کر حضرت حاجی چراغ ہند کے پاس جانا چاہتے تھے ادھر وہ تشریف لارہے تھے۔راستے میں دونوں کی ملاقات ہوئی مصافحہ اور معانقہ ہوا۔
پھر حضرت حاجی چراغ ہند نے حضور محبوب یزدانی کی دعوت کی اور انہیں اپنے گھر لے گئے۔
 کرامت 7
حضور محبوب یزدانی ایک دن قصبہ چاندی پور بڈہڑ میں بغرض ادائے نماز جمعہ تشریف لے گئے۔اس قصبہ میں ایک بزرگ شیخ زاہد نام عابدانہ اور زاہدانہ زندگی بسر کرتے تھے۔اور ان کی یہ کرامت نہایت مشہور تھی کہ اکثر رات کو حجرے سے باہر نکلنا جاتے ہیں ۔جب لوگ آپ کو تلاش کرتے تو آپ کو دریائے سرجو کے پانی پر مصلی بچھائے ہوئے نماز پڑھتے دیکھتے ہیں ۔اسی کرامت کی شہرت سے جوارودیار کے آدمی ازحد ان کے معتقد تھے۔
حضور محبوب یزدانی بھی شیخ زاہد کی ملاقات کے لئے تشریف گئے۔دیکھا کہ آپ دریا کے درمیان مصلی بچھائے نماز پڑھ رہے ہیں ۔حضرت محبوب یزدانی بھی دریا کے اوپر پیر رکھتے ہوئے۔شیخ زاہد کے مصلی کے پاس پہونچے اور بمقتضاء شفقت بزرگانہ ان کی پیٹھ پر دست شفقت پھرانے لگے ۔اور فرمایا کہ تجھ پر خدا تعالی کی رحمت ہو کہ عرفان اور آراستگی تم نے اس قدر بہم پہونچائی جیسا کہ بزرگوں کا ددستور ہوتا ہے۔
حضرت شیخ زاہد بھی اپنی پیری اور زہد پر نازاں تھے۔وہ حضرت محبوب یزدانی کی پشت مبارک پر ہاتھ پھرانے لگے اور دعا کے کلمات کہنے لگے۔
حضور محبوب یزدانی کو ان کی یہ حرکت ناپسند ہوئی۔فرمایا کہ ہندوستان کے آدمی عجیب گستاخ ہوتے ہیں ۔تھوڑی کرامت میں مغرور ہوجاتے ہیں ۔ایسے لوگ چند روز میں گمنام ہوجاتے ہیں ۔
تھوڑے دن میں زاہد غائب ہوگیا ۔کسی نے نہ جانا کہ کیا ہوا۔کہاں گیا۔ان کی قبر کا بھی نشان نہ رہا۔
زبان مبارک سے اس وقت حضرت نے یہ بھی فرمایا تھا کہ تیری قبر گدھوں کی چراگاہ میں ہوگی۔سناگیا کہ اکثر دھوبیوں کے گدھے جب گم ہوجاتے ہیں تو دھوبی اس طرف تلاش کو نکلتے ہیں مدھر زاہد کی قبر بے نشان تھی ۔اور یہ بات بھی زبان مبارک سے نکلی کہ یہ قصبہ کبھی آباد ہوگا اور کبھی ویران ہوجائے گا۔یہ بات بھی دیکھی گئی۔
(صحائف اشرفی ۔لطائف اشرفی  )
 کرامت 8
قصبہ نظام آباد کے پاس ایک گاوں ہے۔جس کا نام دو بتیہا ہے۔اس میں ہندو اور مسلمان دونوں آباد تھے۔اور اتفاقا حضور محبوب یزدانی اس گاوں میں تشریف لے گئے ۔خود مسلمانوں کی مسجد میں اترے اور ہمراہیوں کے واسطے خیمے نصب ہوئے۔گاوں چھوٹا تھا۔اور بازار اس میں نہیں تھا۔وہاں کے مسلمانوں نے کم ہمتی کی حضرت کی دعوت کا کچھ سامان نہ کیا۔حضرت کے ہمراہی رات کو بھوکے سوئے رہے۔جب صبح ہوئی دوسرے فرقہ ہندو میں سے جو غریب تھا اس شخص کو معلوم ہوا کہ رات کو فقرا نے فاقہ کیا۔حضرت محبوب یزدانی کے سامنے آکر نہایت عاجزی کے ساتھ عرض کرنے لگا۔کہ اگر تھوڑی حضرت ٹھہر جائیں تو میں کچھ ناشتہ کا سامان کروں۔حضرت نے اس کی استدعا قبول فرمائی ۔وہ شخص گیا اس کی صرف ایک گائے تھی۔اور کچھ اس کے پاس نہ تھا ۔حضرت محبوب یزدانی کے پاس لاکر کہا کہ اس کو ذبح کراکر ہمراہیوں کے واسطے ناشتہ پکوائیے۔اور بڑی کوشش اور تردد سے تمام ہندووں نے مل کر دو تین من آٹا بھی پیش کیا۔دودھ دہی گھی مصالحہ بھی لاکر باورچی کو دیا۔
باورچی نے جب کھانا تیار کیا جملہ پانچ سو درویشوں کو تقسیم کیا گیا۔لیکن کھانا کم نہ ہوا۔کھانے کے بعد ہندو آیا اور ادب سے کنارے کھڑا ہوا۔
حضور محبوب یزدانی نے فرمایا کہ فرقہ مسلمان کی دولت ہم نے تجھ کو دی۔اور تیرےسات بیٹے پیدا ہوں گے۔
تھوڑی ہی مدت میں حضرت کا فرمان ظاہر ہوا۔جماعت مسلمان مفلسی کے سسبب گاوں چھوڑ کر  بھاگ گئے۔
حضور محبوب ربانی سرکار اعلی حضرت اشرفی میاں قدس سرہ صحائف اشرفی میں میں لکھتے ہیں۔ کہ فقیر اشرفی جب اس گاوں میں گیا تو ایک زمیندار جس کا نام پنی راو تھا ملا۔اور کیفیت دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ ابھی تک تو ہم لوگ حضرت کی دعا سے بکمال فارغ البالی بسر کرتے تھے۔مگر اب ہم لوگوں پر ایک خطا کی وجہ سے تکلیف آنے لگی ۔
قصبہ نظام آباد کے پاس ایک گاوں ہے۔جس کا نام دو بتیہا ہے۔اس میں ہندو اور مسلمان دونوں آباد تھے۔اور اتفاقا حضور محبوب یزدانی اس گاوں میں تشریف لے گئے ۔خود مسلمانوں کی مسجد میں اترے اور ہمراہیوں کے واسطے خیمے نصب ہوئے۔گاوں چھوٹا تھا۔اور بازار اس میں نہیں تھا۔وہاں کے مسلمانوں نے کم ہمتی کی حضرت کی دعوت کا کچھ سامان نہ کیا۔حضرت کے ہمراہی رات کو بھوکے سوئے رہے۔جب صبح ہوئی دوسرے فرقہ ہندو میں سے جو غریب تھا اس شخص کو معلوم ہوا کہ رات کو فقرا نے فاقہ کیا۔حضرت محبوب یزدانی کے سامنے آکر نہایت عاجزی کے ساتھ عرض کرنے لگا۔کہ اگر تھوڑی حضرت ٹھہر جائیں تو میں کچھ ناشتہ کا سامان کروں۔حضرت نے اس کی استدعا قبول فرمائی ۔وہ شخص گیا اس کی صرف ایک گائے تھی۔اور کچھ اس کے پاس نہ تھا ۔حضرت محبوب یزدانی کے پاس لاکر کہا کہ اس کو ذبح کراکر ہمراہیوں کے واسطے ناشتہ پکوائیے۔اور بڑی کوشش اور تردد سے تمام ہندووں نے مل کر دو تین من آٹا بھی پیش کیا۔دودھ دہی گھی مصالحہ بھی لاکر باورچی کو دیا۔
باورچی نے جب کھانا تیار کیا جملہ پانچ سو درویشوں کو تقسیم کیا گیا۔لیکن کھانا کم نہ ہوا۔کھانے کے بعد ہندو آیا اور ادب سے کنارے کھڑا ہوا۔
حضور محبوب یزدانی نے فرمایا کہ فرقہ مسلمان کی دولت ہم نے تجھ کو دی۔اور تیرےسات بیٹے پیدا ہوں گے۔
تھوڑی ہی مدت میں حضرت کا فرمان ظاہر ہوا۔جماعت مسلمان مفلسی کے سسبب گاوں چھوڑ کر  بھاگ گئے۔
حضور محبوب ربانی سرکار اعلی حضرت اشرفی میاں قدس سرہ صحائف اشرفی میں میں لکھتے ہیں۔ کہ فقیر اشرفی جب اس گاوں میں گیا تو ایک زمیندار جس کا نام پنی راو تھا ملا۔اور کیفیت دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ ابھی تک تو ہم لوگ حضرت کی دعا سے بکمال فارغ البالی بسر کرتے تھے۔مگر اب ہم لوگوں پر ایک خطا کی وجہ سے تکلیف آنے لگی ۔
حضور اعلی حضرت اشرفی میاں قدس سرہ فرماتے ہیں ۔کہ جب میں اس زمیندار جس کا نام پنی راو تھا ملا اور پریشانی کی وجہ دریافت کی تو اس نے بتایا کہ جب حضور محبوب یزدانی ہمارے گاوں میں ٹھہرے تھے تو بڑی کی شاخ سے مسواک کی اور اس کو زمین میں دبا دیا اور یہ فرمایا کہ یہ ہماری نشانی رہے گی ۔چنانچہ اس مسواک سے ایک عظیم الشان بڑ کا درخت پیدا ہوا۔اور اس کی شاخوں سے جہاں جہاں ریش زمین تک لٹکی اس میں جڑ نکل آئی ۔بڑھتے بڑھتے یہ درخت بادہ بیگہ کے حلقے میں پھیل گیا۔ہماری قوم والے اس درخت کے پتے تک نہیں چھوتے تھے ۔اب ہماری قوم والوں نے اس درخت کی لکڑی کاٹنا شروع کی۔پانچ بیگہ تک کاٹ کر صاف کردیا۔اور اس جگہ میں کھیتی کرنے لگے۔اس وقت وہ درخت سات بیگہ کے حلقے میں موجود ہے۔
سرکار اعلی حضرت اشرفی میاں قدس سرہ فرماتے ہیں۔یہ واقعہ 1326 ہجری کا ہے جب اس فقیر نے اس کی زبان سے سنا۔تو میں نے کہا کہ تم لوگوں بڑی غلطی ہوئی ۔جب حضرت نے تم کو گاوں بخش دیا تو جہاں تک بڑ کا درخت حضرت کی مسواک کی نشانی تھی اس کو نہ کاٹتے۔
اور اعظم گرھ میں ایک معتبر شخص کی زبان سے فقیر نے سنا کہ اعظم گڑھ کے ایک کنجڑے نے تھوڑی زمین موضع دو بیتھا کی نیلام کے ذریعہ خرید کی ۔ایک سال بھی گزرنے نہ پایا تھا کہ وہ ایسا تباہ ہوا کہ کہیں اس کے مال و دولت کا پتہ نہ لگا۔            (صحائف اشرفی  )
کرامت 9
حضور اعلی حضرت اشرفی میاں قدس سرہ سجادہ نشین کچھوچھہ شریف صحائف اشرفی میں نقل فرماتے ہیں کہ۔حضور محبوب یزدانی خطہ جونپور سے چل کر موضع سرس جو اسٹیشن شاہ گنج کے قریب ہے۔آئے اور وہاں ایک بزرگ شیخ نصیر الدین سرسی رہتے تھے۔صاحب کمالات عالی مقام تھے۔اس جوار کے آدمی آپ کے ساتھ اعتقاد رکھتے تھے۔انہوں نے ایک خانقاہ بھی بنائی تھی۔حضور محبوب یزدانی جب ان کی خانقاہ میں آٹھہرے کسی قدر حضرت کی خدمت گزاری میں کم توجہی کی جس سے خاطر مبارک میں ملال پیدا ہوا۔فرمایا کہ جس گاوں میں ایسے درویش رہتے ہیں آگ کیوں نہیں لگتی۔زبان مبارک سے یہ بات نکلنی تھی کہ گاوں میں آگ لگ گئی۔اور حضور محبوب یزدانی اس گاوں سے باہر چلےلے آئے۔تمام گاوں جل گیا۔شیخ سرسی حضرت کے پیچھے دوڑتے ہوئے ایک کوس تک گئے۔حضرت کے سامنے بہت عاجزی کی اور دوبارہ گاوں میں واپس لائے۔دو تین گھر جو جلنے سے بچ گئے تھے۔وہیں حضرت کو ٹھہرا یا۔اور کھانے کا سامان مہیا کیا۔تھوڑی دیر میں جب کھانا تیار ہوا اور حضرت کے سامنے دسترخوان بچھایا گیا۔حضرت کے چہرہ مبارک پر آثار خوشی ظاہر ہوئی۔شیخ سرسی نے بہت معذرت کی ۔
حضرت نے فرمایا کہ یہ امر اتفاقا حسب مرضئ خدا واقع ہوا۔اور جس مقام پر آگ لگی ہے وہاں پر کوئی آباد نہ ہو۔اس جگہ کو چھوڑ کر دوسرے مقام پر آباد ہوں۔
حضور اعلی حضرت اشرفی میاں فرماتے ہیں ۔فقیر اشرفی جب شاہ گنج میں حاجی الہی بخش رئیس کے مکان پر فروکش ہوا۔موضع سرس وہاں سے ایک میل کے فاصلہ پر تھا۔حضرت شیخ سرسی کے مزار پر فاتح پڑھنے گیا۔آپ کے مزار پر ایک جنگلی درخت جما ہے جس کا پھل نہایت شیریں ہوتا ہے۔اہل دیہات اس کو تبرکا کھاتے ہیں ۔
وہاں کے لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضور محبوب یزدانی کے رخصت ہونے کے بعد حضرت شیخ سرسی نے اپنے مٹی کے بدھنی (لوٹا ) کو سات ٹکڑے کرکے سات مقام پر ڈالا ۔اس وقت اسی سات مقام پر موضع مذکور کے سات پورے آباد ہیں ۔ (صحائف اشرفی  )

ولی اللہ                 میں             شان                جلال اللہ                          ہوتی           ہے
مگر بدمذہبوں کی عقل کب آگاہ ہوتی ہےمیں   

محمد عمر ارشدی اشرفی بلرامپوری خانقاہ ارشدیہ اشرفیہ جہانگیریہ گوا