Monday, 30 November 2015

اقوال زرین سلطان سید اشرف جہا نگیر سمنانی کچھوچھوی

ارشاد ات زرین
حضرت سلطان الاولیاء   درۃ تاج الاصفیاء عمدۃ الکاملین زبدۃ الواصلین، عین عیون محققین،  وارث علوم انبیاء و مرسلین تارک السلطنت غوث العالم محبوب یزدانی سلطان اوحدالدین قدوۃ الکبریٰ مخدوم سیداشرف  جہانیاں جہانگیر سمنانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:۔
B              ایمان و توحید کے بعد بندہ پر سب سے پہلے عقائد حقہ شریعہ کا جاننا فرض  ہے۔
B              حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے حسب و نسب کے علم حاصل کرنا  شریف ترین عمل ہے اور آپ کے اجداد میں سے چار جدوں کے نام یاد ہونا مسلمان ہونے کی شرط ہے۔
B               علم حاصل کرو  کہ  زاہد بے علم شیطان کا تابعدار ہوتاہے اور عابد بے فقہ کمہار کے گدھوں کی طرح۔
B              علم ایک چمکتا ہو اآفتاب ہے اور تمام ہنر اس کی شعائیں ہیں۔
B              خدا کا دوست جاہل نہیں ہوتا۔
B              عالم بے عمل ایساہے جیسے بے قلعی کا آئینہ ۔
B              عالم دین اورعالم دنیا میں فرق وہی ہے جو کھرے اورکھوٹے چاندی میں ہوتاہے۔
B              جاننا شریعت ہے ، جاننے کے مطابق عمل کرنا طریقت ہے اور دونوں کے مقصود ہوتو ان کا حاصل کرنا حقیقت ہے۔
B              جو شخص بے محل علمی گفتگو کرتا ہے تو اسکے کلام کے نور کا دو حصہ ضائع ہوجاتا ہے۔
B              اگر کوئی جان لے کہ اب اسکی زندگی میں صرف ایک ہفتہ باقی رہ گئے تو چاہیئے کہ علم فقہ میں مشغول ہوجائے کیونکہ علوم دین سے ایک مسئلہ جان لینا ہزار رکعت سے افضل ہے۔
B              کسی کو حقارت سے نہ دیکھو اس لئے کہ بہت سے خداکے دوست اس میں چھپے رہتے ہیں ۔
B              سلوک میں اگربارگاہ نبوی و سرکارمصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم  کی فرمانبرداری واطاعت کے راستے سے کچھ بھی انحراف ہو تو منزل مقصود تک پہونچنا ممکن نہیں ۔
B              بند وں کے دل میں اللہ کی محبت پیدا کرنا اور ان کے دلوں کو اللہ تعالیٰ کی دوستی میں مستغرق کرنا مشائخ  طریقت کا کام ہے۔
B               پیر وہ ہونا چاہیئے کہ طالبان طریقت و سلوک کی ایک جماعت نے اس کی تربیت کی پناہ میں اور احباب اس کی درگاہ حمایت میں اپنے مقصود کو پہونچی ہو۔
B              ولی وہ ہے جس کا دل حق سبحانہ وتعالیٰ سے انس رکھےاور غیرحق سے متواحش اور گریزاں ہو ۔
B              شرط ولی یہ ہے کہ  گناہوں سے محفوظ ہو جس طرح نبی کی شرط یہ ہے کہ معصوم ہواور جس کسی پر بھی ازراہ  شریعت اعتراض  ہو پس وہ مغرور اور فریب خوردہ ہے ولی نہیں ہے۔
B              ہر بزرگ کی کوئی بات یاد کرلو اگریہ نہ ہوسکے تو ان کے نام ہی یاد کرلو کہ اس سے نفع پاؤگے۔
B              اگر علم کا چراغ ولی کے دل میں نہ ہو تو اسے شر کی خبر نہیں ہوسکتی اور وہ صحرائے ظلمت اور دشت کدورت میں مارا مارا پھرتا رہےگا۔
B              صالحین کا ذکر اورعارفین کا تذکرہ ایک نور ہےجو ہدایت طلب کرنے والوں پر ضوء فگن رہتاہے۔
B              شیخ طبیب حاذق اور تجربہ کارحکیم کی طرح ہے جو ہر مریض کا علاج اور اس کی دوا اس کے مزاج کے مطابق تجویز کرتاہے۔
B              جس شخص کا قدم شریعت  میں جم جائے گا طریقت کا راستہ خودبخود کھل جائے گا اور جب  شریعت کے ساتھ طریقت حاصل ہوجائے گی تو حقیقت کی تجلی خود بخود رونما ہوجائے گی۔
B              صوفی وہ ہے جو صفات الہیہ سے سوائے صفت وجوب (وجب الوجود) اور قدم موصوف ہو۔
B              اگر کسی صوفی کو دیکھو اور وہ تمہاری نظر میں نہ جچے تو اس کو ذلیل نہ سمجھوکہ یہ محرومی اورحجاب کی دلیل ہے۔
B              حسن خلق اس بلند پایہ گروہ یعنی صوفیہ کی خاص خصلت ہے جو انہیں ہی زیب دیتی ہے کہ یہ حق کے زیور اور کلام کے لباس سےروشن ہوتےہیں تمام اقوال وافعال میں صوفی کی نظر چونکہ حق تعالیٰ پر ہوتی ہے۔ اس لئے لازم آتاہے کہ وہ تمام مخلوق سے خوش اخلاق کا برتاؤ کرے۔ اگر شریعت کےمطابق کسی محل پر سختی درکارہے تو سختی کرے ، لیکن باطن کے مطابق اسی وقت اللہ سےمغفرت طلب کرے۔
B              شیخ کے لئے ضروری ہے کہ وہ مرید کے احوال سے واقف ہو ، ترک دنیا اور تنہائی  کے علوم  کا عالم ہو  تاکہ اس کی خیر خواہی کرسکے  اور مرید کو راہ راست دکھا سکے۔ اس کے حال کے مناسب اس کو اس راہ کے خطرات اور فسادات سے آگاہ کرسکے ۔ اگر شیخ اس اوصاف مذکورہ سے متصف نہیں ہوگا تو اس کی پیروی کرنا کس طرح جائز ہوسکتاہے۔ اور ان سے کلاہ حاصل کرنا کس طرح روا ہوسکتا ہے۔
B              مرید کے لئے ایک شیخ کامل ضروری ہے جس کی اقتداء کی جائے  کیونکہ وہ رفیق سفر ہے اور جا ن لو کہ اس امر کے لئے کسوٹی اور معیار ہے اور وہ قرآن و حدیث و اجماع امت با ایمان  ہے تو جو معیار کے موافق ہوا اور کسوٹی سے کھرا اور آمیزش سے صاف نکلا تو وہ ٹھیک ہے اور جو اس کے خلاف ہوا وہ فاسد اور بے کار ہے۔
B              شیخ کو چاہئے کہ مرید کا بیکار اور غلط کاموں کا مواخدہ کرے۔ خواہ وہ کم ہویا ذیادہ۔ صغیر ہو یا کبیر ۔ اس سلسلہ میں مواخذ ہ کو نظر انداز نہ کرے اور تساہل کو روزانہ رکھے۔
B              پاک غذا ایک بیج کی طرح ہے جو معدہ کی زمین میں بویا جاتا ہےاگر وہ بیج پاک اورحلال غداکا ہے تواس سے اعمال صالحہ کا درخت پیدا ہوگا اور اگر مشتبہ روزی کا بیج بویا گیا  ہے تو اس خطرات فاسدہ اور عبادت میں کسائل پیدا ہوگی یعنی عبادت میں سستی اور دل میں وسوسے پیدا ہوں گے اور اگر حرام روزی  ہے تو معصیت  و نافرمانی کا درخت نشودنما   پائے گا۔
B              مرید کو چاہیئے کہ اس کا مقصود ومراد اپنے پیر کے سوا کوئی نہ ہو اور سارا مقصد اس کا ، ذاتِ شیخ کے سوا کچھ نہ ہو کیو نکہ شیخ کی صورت میں حق تعالیٰ کی تجلیاں ہےاور جس کو چاہے ہدایت دے اور جس کو چاہے گمراہ کردے۔یہ اللہ تعالی ٰ کی شان ہے  پیر بیچ میں سبب ہونے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
B              بادشاہوں اور امیروں سے درویشوں کو ضرور ملنا چاہیئے اور باحسن وجوہ اصلاح کرنا چاہیئے۔
B              جب کسی شہر میں پہونچوتو وہاں کے بزرگوں  کی زیارت کرو پھر وہاں کے  بزرگوں کی زیارت کے لئے جاؤ۔
B              کلمہ طیبہ پابندی سے پڑھنے کا نام اذکار ہے خدائے تعالیٰ  کے اذکار عشق الہی  کے میخانہ کی شراب ہے آب رداں اور کبھی نہ ختم ہونے والے چشمہ کا پانی ہے۔ جو بالکل پوشیدہ  طریقہ سے حلق اور ناطق کے ذہن میں پہونچتاہے۔
B              جو خلق میں مشغول رہا وہ خالق کا طالب نہیں بن سکتا۔
B              جوکوئی لاالہ الا اللہ کو زندہ یا مردہ کی نجات و  بخشش کے لئے  پڑھے تو اس کو ضرور نجات حاصل ہوگی۔
B              ایسے لوگوں کی صحبت سے پرہیز کریں جو  ہم خیال نہ ہوں اور خاص طور پر ایسے  لوگوں کی صحبت سے بچے جو نورایمان سے دور ہیں اور طبیعت  کی ظلمات میں پھنسے ہوئے ہیں۔
B              وجود کا آئینہ میں معائنہ کرنا اور چشم یقین سے دیکھنا  مشاہدہ ہے۔
B              خرقہ عاشقوں کی علامت اور فاسقوں کے لیے ایک ہیبت ہے۔
B              مشائخ سلاسل کا سلسلہ شجرہ مقصو د تک پہونچتاہے اور جس نے اس سلسلہ سے رابطہ پیدا  کر لیا  بہت سی غلامیوں سے آزاد ہوگیا۔
B              مشائخ کا دیدار ایک ایسی عبادت ہے کہ اگر وہ فوت ہوجائے تو اس عبادت کی  قضا اداکرنے کا وقت نہیں ہے۔
B              جہاں تک ممکن ہوسکے اپنے مرشد ، استاد  اور والدین کی جانب بغیر وضو نظر نہ کرے۔
B              لباس کی زینت نماز کے لئے مخصوص ہونا چاہیئے  لوگوں کے دکھاوے کے لئے نہیں ہونا چاہیے۔
B              مرنے والے زیارت کرنے والے کی آمد سےاور اس کی توجہ سے باخبر ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ عالم ارواح بہت ہی لطیف ہے۔
B              جب مشائخ کی زیارت کے لئے جائے تو  بغیر شیرینی ، پھول اور سبزہ کے نہ جائے۔
B              مختلف آوازوں کو سنکر فہم میں جو معانی پیدا ہوتے ہیں ان کے اثر سے صوفیہ کا وجد کر ناسماع ہے۔
B              جس مسئلہ میں حلت و حرمت مختلف فیہ ہواس میں دلیرانہ اور بے باکانہ  گفتگو نہیں کرنا چاہیئے بلکہ غور وتامل کے بعد اس سلسلے میں بات کرنا چاہیئے۔
B              ترک یہ ہے کہ نفس سے روگردانی کی جائے  اور بشریت کے میل کچیل سے قطع تعلق کیا جائے۔
B              ایمان ایسا آفتاب ہے جو قلب  انسانی کے مشرق سے شروع ہوتاہے اور اس کے نور سے شرک و طغیان کے ذرہ فنا ہوجاتے ہیں ۔
B              اصحاب تحیر وتفکر اس وجہ سے خاموش رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام رہتے ہیں اور جب پلک جھپکاتےہیں تو اگلا درجہ طلب کرتے ہیں ۔اخص الخواص  جب عالم ملکوت عبور کرلیتے ہیں  تو ان پر تحیر طاری ہوجاتا ہے اور اکثر و بیشتر تحیر عالم جبروت ولاہوت میں ہوتا ہے۔اس کی علامت خاموشی ہے۔
B              شریعت ان امور کا بجاآوری ہے جس کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ان باتوں سے رکنا ہے جن سے منع کیا گیا ہے۔
B              علم شریعت ہے اور اس علم کے مطابق عمل کرنا طریقت ہے اور حقیقت ان دونوں کےمقصود کاحصول ہے۔جو شخص تین رکھتا ہے اس کے پاس تین ہیں،جو دو رکھتا ہے اس کے پاس دو ہیں اور جوصرف  ایک رکھتاہے اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔
B              جو شخص طریقت میں شریعت کی پابندی نہیں کرتا وہ طریقت کی نعمت سے محروم رہتاہے۔
B              توبہ برے کاموں سے بچنے اور اچھے کاموں پر توجہ دینے کو کہتے ہیں ینز بشری کدورتوں اور بنیادی عادتوں سے بھی احترازکرنا ہے۔
B              توبہ کاحکم تمام لوگوں کے لئے ہےلوگ ہرگھڑی توبہ کے دامن سے لپٹے رہیں تاکہ وصول کے گریباں تک رسائی ہوسکے۔کافر اپنے کفر سے توبہ کریں ۔ گناہ گار گناہوں سے  تاکہ مخلص اور اطاعت گزاروں میں شامل کئے جائیں۔
B              توبہ اتنی پختہ کریں کہ پھر برے افعال میں مبتلانہ ہوں  بلکہ دل میں برے افعال کا خیال بھی نہ ہو۔
B              شریعت کی روسے ظاہری نماز کا تعلق اعضا سے ہے ، طریقت کی رو سےباطنی نماز کاتعلق دل کےتفکرسے ہےاور ازروئے حقیقت نمازِ روحانی  کا تعلق فیض الٰہی کے ساتھ استغراق سے ہے۔
B              خشوع اورخضوع کے بغیر نماز اس جسم کے مانند ہے جس میں روح نہ ہو۔
B              نماز کی راحت چھ چیزوں سے حاصل ہوتی ہے ۔ دل کی حضوری، معنی کی سمجھ، ماہیت کی تعظیم ، خوف، امید اورحیا۔
B              نماز ِعادت سے پناہ مانگنا چاہیئے  خیالا ت کے  انتشار اور نفسانی وسوسوں سے جو نماز کی حالت میں پیدا ہوتے ہیں  استغفار کرنا چاہیے۔
B              اگرچہ نماز اسلام کا محض ایک رکن نظر آتی ہے  لیکن تفصیل میں جائیں تو اسلام کے پانچوں ارکان اسی میں شامل ہیں ۔
B              روزہ رکھنے کا مقصد کم خوراکی ہے اگر صائم روزہ رکھے اور رات کو پیٹ کی زنبیل بھرے تو یہ بات باعث شرم ہے۔
B              حج دلوں کے کعبے کے طواف کا  قصد کرنا ہے اور جہاد نفس کے ساتھ جنگ کرنا ہے۔
B              ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے کہ پتھر اورمٹی سے بنے ہوئے کعبے کو ایک نظر دیکھ کر شرف پالیتےہیں اور واپس چلے جاتےہیں اور قبلۂ دل پر قطعاً نگاہ نہیں ڈالتے  جس پر اللہ تعالیٰ کے ہمہ وقت  نظر رہتی ہے۔
B              امت کانام امت اس لئے ہوا کہ وہ بہر طور شارع کے حکم پر مجتمع ہوتی ہے۔
B              اعلیٰ ترین دولت ونعمت جس سے انسان سرفراز فرمایا گیا ہے وہ اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے۔ یہ جماعت میدان الٰہی کے سوار اور مکان نا متناہی  کی محافظ ہے اس لیے اس نعمت سے بہر ہ مند ہوئی۔
B              معنوی انسان وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے صفات  و تعریفات سے موصوف  ومعروف ہو  اور سلوک کے حقائق نیز درویش کے رموز کے شرف سے مشرف کیاگیا ہو۔  ظاہری انسان وہ ہے جس کی زندگی مذکورہ اوصاف و کمالات کے برعکس ہو اور مجازی اسلام و ایمان سے بھی بہرور نہ ہو۔
B              مسافرت میں اگرچہ بہت سی تکالیف اور سختیاں برداست کرنی پڑتی ہیں اور لوگ اپنی اصلی وطن سے دور ہوجاتے ہیں  لیکن راحت اور خیریت سے قریب رہتےہیں  اور بہت سے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔
B              جو شخص کامل مرد نہ ہو اور اپنی طبیعت کے عیبوں سے واقف نہ ہو وہ سفر اختیار نہ کرے اور تنہا رہے۔
B              سفر ہمیشہ جمعرات یا ہفتے کو کرنا چاہیئے  حضور صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات اور ہفتے کو سفر پر تشریف لے جاتے تھے اور دعا بھی فرماتے تھے۔ خدایا میری امت کو ان دونوں دنوں کی صبح میں برکت عطافرما، لہذا  جمعرات اور ہفتہ  کی صبح مبارک ہے۔
B              میں نے موجودات اور مخلوقات سے متعلق جو عجیب و غریب باتیں دیکھی ہیں  اگر انہیں بیان کروں تو بعض لوگ یقین نہ کریں ۔
B              جس نے دیر سے (شدید بھوک کے وقت ) کھایا وہ (صحیح) کھانے والاہے اور جس شخص نے  اس طریقے پر نہ کھایا  وہ بوجھ اٹھانے والا ہے۔
B              کھانا عورت ہے اسے چھپاؤ  یعنی اس کے عیب ظاہر نہ کرو۔
B              اگر کھانے کے دوران مشائخ کے اقوال  اور ان کے حالات  جو بھی مجلس کی کیفیت کے مطابق ہو بیان کئے جائیں تو بہتر ہے۔ یہ عمل رافضیوں کے برعکس ہے۔
B              روٹی کی عزت کرنی چاہیئے۔ روٹی کی عزت یہ ہے کہ اس پر رکابی  اور نمک دان نہ ہو  اور نہ نمک دان پر روٹی یہ ایک درجے میں روٹی کو بےحیثیت  جاننا ہے ۔ اور ہمیشہ زمین پر کھانا چاہیئے۔
B              کھانا بے پرواہی اور بے دلی سے نہ کھائے  بلکہ حضور دل کے ساتھ کھانا کھا نا چاہیئے۔
B              کھانا تین طرح کا ہوتا ہے : فرض، سنت، مباح  کھانے کی وہ مقدار جو انسان کو ہلاکت سے بچائے فرض  ہےاور جتنی غذا عبادت یا پیشہ کے لئے ضروری ہو سنت ہے اور پیٹ بھر کھانا مباح ہے لیکن سیری سے زیادہ کھانا حرام ہے ۔
B              رات کا کھانا کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے اس لئے کہ اس ضعف اور بڑھاپا پیدا ہوتا ہے۔
B              اہل ریاضت ہمیشہ نفس کشی نہیں کرتے  بلکہ کبھی کبھی اس کی مراد بھی پوری کردیتےہیں ۔ یہ سختی مبتدیوں کے لئے ہے۔ کامل حضرات کےلئے لذیذ چیزوں کا کھانا  پینا مانع ریاضت نہیں ہے۔
B              مہمان کے قدموں کی تشریف کے سبب  میزبان کے گھر میں بے حد برکت ہوتی ہے۔ امید ہے کہ میزبان جس شئے سے مہمان کی ضیافت کرتاہے اللہ تعالیٰ اسی روز اس کا نعم البدل عطا فرماتا ہے۔
B              جب مہمان  گھر آئے تو سنت یہ ہےکہ  گھر میں جو کچھ موجود ہو اس کے سامنے رکھے۔زیادہ تکلف کا قصد نہ کرے کہ مشکلات پیدا ہوتی ہے۔البتہ اگر قدرت ہے تو  مناسب حال تکلف کیا جاسکتاہے۔
B              اگر کوئی شخص کسی سے ملاقات کرنے آئے تو اس کے پاس کھانے کے جو چیز ہو پیش کردے  خواہ تھوڑے سے چنے ہوں اگر کچھ نہ ہوں تو ایک پیالہ پانی یا شربت پیش کرے۔
B              جب دسترخوان پر روٹی رکھیں  تو اسی روٹی سے کھانے کی ابتدا کریں اور سالن کاانتظار نہ کریں۔ سالن کا انتظار روٹی کی توہین ہے اور حد درجہ ممنوع ہے۔
B              عبادت کے دس حصے ہیں اس  میں نو حصے خلق سے دوری اور ایک حصہ خاموش رہناہے۔
B              گروہ صوفیہ اور زمرۂ علیہ کے نزدیک سب سے بہترین نوافل  اور خوب ترین شغل  تہجد کی نمازہے۔ تمام مشائخ  اور علماء نے اس نیک وقت اور پاکیزہ ساعت کے فوائد حاصل کئے ہیں ۔ اسے سعادت دارین اور عبادت کونین کا سبب جانا ہے۔
B              تہجد کی نماز اللہ تعالیٰ کی محبت کی کنجی ہے یہ صدیقوں کا نورنظر ہے یہ فرائض میں کمی ہوجانے کی تلافی کرتی ہےاور یہ صالحین کے آداب میں سے ہے۔
B              رات کے پچھلے پہر جاگنے کا اس قدر فائدہ ہےکہ اگر کوئی شخص گناہوں میں مشغول ہو تب بھی فیض سے محروم نہ رہے گا۔
B              مجھے جو دینی سعادت اور یقینی افادات حاصل ہوئی ہےتمام کی تمام پچھلے پہر جاگنے کی برکت سے عطاہوئی ہے۔
B              زہد خالص نفس سے علیحدہ ہوجانا ہے۔
B              توکل (درحقیقت اپنے ) معاملہ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیناہے۔ (اللہ فرماتاہے)  جو اللہ پر بھروسہ کرے اللہ کے لئے کافی ہے۔
B              درحقیقت متوکل وہ شخص ہوتا  ہے  جس کی نظر اسباب پر نہ ہو بلکہ اسباب پیدا کرنے والے پر ہو۔
B              متوکل کی تین علامتیں ہیں ۔ اول سوال نہ کرے، دوسرے فتوح آئےتو واپس نہ کرے اور تیسرے جو آئے اس کو جمع نہ کرے۔
B              اکثر مشائخ نے ہمیشہ دست کاری کے ذریعے روزی کمائی ہے اور دل و  جان سے اس پر عمل کیا ہے۔
B              وہ عزیز بند ہ جس سے مسبب  (اللہ تعالیٰ)  اسباب لیتاہے  وہ حق تعالیٰ کے رضا کا منتظر رہتاہے اور ہر صورت حال میں کسی قسم کی تدبیر یں نہیں کرتا کہ تدبیر میں آفت اور سپردگی میں سلامتی ہے۔
B              شیطان ہر شکل کے مشابہ ہوکر سامنے آسکتے ہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں نہیں۔
B              کنجوسی اپنے ذمے حق کو ادا کرنے سے رک جانا ہےاور سخاوت اللہ تعالیٰ کے راہ میں واجب کے ساتھ نفس کو فنا کرنا ہے۔
B              اگر ایثار کی تفصیل میں درختوں کے پتے ایک ضخیم کتاب اور سمندر کی پانی روشنائی بن جائیں تو ایک حرف سے زیادہ نہیں لکھا جاسکتا۔ خدانہ کرے کہ کوئی بندہ صفت بخل سے موصوف ہو۔
B              اللہ کی پناہ !اللہ کی پناہ ! اگرمیں اپنے احباب واصحاب کے بارے میں  سنوں کہ ان اوصاف ( بخل/ کنجوسی)  کا ایک شمہ اُن میں ہے تو اپنی بیعت اورخلافت کے بندھن سے آزاد کردوں گا۔
B              خدا ہر مسلمان کو بخل سے بچائے اس لئے کہ بخل کافروں کی خصوصیت ہے۔
B              بری رسم فی الحقیقت شریعت  کے اصولوں کے مطابق نہیں ہوتی اس لئے ناپسندیدہ اور نامقبول ہوتی ہے۔
B              واعظوں کی باتیں سننا اور نصیحت کرنے والوں کی نصیحتوں کا علم حاصل کرنا خوشگوار نعمت ہےاوریہ نعمت کسی کسی کو حاصل ہوتی ہے۔
B              جو شخص ریاضت و مجاہدہ نہ کرے گا اس کو دولت مشاہدہ نہیں حاصل ہوسکتی۔
B              غصہ  بدترین خصلت و علامت  ہے جس  سے وصول کی  نعمت میں  زوال ہونے لگتاہے اور حصول میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ہرحال میں اس عادت سے گریز کرنا چاہیئے۔ اللہ کی پناہ! اگر کسی سے یہ فعل کسی بھی نوعیت سے سرزد ہوجائےتو اسے فوراً استغفار کرنا چاہیئے۔
B              مخلوق میں انسانوں  کے تعلق سے پسندیدہ اور بہترین صفت شفقت کرنا ہے۔  جسے یہ نعمت کلی طور پر حاصل ہوجائے اسے ثمرۂ حقیقت بھی بخشا جاتاہے۔
B              شریعت کے معاملات اور طریقت کے کام چونکہ شریعت کے اصول پر مبنی ہے ۔ اس لئے انہیں ظاہر شرع کے مطابق انجام دیا جائے۔
B              مومن وہ ہے جو ہر حال میں مبتداپر یقین کرنے والا ہو۔
B              امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے لائق وہ شخص ہوتا ہے جو شریعت کے تمام باریکیوں کا عالم ہو اور ان تمام باریکیوں پر عمل کرتا ہوکہ وہ اس تنبیہ کے تحت نہ آسکے لم تقولون مالاتفعلون (کیوں کہتے ہو وہ بات جو کرتے نہیں)۔
B              امربالمعروف اور وعظ کے سلسلے میں واعظ کو خاص طور پر نرم مزاج اور نفع رساں ہونا چاہیے۔
B              بہت سے مسائل ہیں جنہیں علماء پوشیدہ رکھتے ہیں  انہی بیان نہ کرنا ہی فرض ہے اسی بنا پر فقہ کی کتابوں میں تحریر ہے  یہ مسئلہ جاننے کے لائق ہے اور فتویٰ دینے کے لائق نہیں ہے۔
B              امام بنی کا نائب ہوتا ہے ۔ ولی راستے کا مددگار اور رسول اللہ ﷺ کے بارگاہ سے متصل ہوتاہےاور اپنے قول و فعل میں نبی کا تابعدارہوتا ہے۔
B              نفس تاریک غبار ہے جو دل سے اٹھتا ہے، روح نورانی جوہر ہے اور جسم فانی تاریکی ہے۔
B              قبض ارواح کی تکلیف لوگوں کے درجات کی نسبت سے ہوتی ہےبعض بزرگوں کی روح اتنی آسانی سے ہوتی ہےجیسے شربت پیتے  ہیں یہ نصیب چند اہل نعمت کو حاصل ہوتاہے۔
B              

مسلمانوں میں جس کسی کو شکستگی  پیش آئے اور اس سے ایمان میں سستی پیدا ہو تو ہزگز مایوس نہ ہو کیونکہ اس  (صبر و آزما ) واقعے میں فتح و نصر ت  کی  بشارت مضمر ہوتی ہے۔

Friday, 6 November 2015

مخدوم سید اشرف جهانگیر سمنانی

کرامات سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی

محبوب یزدانی غوث العالم
 تارک السلطنت مخدوم سلطان اوحدالدین
 سید اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ النورانی
کچھوچھہ شریف یوپی انڈیا

کرامت قسط 1:
صحائف اشرفی میں حضور شیخ المشائخ اعلی حضرت حضرت سید علی حسین اشرف اشرفی میاں قدس سرہ سجادہ نشین کچھوچھہ شریف لکھتے ہیں کہ سنوات الاتقیاء جو تصنیف شیخ ابراہیم سرہندی کی ہے اس کو حضرت مولانا سید اسماعیل حسن صاحب قادری مارہروی قدس سرہ نے مجھے(اعلی حضرت اشرفی میاں کو  )دکھلایا ۔اس میں لکھا ہے کہ ایک دن قاضی شہاب الدین ملک العلماء خدمت عالی حضرت محبوب یزدانی میں اس خیال سے حاضر ہوئے کہ حضور محبوب یزدانی مجھ کو میرے لائق خطاب عطا فرمائیں ۔اور وہ چیز کھلائیں۔جو میں نے کبھی نہ کھائی ہو۔جیسے ہی خیمے مبارک کے قریب آئے طناب خیمہ سے الجھ کر قاضی صاحب کی پگڑی گر پڑی۔
حضرت محبوب یزدانی نے فرمایا ۔ملک العلماء دستار سرپر رکھو ۔جب خدمت عالی میں حاضر ہوئے تو حضرت نے باورچی سے فرمایا کہ طعام ماحضر قاضی صاحب کے لئے لاو۔باورچی نے ایک پیالہ کھیر کا قاضی صاحب کے سامنے پیش کیا۔قاضی صاحب دل میں سوچنے لگے کہ کھیر کوئی نایاب کھانا نہیں ۔میں نے تو بارہا کھیر کھائی ہے۔
حضور محبوب یزدانی نے فرمایا کہ فقیر کے ساتھ گائے بھینس نہیں رہتی ہیں ۔جہاں فقیر جاتا ہے جنگل کے ہرن ۔نیل گاو آکر دودھ دے جاتے ہیں ۔بھلا ایسی کھیر آپ کو کب میسر ہوئی ہوگی۔یہ سن کر قاضی صاحب دل ہی دل میں پشیمان ہوئے ۔

کرامت قسط 2
سرکار اعلی حضرت اشرفی میاں سجادہ نشین کچھوچھہ شریف صحائف اشرفی میں لطائف اشرفی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ حضور محبوب یزدانی مقام پنڈوہ شریف سے جب رخصت ہوکر چلے اور خطہ جونپور میں قیام فرمایا ۔حضرت قاضی شہاب الدین ملک العلماء دولت آبادی قدس سرہ خدمت عالی میں تین باتوں کا خیال کرکے حاضر ہوئے۔ایک تو یہ کہ اپنا جوٹھا عنایت فرمائیں ۔دوسرے ایسا تحفہ دیں جو کہ نادرالعصر ہو۔تیسری وہ بات کریں کہ آپ کی طرف سے گمان شیعت کا میرے دل سے اٹھ جائے۔
جس وقت حاضر خدمت ہوئے حضور محبوب یزدانی وضو فرمارہے تھے۔جیسا کہ طریقہ اہل سنت کا ہوتا ہے۔جب مبارک دھوئے تو قاضی صاحب کی طرف ہنس کر فرمایا ۔
ظن المؤمنين خيرا .مسلمانوں کی طرف نیک گمان کرنا چاہئے ۔
ہندوستان کے آدمی عجیب قسم کے شبہ کرنے والے ہوتے ہیں ۔بقیہ وضو کا پانی اول حضرت نے خود پیا ۔تھوڑا سا بچا ہوا پانی قاضی صاحب کو عنایت فرمایا کہ پی جاواس میں آب زمزم ہے۔
جب حضرت نے رخصت کیا تو کتاب ہدایہ جو ولایت سے تصحیح کرکے ہمراہ لائے تھے۔اور اس پر حاشیہ قلم مبارک مولانا برہان الدین مرغینانی ہروی قدس سرہ کا تھا۔اور بعض حاشیہ حضرت محبوب یزدانی نے اپنی طرف سے اس پر لکھا تھا ۔قاضی صاحب کو عنایت فرمایا ۔اور فرمایا کہ اس راہ کا علم مشکل ہے۔کم سے برادر شہاب الدین کے علم کے برابا ہونا چاہیے ۔
آئینہ          ہوتا          ہے       اہل               دل            کا                     دل
کشف ہو تجھ پر کسی کامل سے مل

 کرامت قسط 3
صاحب صحائف اشرفی حضور اشرفی میاں قدس سرہ لکھتے ہیں ۔کہ جب حضرت محبوب یزدانی کے پیرومرشد خواجئہ خواجگان حضرت مخدوم علاء الحق گنج نبات پنڈوی بنگالی قدس سرہ نے فرمایا کہ فرزند اشرف تم کو معلوم ہے کہ تمہارے قبر کی جگہ کہاں ہے۔تم ولایت جونپور کی طرف جاو وہاں ہی اسی جوار میں تمہارا مقام اور جائے قبر ہے۔
حضور محبوب یزدانی نے عرض کیا کہ آپ مجھ کو خطئہ جونپور کی طرف بھیجتے ہیں اور مجھ کو اپنے کشف سے معلوم ہوا ہے کہ وہاں ایک شیر رہتا ہے۔
آپ کے پیرومرشد نے فرمایا کہ کچھ اندیشہ کی بات نہیں ۔وہاں ایک شیر بچہ تم کو ملے گا وہی اس شیر کے لئے کافی ہے۔چنانچہ جب حضرت محبوب یزدانی نے مقام پنڈوہ شریف خانقاہ سے رخصت ہوکر مع حشم و خدم شاہانہ قصبہ ظفر آباد متصل شہر جونپور میں نزول فرمایا ۔اور مسجد ظفر خاں میں اترے۔اسباب سفر وہاں ہی رکھا گیا۔حضرت کے ہمراہ اونٹ گھوڑے خچر جوتھے ۔ان کو قلندروں نے مسجد کے صحن کے اندر باندھنا شروع کیا۔اس خبر کو سن کر چند علماء اور طلباء بغرض استفسار آپ کی خدمت عالی میں حاضر ہوئے۔چاہتے تھے کہ کچھ عرض کریں اسی اثناء میں ایک گھوڑے نے گردن سے اشارہ کیا۔حضور محبوب یزدانی غوث العالم  نے فرمایا یہ گھوڑا لید کرے گا۔اشارہ کرتا ہے اس کو مسجد کے باہر لے جاو۔پھر ایک اونٹ نے اشارہ کیا ۔فرمایا کہ یہ پیشاب کرے گا۔اس کو بھی باہر لے جاو۔غرض کہ اسی طرح چند جانوروں نے اشارے کئے۔
حضور محبوب یزدانی نے ان لوگوں کی طرف جو حاضر ہوئے تھے متوجہ ہوکر فرمایا یہ جانور پاک ہیں ۔صحن مسجد میں ان کا لانا ممنوع نہیں ۔چونکہ ہمارے ساتھ رہنے والے جانور باادب ہیں اپنی حوائج سے خبر کردیتے ہیں ۔تو ایسے جانوروں کا مسجد میں لانا کیا قباحت ہے۔ہاں مقتضائے ادب یہ ہے کہ یہ جانور مسجد میں نہ لائے جائیں ۔
معترضین نادم اور پشیمان ہوکر چلے گئے۔

 کرامت قسط 4
سرکار اعلی حضرت اشرفی میاں لکھتے ہیں مسجد ظفر خاں شہر جونپور میں حضور محبوب یزدانی مع خلفاء و مریدین کلمات سر و معرفت الہی بیان فرمارہے تھے۔کہ کچھ لوگ ایک زندہ آدمی کو ایک چارپائی پر لٹائے ہوئے اوپر سے چادر اوڑھاکر لائے اور روروکر عرض کرنے لگے۔کہ حضرت اس کی نماز جنازہ پڑھادیجئے۔
یہ نقال تھے جن کو ہندی بھونڈا کہتے ہیں ۔اس غرض سے زندہ آدمی کو مردہ بناکر لائے تھے کہ جب حضرت اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں گے تو آدمی چارپائی سے اٹھ کر بھاگے گا جس سے ہم مذاق اڑائیں گے۔
حضرت محبوب یزدانی نے ایک خلیفہ سے فرمایا کہ ادائے نماز جنازہ فرض کفایہ ہے ۔تم جاکر اس کی نماز جنازہ پڑھا دو سب کو جانے کی ضرورت نہیں ۔
ایک نقال نے میت کا وارث بن کر نماز جنازہ پڑھانے کی اجازت دی۔
جب حضرت کے خلیفہ نے نماز جنازہ کے لئے تکبیر اولی اللہ اکبر کہکر کان تک ہاتھ اٹھائے۔ادھر اس کی روح پرواز کر گئی۔
نماز جنازہ کے بعد حضرت کے خلیفہ نے فرمایا کہ میت کو اٹھاو اور لے جاکر دفن کردو۔
وہ نقال تو اس کے آٹھ کر  بھاگنے کے منتظر تھے۔مگر اس کی روح پرواز کرچکی تھی۔سب لوگ اپنی اس حماقت پر پشیمان ہوئے۔
حضور محبوب یزدانی غوث العالم نے فرمایا کہ اب کچھ نہیں ہوگا لے جاو اس کو سپرد خاک کردو ۔(صحائف اشرفی حصہ اول  )

 کرامت قسط 5
صاحب صحائف اشرفی سرکار اعلی حضرت اشرفی میاں سجادہ نشین کچھوچھہ شریف صحائف اشرفی میں لطائف اشرفی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ حضرت مولانا شیخ محمد کبیر عباسی سرور پوری جو ایک خواب کی بنا پر سرور پور سے ظفر آباد میں حضرت حاجی چراغ ہند کی خدمت میں آئے۔خواب یہ تھا کہ جس کا سبب یہ پیدا ہوا۔یعنی جب حضرت مولانا محمد کبیر تحصیل علوم سے فارغ ہوئے آپ کے دل میں شوق پیدا ہوا کہ کسی مرد کامل اور درویش صاحب دل سے بیعت حاصل کرکے تکمیل سلوک حاصل کریں ۔شب کو یہ خواب دیکھا کہ ایک صاحب نورانی صورت ،میانہ قد، ریش مبارک کے بال سرخ،تشریف لائے ہیں اور مجھ کو بیعت کیا ہے۔شربت پلایا اور روٹی بھی کھلائی ۔جب خواب سے بیدار ہوئے ۔شوق دل طلب سلوک میں حد سے زیادہ بڑھا۔دل میں سوچنے لگے کہ اس دیار میں صاحب ولایت حضرت حاجی چراغ ہند ہیں ۔غالبا خواب میں اشارہ انہیں کی طرف سے ہوا ہوگا۔اسی خیال سے رواں دواں ظفر آباد پہونچے ۔آپ کے ہمراہ شاگردوں کی بھی ایک جماعت تھی اور وہ سب آپکے ساتھ بیعت کرنا چاہتے تھے۔جب حضرت حاجی چراغ ہند کی صورت دیکھی تو جو شکل خواب میں نظر آئی تھی وہ نہ پائی۔حضرت شیخ کبیر کا دل چراغ ہند سے بیعت کرنے پر راضی نہ ہوا۔مگر چندروز وہاں ٹھہرے ۔اسی اثناء میں نسیم ولایت جہانگیری عالم میں چلنے لگی اور تجلیات خورشید ہدایت چار سمت میں پھیل گئی ۔
حضور محبوب یزدانی مسجد ظفر خاں میں رونق افروز تھے۔اور فرماتے تھے کہ میرے دماغ میں ایک دوست کی خوشبو آتی ہے۔اور تعجب ہے کہ وہ چلا کیوں نہیں آتا۔جب حضرت کی شہرت عام طور سے ادنی واعلی کو پہونچی۔تو حضرت شیخ کبیر کو بھی اشتیاق قدمبوسی ہوا۔کہ شرف دیدار حاصل کروں ۔
حضور محبوب یزدانی بعد ادائے وظائف صبح اشراق کی نماز پڑھ کر مجمع یاراں میں بیٹھے ہوئے تھے۔کہ حضرت شیخ کبیر حاضر ہوئے۔دور سے جیسے ہی نظر پڑی ۔حضور محبوب یزدانی نے فرمایا کہ وہ یار کہ جس کو میں یاد کررہا تھا۔آگیا ۔شیخ کبیر کے آنے سے پہلے ہی خادم کو روٹی اور شربت تیار کرنے کا حکم دے چکے تھے۔جب شیخ کبیر نے دور سے جمال مبارک دیکھا جو صورت خواب میں دیکھی تھی وہی نظر آئی ۔آیتہ كريمه. انى وجهت وجهى للذى فطرالسموات والأرض؟پڑھتے ہوئے سر قدم مبارک پر رکھ دیا۔
اور شرف بیعت سے مشرف ہوئے ۔حضور محبوب یزدانی نے روٹی اور شربت اپنے دست مبارک سے کھلایا پلایا ۔بیعت کا شرف حاصل کرنے کے بعد حضرت کے اصحاب سے مصافحہ کیا اور سب نے مبارکباد دی۔
حضرت شیخ کبیر کے مرید ہونے کی خبر جب عام طور سے مشہور ہوئی۔حضرت حاجی چراغ ہند نے بھی ان کے مرید ہونے کا قصہ سنا یہ بات آپ کے مزاج کے موافق نہ ہوئی۔کہ ایک آدمی کل میرے پاس مرید ہونے کے لئے آیا اور جاکر مرید ہوگیا ۔اس لئے ہر چند کہ آپ کے مناسب حال نہ تھا۔مگر انسانی تقاضا کے تحت مزاج عالی میں تعصب پیدا ہوا۔اور تجلی اسم جلال شیخ کے سر میں متجلی ہوئی۔فرمایا کہ کبیر جوان مرجائے گا۔کہ یہاں سے جاکر وہاں مرید ہوگیا۔
چونکہ حضرت شیخ کبیر مخدوم سمنانی محبوب یزدانی کے فیض نظر کیمیا اثر سے کامل ہوچکے تھے۔حضرت حاجی چراغ ہند کا کہنا آپ پر ظاہر ہوگیا۔اور حضور محبوب یزدانی بھی اس حال سے متاثر ہوئے۔فرمایا کہ اے فرزند کبیر تم غم نہ کھاو۔کہ کبیر تو بوڑھا ہوگا۔لیکن جنہوں نے تم کو بدعا دی ہے تم بھی ان کے بارے میں کچھ کہو ۔جو تم کہوگے وہی ہوگا۔
حضرت شیخ کبیر نے کمال عاجزی سے عرض کیا۔کہ اب میں ان کو کیا کہوں جو کچھ کہ ان کی طرف سے صادر ہوا ہے انہی کی طرف لوٹ جائے۔
حضور محبوب یزدانی نے جب یہ معائنہ کیا تو فرمایا کہ درویشوں سے یہ بات آسان ہے۔مشیئت الہی یہی تھی۔دونوں بزرگوں کی بات اپنی اپنی جگہ پر رہی۔حضرت شیخ کبیر پچیس برس کی عمر میں ایسے بوڑھے ہوگئے کہ جیسے سو سال کا بوڑھا ہوتا ہے۔اور حضرت شیخ حاجی چراغ ہند کا شمع ہدایت شیخ کبیر کے انتقال سے پانچ سال قبل گل ہوگیا۔
اس مقام پر یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ ایک ولی کی زبان سے جو کچھ نکل جائے دوسرا ولی اس کو ٹال سکتا ہے ۔مگر حالت مشائخ دیکھنے سے یہ بات ثابت ہوئی کی سوائے غوث کے دوسرا ولی کسی ولی کی زبان کو ٹال نہیں سکتا۔
چونکہ حضور غوث العالم محبوب یزدانی اولیائے روئے زمین کے سردار تھے۔اس لئے آپ کےفرمانے سے حضرت کبیر پچیس برس کی عمر میں بوڑھے ہوگئے ۔اب اگر جوان ہوتے تو اسی وقت انتقال کر جاتے اسی لئے آپ کی حیات میں اسقدر خدانے برکت دی کہ حضرت چراغ ہند ظفر آبادی وصال کے بعد پانچ برس اور زندہ رہے۔
(صحائف اشرفی ۔لطائف اشرفی  )

 کرامت قسط6
ایک دن حضرت محبوب یزدانی مسجد ظفر خاں میں رونق افروز تھے۔اصحاب بھی ساتھ تھے۔ایک بار حاضرین کو سخت گرمی محسوس ہوئی کہ جیسے مسجدمیں آگے برس رہی ہو۔ایک دم سب نے سکوت کیا آخر تاب نہ لاسکے ۔سب نے باری باری مسجد سے باہر نکلنا شروع کیا۔سامنے کوئی باقی نہ رہا۔حضور محبوب یزدانی نے تبسم فرمایا ۔اور فرمایا کہ یہ آتش چراغ سے ہے اس کا بجھا دینا آسان ہے۔تھوڑی ہوا میں سرد ہوجاتا ہے ۔ایک خادم سے فرمایا کہ پانی کا لوٹا لاو۔کہ تم لوگوں کی تکلیف جاتی رہے۔بموجب فرمان ،خادم نے زمین پر پانی گرایا ۔حضرت حاجی چراغ ہند پانی میں غرق ہونے لگے۔اپنے پیر کو یاد کیا ۔اور انہوں نے اپنے پیر کو۔درجہ بدرجہ یہاں تک نوبت پہونچی کہ روحانیت پاک حضور پرنور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمان جاری ہوا کہ۔تم کو مناسب نہ تھا کہ مہمان کے ساتھ یہ ادائے مخالفت کرو۔اگر کچھ نہ تھا تو اتنا تو سمجھتے کہ میرا فرزند تھا۔اس کی رعایت تم کو کرنی چاہئے تھی۔اب اٹھو اور جاو اور ان سے معافی طلب کرو۔
حضرت حاجی چراغ ہند ادھر اپنے گھر سے نکلے ادھر حضور محبوب یزدانی غوث العالم کے پاس تمام اکابرین کی روحانیاں تشریف لائیں ۔آپ نے فرمایا کہ میرا خیال ان کی ولایت میں قیام کرنے کا نہیں ہے ۔تمام روحانیہ اکابرین سے آپ نے معذرت کی۔اور یہ فرمایا کہ درمیان خاندان چشت اور سہرورد جہاں کہ ہیں ۔ایک حد مقرر کی جاتی ہے۔بس اب درمیان جانبین دریائے گومتی حد فاضل قرار دی جاتی ہے۔کہ کوئی اپنی حد سے متجاوز نہ ہو۔
حضرت محبوب یزدانی مسجد سے نکل کر حضرت حاجی چراغ ہند کے پاس جانا چاہتے تھے ادھر وہ تشریف لارہے تھے۔راستے میں دونوں کی ملاقات ہوئی مصافحہ اور معانقہ ہوا۔
پھر حضرت حاجی چراغ ہند نے حضور محبوب یزدانی کی دعوت کی اور انہیں اپنے گھر لے گئے۔

 کرامت 7
حضور محبوب یزدانی ایک دن قصبہ چاندی پور بڈہڑ میں بغرض ادائے نماز جمعہ تشریف لے گئے۔اس قصبہ میں ایک بزرگ شیخ زاہد نام عابدانہ اور زاہدانہ زندگی بسر کرتے تھے۔اور ان کی یہ کرامت نہایت مشہور تھی کہ اکثر رات کو حجرے سے باہر نکلنا جاتے ہیں ۔جب لوگ آپ کو تلاش کرتے تو آپ کو دریائے سرجو کے پانی پر مصلی بچھائے ہوئے نماز پڑھتے دیکھتے ہیں ۔اسی کرامت کی شہرت سے جوارودیار کے آدمی ازحد ان کے معتقد تھے۔
حضور محبوب یزدانی بھی شیخ زاہد کی ملاقات کے لئے تشریف گئے۔دیکھا کہ آپ دریا کے درمیان مصلی بچھائے نماز پڑھ رہے ہیں ۔حضرت محبوب یزدانی بھی دریا کے اوپر پیر رکھتے ہوئے۔شیخ زاہد کے مصلی کے پاس پہونچے اور بمقتضاء شفقت بزرگانہ ان کی پیٹھ پر دست شفقت پھرانے لگے ۔اور فرمایا کہ تجھ پر خدا تعالی کی رحمت ہو کہ عرفان اور آراستگی تم نے اس قدر بہم پہونچائی جیسا کہ بزرگوں کا ددستور ہوتا ہے۔
حضرت شیخ زاہد بھی اپنی پیری اور زہد پر نازاں تھے۔وہ حضرت محبوب یزدانی کی پشت مبارک پر ہاتھ پھرانے لگے اور دعا کے کلمات کہنے لگے۔
حضور محبوب یزدانی کو ان کی یہ حرکت ناپسند ہوئی۔فرمایا کہ ہندوستان کے آدمی عجیب گستاخ ہوتے ہیں ۔تھوڑی کرامت میں مغرور ہوجاتے ہیں ۔ایسے لوگ چند روز میں گمنام ہوجاتے ہیں ۔
تھوڑے دن میں زاہد غائب ہوگیا ۔کسی نے نہ جانا کہ کیا ہوا۔کہاں گیا۔ان کی قبر کا بھی نشان نہ رہا۔
زبان مبارک سے اس وقت حضرت نے یہ بھی فرمایا تھا کہ تیری قبر گدھوں کی چراگاہ میں ہوگی۔سناگیا کہ اکثر دھوبیوں کے گدھے جب گم ہوجاتے ہیں تو دھوبی اس طرف تلاش کو نکلتے ہیں مدھر زاہد کی قبر بے نشان تھی ۔اور یہ بات بھی زبان مبارک سے نکلی کہ یہ قصبہ کبھی آباد ہوگا اور کبھی ویران ہوجائے گا۔یہ بات بھی دیکھی گئی۔
(صحائف اشرفی ۔لطائف اشرفی  )

 کرامت 8
قصبہ نظام آباد کے پاس ایک گاوں ہے۔جس کا نام دو بتیہا ہے۔اس میں ہندو اور مسلمان دونوں آباد تھے۔اور اتفاقا حضور محبوب یزدانی اس گاوں میں تشریف لے گئے ۔خود مسلمانوں کی مسجد میں اترے اور ہمراہیوں کے واسطے خیمے نصب ہوئے۔گاوں چھوٹا تھا۔اور بازار اس میں نہیں تھا۔وہاں کے مسلمانوں نے کم ہمتی کی حضرت کی دعوت کا کچھ سامان نہ کیا۔حضرت کے ہمراہی رات کو بھوکے سوئے رہے۔جب صبح ہوئی دوسرے فرقہ ہندو میں سے جو غریب تھا اس شخص کو معلوم ہوا کہ رات کو فقرا نے فاقہ کیا۔حضرت محبوب یزدانی کے سامنے آکر نہایت عاجزی کے ساتھ عرض کرنے لگا۔کہ اگر تھوڑی حضرت ٹھہر جائیں تو میں کچھ ناشتہ کا سامان کروں۔حضرت نے اس کی استدعا قبول فرمائی ۔وہ شخص گیا اس کی صرف ایک گائے تھی۔اور کچھ اس کے پاس نہ تھا ۔حضرت محبوب یزدانی کے پاس لاکر کہا کہ اس کو ذبح کراکر ہمراہیوں کے واسطے ناشتہ پکوائیے۔اور بڑی کوشش اور تردد سے تمام ہندووں نے مل کر دو تین من آٹا بھی پیش کیا۔دودھ دہی گھی مصالحہ بھی لاکر باورچی کو دیا۔
باورچی نے جب کھانا تیار کیا جملہ پانچ سو درویشوں کو تقسیم کیا گیا۔لیکن کھانا کم نہ ہوا۔کھانے کے بعد ہندو آیا اور ادب سے کنارے کھڑا ہوا۔
حضور محبوب یزدانی نے فرمایا کہ فرقہ مسلمان کی دولت ہم نے تجھ کو دی۔اور تیرےسات بیٹے پیدا ہوں گے۔
تھوڑی ہی مدت میں حضرت کا فرمان ظاہر ہوا۔جماعت مسلمان مفلسی کے سسبب گاوں چھوڑ کر  بھاگ گئے۔
حضور محبوب ربانی سرکار اعلی حضرت اشرفی میاں قدس سرہ صحائف اشرفی میں میں لکھتے ہیں۔ کہ فقیر اشرفی جب اس گاوں میں گیا تو ایک زمیندار جس کا نام پنی راو تھا ملا۔اور کیفیت دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ ابھی تک تو ہم لوگ حضرت کی دعا سے بکمال فارغ البالی بسر کرتے تھے۔مگر اب ہم لوگوں پر ایک خطا کی وجہ سے تکلیف آنے لگی ۔
قصبہ نظام آباد کے پاس ایک گاوں ہے۔جس کا نام دو بتیہا ہے۔اس میں ہندو اور مسلمان دونوں آباد تھے۔اور اتفاقا حضور محبوب یزدانی اس گاوں میں تشریف لے گئے ۔خود مسلمانوں کی مسجد میں اترے اور ہمراہیوں کے واسطے خیمے نصب ہوئے۔گاوں چھوٹا تھا۔اور بازار اس میں نہیں تھا۔وہاں کے مسلمانوں نے کم ہمتی کی حضرت کی دعوت کا کچھ سامان نہ کیا۔حضرت کے ہمراہی رات کو بھوکے سوئے رہے۔جب صبح ہوئی دوسرے فرقہ ہندو میں سے جو غریب تھا اس شخص کو معلوم ہوا کہ رات کو فقرا نے فاقہ کیا۔حضرت محبوب یزدانی کے سامنے آکر نہایت عاجزی کے ساتھ عرض کرنے لگا۔کہ اگر تھوڑی حضرت ٹھہر جائیں تو میں کچھ ناشتہ کا سامان کروں۔حضرت نے اس کی استدعا قبول فرمائی ۔وہ شخص گیا اس کی صرف ایک گائے تھی۔اور کچھ اس کے پاس نہ تھا ۔حضرت محبوب یزدانی کے پاس لاکر کہا کہ اس کو ذبح کراکر ہمراہیوں کے واسطے ناشتہ پکوائیے۔اور بڑی کوشش اور تردد سے تمام ہندووں نے مل کر دو تین من آٹا بھی پیش کیا۔دودھ دہی گھی مصالحہ بھی لاکر باورچی کو دیا۔
باورچی نے جب کھانا تیار کیا جملہ پانچ سو درویشوں کو تقسیم کیا گیا۔لیکن کھانا کم نہ ہوا۔کھانے کے بعد ہندو آیا اور ادب سے کنارے کھڑا ہوا۔
حضور محبوب یزدانی نے فرمایا کہ فرقہ مسلمان کی دولت ہم نے تجھ کو دی۔اور تیرےسات بیٹے پیدا ہوں گے۔
تھوڑی ہی مدت میں حضرت کا فرمان ظاہر ہوا۔جماعت مسلمان مفلسی کے سسبب گاوں چھوڑ کر  بھاگ گئے۔
حضور محبوب ربانی سرکار اعلی حضرت اشرفی میاں قدس سرہ صحائف اشرفی میں میں لکھتے ہیں۔ کہ فقیر اشرفی جب اس گاوں میں گیا تو ایک زمیندار جس کا نام پنی راو تھا ملا۔اور کیفیت دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ ابھی تک تو ہم لوگ حضرت کی دعا سے بکمال فارغ البالی بسر کرتے تھے۔مگر اب ہم لوگوں پر ایک خطا کی وجہ سے تکلیف آنے لگی ۔
حضور اعلی حضرت اشرفی میاں قدس سرہ فرماتے ہیں ۔کہ جب میں اس زمیندار جس کا نام پنی راو تھا ملا اور پریشانی کی وجہ دریافت کی تو اس نے بتایا کہ جب حضور محبوب یزدانی ہمارے گاوں میں ٹھہرے تھے تو بڑی کی شاخ سے مسواک کی اور اس کو زمین میں دبا دیا اور یہ فرمایا کہ یہ ہماری نشانی رہے گی ۔چنانچہ اس مسواک سے ایک عظیم الشان بڑ کا درخت پیدا ہوا۔اور اس کی شاخوں سے جہاں جہاں ریش زمین تک لٹکی اس میں جڑ نکل آئی ۔بڑھتے بڑھتے یہ درخت بادہ بیگہ کے حلقے میں پھیل گیا۔ہماری قوم والے اس درخت کے پتے تک نہیں چھوتے تھے ۔اب ہماری قوم والوں نے اس درخت کی لکڑی کاٹنا شروع کی۔پانچ بیگہ تک کاٹ کر صاف کردیا۔اور اس جگہ میں کھیتی کرنے لگے۔اس وقت وہ درخت سات بیگہ کے حلقے میں موجود ہے۔
سرکار اعلی حضرت اشرفی میاں قدس سرہ فرماتے ہیں۔یہ واقعہ 1326 ہجری کا ہے جب اس فقیر نے اس کی زبان سے سنا۔تو میں نے کہا کہ تم لوگوں بڑی غلطی ہوئی ۔جب حضرت نے تم کو گاوں بخش دیا تو جہاں تک بڑ کا درخت حضرت کی مسواک کی نشانی تھی اس کو نہ کاٹتے۔
اور اعظم گرھ میں ایک معتبر شخص کی زبان سے فقیر نے سنا کہ اعظم گڑھ کے ایک کنجڑے نے تھوڑی زمین موضع دو بیتھا کی نیلام کے ذریعہ خرید کی ۔ایک سال بھی گزرنے نہ پایا تھا کہ وہ ایسا تباہ ہوا کہ کہیں اس کے مال و دولت کا پتہ نہ لگا۔   (صحائف اشرفی  )

کرامت 9
حضور اعلی حضرت اشرفی میاں قدس سرہ سجادہ نشین کچھوچھہ شریف صحائف اشرفی میں نقل فرماتے ہیں کہ۔حضور محبوب یزدانی خطہ جونپور سے چل کر موضع سرس جو اسٹیشن شاہ گنج کے قریب ہے۔آئے اور وہاں ایک بزرگ شیخ نصیر الدین سرسی رہتے تھے۔صاحب کمالات عالی مقام تھے۔اس جوار کے آدمی آپ کے ساتھ اعتقاد رکھتے تھے۔انہوں نے ایک خانقاہ بھی بنائی تھی۔حضور محبوب یزدانی جب ان کی خانقاہ میں آٹھہرے کسی قدر حضرت کی خدمت گزاری میں کم توجہی کی جس سے خاطر مبارک میں ملال پیدا ہوا۔فرمایا کہ جس گاوں میں ایسے درویش رہتے ہیں آگ کیوں نہیں لگتی۔زبان مبارک سے یہ بات نکلنی تھی کہ گاوں میں آگ لگ گئی۔اور حضور محبوب یزدانی اس گاوں سے باہر چلےلے آئے۔تمام گاوں جل گیا۔شیخ سرسی حضرت کے پیچھے دوڑتے ہوئے ایک کوس تک گئے۔حضرت کے سامنے بہت عاجزی کی اور دوبارہ گاوں میں واپس لائے۔دو تین گھر جو جلنے سے بچ گئے تھے۔وہیں حضرت کو ٹھہرا یا۔اور کھانے کا سامان مہیا کیا۔تھوڑی دیر میں جب کھانا تیار ہوا اور حضرت کے سامنے دسترخوان بچھایا گیا۔حضرت کے چہرہ مبارک پر آثار خوشی ظاہر ہوئی۔شیخ سرسی نے بہت معذرت کی ۔
حضرت نے فرمایا کہ یہ امر اتفاقا حسب مرضئ خدا واقع ہوا۔اور جس مقام پر آگ لگی ہے وہاں پر کوئی آباد نہ ہو۔اس جگہ کو چھوڑ کر دوسرے مقام پر آباد ہوں۔
حضور اعلی حضرت اشرفی میاں فرماتے ہیں ۔فقیر اشرفی جب شاہ گنج میں حاجی الہی بخش رئیس کے مکان پر فروکش ہوا۔موضع سرس وہاں سے ایک میل کے فاصلہ پر تھا۔حضرت شیخ سرسی کے مزار پر فاتح پڑھنے گیا۔آپ کے مزار پر ایک جنگلی درخت جما ہے جس کا پھل نہایت شیریں ہوتا ہے۔اہل دیہات اس کو تبرکا کھاتے ہیں ۔
وہاں کے لوگ بیان کرتے ہیں کہ حضور محبوب یزدانی کے رخصت ہونے کے بعد حضرت شیخ سرسی نے اپنے مٹی کے بدھنی (لوٹا ) کو سات ٹکڑے کرکے سات مقام پر ڈالا ۔اس وقت اسی سات مقام پر موضع مذکور کے سات پورے آباد ہیں ۔ (صحائف اشرفی  )

ولی اللہ                 میں             شان                جلال اللہ                          ہوتی           ہے
مگر بدمذہبوں کی عقل کب آگاہ ہوتی ہےمیں

محمد عمر ارشدی اشرفی بلرامپوری خانقاہ ارشدیہ اشرفیہ جہانگیریہ گوا

Monday, 5 October 2015

Some Wazeefa of Silsila Alia Qadria Ashrafia

چند وظیفے
بعد نماز فجر         :           یا عزیز یا اللہ  ایکسو مرتبہ
بعد نماز ظہر        :           یا کریم یا اللہ ایکسو مرتبہ
بعدنماز عصر       :           یا جبار یا اللہ ایکسو مرتبہ
بعد نماز مغرب     :           یا ستار یا اللہ ایکسو مرتبہ
بعد نماز عشاء        :           یا غفار یا اللہ ایکسو مرتبہ
ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی ایک مرتبہ ، کلمہ توحید یعنی لا الہ اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمدوھو علی کل شیئ قدیر دس مرتبہ ، یا بلند آواز سے کم از کم تین بار ۔سبحان اللہ 33مرتبہ، الحمد للہ 33 مرتبہ، اللہ اکبر 34 مرتبہ، کلمہ تمجید یعنی سبحان اللہ و الحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا بااللہ العلی العظیم ایک مرتبہ پڑھا کرے ۔ درود شریف جس قدر زیادہ پڑھ سکے پڑھا کرے۔

درود شریف یہ ہے
اللھم صلی و سلم علی سیدنا محمد و علی ال سید نا محمد
 کما تحب و ترضیٰ بان تصلی علیہ  ﷺ

استغفار اولیاء
استغفراللہ ربی من کل جمیع ما کرہ اللہ
قولا فعلا سمعا ناظرا ولا حول ولا قوۃ اللہ با اللہ العلی العظیم
روزانہ سو بار پڑھنے والا چند سالوں کے بعد گناہوں سے محفوظ فرما لیا جاتا ہے۔

استغفار ملائکہ
سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم و بحمدہ استغفر اللہ
روزانہ سو بار پڑھنے والا رزق وسیع پاتا ہے۔

دو سجدوں کے درمیان کی دعائیں
رب اغفرلی، رب اغفرلی، رب اغفرلی (سنن  ابی داؤد)
اے میرے رب ! مجھے معاف کردے، اے میرے رب !  مجھے معاف کردے،اے میرے رب!  مجھے معاف کردے۔
اللھم اغفرلی وارحمنی واھدنی واجبرنی و عافنی و ارزرقنی وارفعنی
اے اللہ عزوجل! مجھے معاف کردے، مجھ پر رحم فرما،مجھے ہدایت دے، میرے نقصان پورے کردے، مجھے عافیت دے، مجھے رزق دےاور مجھے بلند ی عطا فرما۔(سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)

درود  شریف
اللهم صلى على سيدناومولانامحمدوسيدناادم وسيدنانوح وسيدناإبراهيم وسيدناموسى وسيدناعيسى وما بينهم من النبيين والمرسلين صلوات الله و سلامه عليهم اجمعين اللهم صلى على سيدناجبرائيل وسيدناميكائيل وسيدنا إسرافيل وسيدناعزرائيل و حملة العرش و على الملائكةوالمقربين وعلى جميع الانبياء والمرسلين صلوات الله و سلامه عليهم اجمعين

مزار پر حاضری کا طریقہ
فرمانِ سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ :
 زیارت قبر میت کے مواجہ میں کھڑے ہوکر اوراس طرف سے جائے کہ اس کی نگاہ سامنے ہو، سرہانے سے نہ آئےکہ سر اٹھاکر دیکھنا پڑے۔ سلام و ایصال ثواب کے لیے اگر دیر کرنا چاہتا ہے رُو بقبر بیٹھ ھائے اور پڑھتا رہے یا ولی کا مزار ہے تو اس سے فیض لے –واللہ تعالیٰ اعلم ( فتاویٰ رضویہ جلد 9 صفحہ 535)

مزار پر دعا کا طریقہ
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ فاتحہ کے بعد زائر صاحبِ مزار کے وسیلے سے دعا کرے اور اپنا جائز مقصد پیش کرے پھر سلام کرتا ہوا واپس آئے۔ مزار کو نہ ہاتھ لگائے نہ بوسہ دے۔ طواف باالاتفاق ناجائز ہے اور سجدہ حرام ہے ۔ ( فتاویٰ رضویہ جلد 9 صٖفحہ 522)
مزار شریف یا قبر پر پھولوں کی چادر ڈالنے میں شرعاً  حرج نہیں بلکہ نہایت  ہی اچھا طریقہ ہے۔

فائدہ
قبروں پر پھول ڈالنا کہ جب تک وہ تَر رہے گا تسبیح کریں گے اس سے میت سے کا دل بہلتا ہے اور رحمت اتر تی ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ قبروں پر پھولوں کا رکھنا اچھا ہے ۔
دیگر حوالہ جات یہ ہے......
فتاویٰ ہندیہ جلد5 صفحہ 351،
فتاویٰ امام قاضی خاں
امداد المفتاح
ردالمختار جلد 1صفحہ 606
فتاویٰ رضویہ  جلد 9 صفحہ 105

 مزار پر چادر چڑھانا
مزار پرجب چادر موجود ہو  خراب نہ ہوئی ہو بدلنے کی حاجت نہیں تو چادر چڑھانا فضول ہے بلکہ جو دام اس میں صرف کریں  اللہ کے ولی کو ایصال ثواب کرنے کے لئے کسی محتاج کو دیں ۔ ( احکام شریعت ٖحصہ اول صفحہ42)
آج ہم چادر چڑھانے کو ہی سب کچھ سمجھ لیا ہے اور ڈھول تاشے کے ساتھ چادر لے کر جاتے ہیں یہ غیر شرعی اور غلط طریقہ  ہے ۔اس طرح کے رواجوں  کا اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

پیڑ ، دیوار یاتاک پر فاتحہ دلانا
لوگوں کا کہنا ہے کہ فلاں پیڑ پر شہید (یاکوئی بزرگ) رہتے ہیں اور اس پیڑیا دیوار یا تاک کے پاس جاکر مٹھائی ، چاول (یا کسی چیز)   پر فاتحہ دلانا ، ہار پھول ڈالنا ، لوبان یا اگربتی جلانا اور منتیں ماننا ، مرادیں مانگنا یہ سب باتیں واہیات ، بیکار ، خرافات اور جاہلوں والی بے وقوفیاں اور بے بنیاد باتیں ہیں۔ (احکام شریعت حصہ 1 صفحہ22)

کسی بزرگ یا شہید یا ولی کی حاضری یا سواری آنا
اسی طرح یہ سمجھنا کہ فلاں آدمی یا عورت پر کسی بزرگ یا شہید یا ولی کی حاضری ہوتی یا سواری آتی ہے یہ بھی فضول  اور جاہلوں کی گڑھی ہوئی بات ہے کسی انسان کے کسی بھی طرح سے مرنے کے بعد اسکی روح کسی انسان یا کسی چیز میں نہیں آسکتی ، جو جنتی ہیں ان کو اس طرح کی ضرورت نہیں اور جو جہنمی ہیں وہ آ نہیں سکتے، جنات اور شیطان ضرور کسی چیز یا کسی جانوریا کسی انسان کے جسم کو گمراں کرنے کے لیے آ سکتے ہیں ۔ ہمزاد بھی شیطان جنات میں سے ہوتا ہےجو ہر انسان کے ساتھ پیدا ہوتا ہےزندگی بھر اسکے ساتھ رہتا  ہے اور اس انسان کے مرنے کے بعد یا زندگی میں ہی کسی بچے یا بڑے کے جسم میں گھس کراسکی زبان بولتا ہے ، اسی کو جاہل مسلمان دوسرا جنم اور پچھلے جنم کی بات سمجھ لیتے ہیں۔
اللہ جل جلالہ ہمیں سیدھے راستے پر چلائے یعنی انبیاء ، شہداء،صدیقین، صالحین ور اولیاء کرام کے راستے پر چلائے اور شریعت کا پابند بنائے۔ آمین


فاتحہ سلطان الاولیا ء محبوب یزانی و عبدالرزاق نورالعینقدس سرہ
بروح اقدس حضرت سلطان الاولیاء   درۃ تاج الاصفیاء عمدۃ الکاملین زندۃ الواصلین، عین عیون محققین، وارث علوم انبیاءو مرسلین،کان عرفان، جان ایمان، منبائے خاندان چشتیہ، منشائے دودمان بہشتیہ، تارک المملکۃ و الکونین ، مرشد الثقلین،اولاد حسین شہید کربلا ، رنوردیدہ فاطمہ زہرا، جگرگوشہءعلی مرتضےٰ، نبیرہ حضرت محمد مصطفے، سالک طرق طریقت ، مالک ملک حقیقت ، مقتدائے اولیاء روزگار ، پیشوائے اصفیاء کبار، صدر بارگار کرامت مقتدائے کنتم خیر امۃ اخرجت واقف رموز حقائق الہی، کاشف وقائق لا متناہی ، سیمرغ قاف قطع علائق ،شہباز فضائے حقائق، شمع شبستان ہدایت ، مہر انور اوج ولایت ، ملاذ ارباب شوق و عرفاں، معاذ اصحاب ذوق وجداں ، مقتدیٰ الانام، شیخ الاسلام، حافظ قراءت سبعہ جہاں گست حدود اربعہ، مقیم سراوقات جلال مہبط تجلیات جمال الذی من اقتدی بہ فقد اھتدی ومن خالف فقد ضل و غویٰ متابعوۃ سالکون و مخالوۃ ھالکون وھو الواقففی مقام القطبیۃ و المتمکن فی مرام الغوثیہ،مظہر صفات ربانی، مورد الطاف سبحانی حضرت شاہ مردان ثانی مخاطب بہ خطاب محبوب یزدانی، سیدنا و مولانا و شفاء صدورنا و طیب قلوبنا مقتدائے اولیاء کثیر حضرت امیر کبیر مخدوم سلطان سید اشرف جہانیاں جہانگیر سمنانی السامانی نوربخشی النورانی سرہ العزیزو بروح اقدس حضرت قدوۃ الابرار عمدۃ الاخیار سروگلستاں حسنی الحسینی ، نہال بوستاں بنی المدنی نوردیدہ حضرت محبوب سبحانی سرور سینہ سید عبدالقادر جیلانی، مظہر اسرار اشرفی ، منظر انظار شگرفی حاجی الحرمین الشریفین، مخاطب بہ خطاب نورالعین، زبدۃ الآفاق مرضی الاخلاق مہبط انوار مشیخت علی الاطلاق حضرت سید عبدالرزاق نورالعین رضی اللہ عنہ مع جمیع خلفاء و مریداں یکبار فاتحہ و سہ بار اخلاص با صلوات بخوانید۔