Friday, 1 January 2016

سلطان صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ قسط 16

عظیم جنگی  کارنامے
یہاں کچھ اور بھی عظیم کارنامے ہیں جنہیں سلطان علیہ الرحمہ نے اپنی زندگی کے آخری برسوں کے دوران سرانجام دیا اور شاید چھ برس سے زائد نہ ہوں گےاور یہ مختلف النوع کامیابیوں سے بھر پو ر ہیں اور وہ یہ ہیں :فتح بیت المقدس ، حماۃ، بعلبک،قلعہ عزاز،قلعہ البیرہ، قلعہ شقیف، بیسان، رُہا، حران، رقہ، بلادخاربور، بزریہ، قلعہ طرطوس ، دربساک، نفراس، انطاکیہ، قلعہ کوکب،عسقلان، بکاس، شغر، سرمین،نصیبین، تل خالد،عتناب، طبریہ ، الناصرۃ، ارسوف، ہونین، جبلہ ، انطرطوس، الاذقیہ، حص، عنصری، حصن الغازریہ، البرج الاحمر، حصن الخلیل،تل الصافیہ، قلعہ الحبیب الفوقانی، الحبیب التحتانی، الحصن الاحمر، لد، قلنوسہ، القاقون، قیمون، الکرک، حلب، قلعہ حارم، میارفارقین، قلعہ الشوبک، قلعہ السلع، الوعیرۃ، قلعہ الجمع، قلعہ الطفیلہ،طبریہ، عکا، قلعہ الھرمز، صفد، حصن بازو، حصن اسکندرونہ صور اور عکاکے ما بین، قلعہ ابی الحسن، بالائی ساحل پر ایک شہر، المرقید، حصن یحمور (جبلہ اور مرقب کے مابین) ، بلنیاس ، محیون، بلانس، حص الجماہریہ، قلعہ ایسذو ، بکسرائیل، انسرمانیہ، قلعہ برزیہ، طبریہ ، دربساک (انطاکیہ کے قریب)،  حیفا، نابلس، تنین ، صیدام بفراس (ارض بیروت میں) الدامور (صیدا کے نزدیک)،  السوفند اس کے علاوہ اور بھی ہیں جنکے نام  کچھ کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔
                                                ( تاریخ ابن خلدون، ایوبی کی یلغاریں صفحہ 79)
حضرت سلطان ایوبی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ " میرے دل میں یہ بات آتی ہے کہ ساحل کے بقیہ علاقے اللہ تعالیٰ کب فتح کروائے گا!!! میں جب پورے ملک میں بنظر غائر دیکھتاہوں تو دل میں یہ بات اٹھتی ہے کہ لوگوں کو خیرباد کہوں ..... گھنے جنگلوں تک پہونچوں.....سمندر کی پشت پر سوار ہوکر .....ایک ایک جزیرہ تک پہونچوں .....زمین کا ایک ایک چپہ تلاش کروں ..... روئے زمین پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گستاخی کرنے والوں کو زندہ باقی نہ رکھوں ..... یا پھر میں خود شہید ہوجاؤں۔
وصال پرملال
جہاد کی پر مشقت زندگی اورمسلسل بے آرامی نے سلطان کو مریض بنادیا تھا ، مرض کی شدت میں  رمضان کے کئی روزے قضا ہوگئے مگر جہاد نہ چھوٹا، اب جو موقع ملا توقضا روزے ادا کرنا شروع کردیئے ، معالج نے ان کی تکلیف کا لحاظ کرتے ہوئے اس سے منع کیا مگر سلطان نےاس اتفاق نہ کرتے ہوئے فرمایا کہ  "   معلوم نہیں آئندہ کیا ہو، چنانچہ وہ مسلسل روزے رکھتے رہے اور اپنی قضا کا پورا کفارہ کردیا ۔اسی قیام میں شہر پناہ کی مرمت کروائی ، خندق کھدوائی، نئے اوقاف قائم کیے اور پھر بیت المقدس کا نظام امیرعزالدین جرء کے سپر د کرکے دمشق روانہ ہوگئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس سال سلطان نے اپنی کمزوری اور نقاہت کے باوجود دمشق سے باہر آکر حج حرمین الشریفین سے لوٹنے والوں کا گرم جوشی اور پرتپاک انداز سے استقبال کیا ۔ وہ اگلے سال خود بھی حج پاجانے کا ارادہ رکھتے تھےلیکن وسط صفر المظفر میں مرض شدت اختیار کرگیا اور وصال سے تین روز قبل غشی کی سی حالت طاری ہوگئی، معلوم ہوتاتھاکہ بیس سال کا تھکاماندہ مجاہد تکان اتار رہا ہے 27 صفر المظفر 589ہجری کی صبح کا ستارہ افق نمودار ہوا تو سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ کی نبضیں ڈوب رہی تھیں ۔حضرت شیخ ابوجعفرعلیہ الرحمہ نے سکرات موت کے آثار محسوس کرکے سورۃ حشر کی تلاوت شروع کی جب آیت  ھواللہ لا الہ الا ھو عالم ال پر پہونچے تویکایک سلطان نے آنکھیں کھول دیں مسکرائے اور تبسم ریز لہجےمیں کہا "سچ ہے"یہ کہہ کر ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کرلیں ۔
شیخ ضیاء الدین ابوالقاسم عبدالمالک نے غسل دیا اور قلعہ کے باغ کی بارہ دری میں عصر کے وقت اسی مقام دفن کردیا ۔جہاں انہوں نے انتقال فرمایا تھا ، جوتلوار جہادوں میں ان کے زیب کمرتھی ان کے برابر میں رکھ دی گئی اور اسے وہ جنت میں اپنے ساتھ لے گیا ۔
 مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ  فاتح بیت المقدس، فلسطین،  شام ، یمن ، لبنان ، اردن، عراق، مصر ،حجاز ،بصریٰ ،دمشق ،حمص کا جب وصال ہوا تو ان کے کفن کےلئے قرض حاصل کرکے ان کی تدفین کا انتظام کیا گیا  حتی کہ اور لکڑیاں تک جو قبر میں لگیں قرض پر منگوائی گئیں۔ان کی وصال کے بعد جب ذاتی مال و ملکیت کا حساب کیا گیا تو ایک گھوڑا، ایک تلوار، ایک زرہ ، اور 36 چھتیس درہم  کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا ۔ آپ شدید خواہش کے باوجود حج نہ کرسکے کیونکہ کے حج کے لئے رقم نہ تھی۔
لوگوں ہر اس قدر ہجوم الم تھا کہ ان کی زبانیں گنگ ہوگئی تھی ۔ دبن کے بعدہر شخص گھر چلا گیا اور ماتم میں مکان کے دروازے بند کرکے بیٹھ رہا ۔ صرف خاموشی اور سنسان سڑکیں بتاتی تھیں کہ لوگوں پر کس قدر عظیم صدمہ گزراہے ۔
B                      طبیب عبداللطیف نے لکھا ہے کہ " اس کے علم میں صرف اسی ایک سلطان کی نظیر ہے ۔جس کے لئے واقعی رعایا نے ماتم کیا "۔
B                      مورخ ابن خلکان کے مطابق ”ان کی وفات کا دن اتنا تکلیف دہ تھا کہ ایسا تکلیف دہ دن اسلام اور مسلمانوں پر خلفائے راشدین کی موت کے بعد کبھی نہیں آیا“ ۔
B                      سلطان العادل حضرت نورالدین زنگی الحنفی علیہ الرحمہ اپنے دورحیات میں فرمایا کرتے تھےکہ اسلام کو ہر دور میں ایک صلاح الدین ایوبی  (علیہ الرحمہ) کی ضرورت ہوگی ۔
B                      انگریز مؤرخ لین پول نے بھی سلطان کی بڑی تعریف کی ہے اور لکھتا ہے کہ ”اس کے ہمعصر بادشاہوں اور اس میں ایک عجیب فرق تھا۔ بادشاہوں نے اپنے جاہ و جلال کے سبب عزت پائی اور انہوں نے عوام سے محبت اور ان کے معاملات میں دلچسپی لے کر ہردلعزیزی کی دولت کمائی“۔
B                      مشہورمؤر خ ولیم آف ٹائر نے سلطان کی شان میں کہا ہے کہ بے مثال ذہانت کاحامل ، دوران جنگ ایک برق رفتار وجود اور انسان کی توقع سے بھی زیادہ شریف اورکریم النفس۔
B                      مشہور انگریزداں دانتے نے کہا ہے صلاح الدین کی ذات ایسی منفرد اور عظیم الشان ہے کہ جس کو دیکھ کر میں بھی اپنے انسان ہونے کو فخر کرسکتاہوں۔
اللہ عزوجل کی سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ  پر  کروڑہا کروڑرحمتیں نازل  ہو اور  اللہ  سبحانہ وتعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ و سلم کے وسیلے سے اسلام کو پھر ایسے حکمران عطا کرے۔ جن میں ایسا جذبہ جہاد ہو۔ جومسلمانوں پر ہونے والے ہرظلم وستم کا منہ توڑ جواب دے سکیں۔

سلطان صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ قسط 15

شعائر مقدسہ کی حفاظت
جب بیت المقدس کا شہر دشمن سے خالی ہوگیا  تو سلطان صلا ح الدین ایوبی علیہ الرحمہ نے حکم دیا کہ اس کے مقدس شعائر اور اشیاء اپنی قدیم حالت کی طرف لوٹا دی جائیں کیونکہ فرنگیوں نے ان میں بہت تبدیلی کردی تھی لہذا انہیں اپنی اصلی حالت کی طرف لوٹا دیا گیا۔

 مسجد  اقصٰی کی صفائی
اس  کے بعد غازی اسلام سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ  نے مسجد اقصیٰ اور قبۃ الصخرہ کو نجاستوں سے پاک کر کے ان کے فرش اوردیوار یں گلاب ِ دمشقی سے دھلوائیں ۔ ان مقدس مقامات میں صلیبیوں نے حضرت عیسیٰ ومریم علیہم السلام کی خیالی تصویربنوارکھی تھی انہیں صاف کرنے اور جمعہ پڑھنے کا حکم دیا ۔ قاضی محی الدین بن علی الشافعی علیہ الرحمہ نے خطبہ  پڑھا انہوں نے خطبے میں موجودہ حالات اور اسلام کی عظمت کو اس طرح بلاغت آمیز مؤثرانداز میں بیان کیا کہ اس کو سن کر مسلمانوں کے رونگٹے گھڑے ہوگئے ( یہ خطبہ اس قدر عمدہ تھا کہ ) راویو ں نے اور مؤرخوں نے اسے نقل کرکے  بیا ن کیا ۔

صلاح الدین کی امامت
بعد ازاں سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ نے مسجد اقصیٰ کی پنج وقتہ نمازیں امام اور خطیب کی حیثیت سے پڑھاتا رہا،اس نے حکم دیا کہ اس کے لئے منبر تیار کیا جائے اس پر مسلمانوں نے اسے آگاہ کیا کہ بیس سال ہوئے سلطان العادل حضرت  نورالدین محمود  زنگی الحنفی علیہ الرحمہ  کے لئے ایک منبر تیا رکیا گیا تھا اور حلب کا کاریگروں نے اکٹھے ہوکر کئی سالوں میں اس منبرکو عمدہ کاریگری سے تیا ر کیا تھا لہذا سلطان نے حکم دیا کہ وہ منبر لاکر مسجد اقصیٰ میں نصب کیا جائے۔آپ نے یہ بھی حکم دیا کہ مسجد اقصیٰ کو آباد کیا جائے اور اس کی مناسب تعمیرکی جائے اور قبۃ الصخرہ  کے اوپر سے سنگ مرمر اکھیڑ دیا جائے ، اس  کی وجہ یہ تھی کہ عیسائیوں  کے پادری صخرہ کے پتھر کو فروخت کرنے لگے تھے وہ اس پتھر کو تراش کرکے اسے سونے کے بھاؤ پر فروخت کرتے تھے فرنگی عیسائی اس سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کی خریداری میں مقابلہ کرنے لگے اور پتھر کے ان ٹکڑوں کو اپنے گرجاؤں میں رکھنے لگے ۔ اس نتیجہ یہ ہوا کہ فرنگی بادشاہوں کے دلوں میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں یہ صخرا  فنا نہ ہوجائے  لہذا  ( اس کی حفاظت کے لئے ) انہوں نے اس صخرہ کے اوپر سنگ مرمر کا فرش بچھا دیا ۔( مگر بیت المقدس کی فتح کے بعد ) سلطان صلاح الدین نے اس کے اکھیڑنے کا حکم دیا ۔ اب مسجد اقصی ٰ میں قرآن کریم کے بہت سے نسخے اکٹھے ہوگئےاور وہاں ( تلاوت قرآن  کے لئے) قاری مقر کیے گئے جن کی تنخواہ مقرر تھی سلطان نے وہاں خانقاہیں اور مدارس بھی تعمیر کرائے ۔ (تاریخ ابن خلدون حصہ ہشتم صفحہ 539)
 بتادوں کہ بیت المقدس پر تقریباًً 761 سال مسلسل مسلمانوں کا قبضہ رہا۔ تاآنکہ 1948 عیسوی  میں امریکہ ، برطانیہ ، فرانس کی سازش سے فلسطین کے علاقہ میں یہودی سلطنت قائم کی گئی اور بیت المقدس کا نصف حصہ یہودیوں کے قبضے میں چلا گیا۔1967 عیسوی کی عرب اسرائیل جنگ میں بیت المقدس پر اسرائیلیوں نے قبضہ کرلیا ۔

تیسری صلیبی جنگ
جب بیت المقدس پر قبضے کی خبر یورپ پہنچی تو سارے یورپ میں کہرام مچ گیا۔ ہر طرف لڑائی کی تیاریاں ہونے لگیں۔ جرمنی، اٹلی، فرانس اور انگلستان سے فوجوں پر فوجیں فلسطین روانہ ہونے لگیں۔ انگلستان کا بادشاہ رچرڈ جو اپنی بہادری کی وجہ سے شیر دل مشہور تھا اور فرانس کا بادشاہ فلپ آگسٹس اپنی اپنی فوجیں لے کر فلسطین پہنچے ۔ یورپ کی اس متحدہ فوج کی تعداد 6 لاکھ تھی جرمنی کا بادشاہ فریڈرک باربروسا بھی اس مہم میں ان کے ساتھ تھا۔
عیسائی دنیا نے اس قدر لاتعداد فوج ابھی تک فراہم نہ کی تھی۔ یہ عظیم الشان لشکر یورپ سے روانہ ہوا اور عکہ کی بندرگاہ کا محاصرہ کر لیا اگرچہ سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ  نے تن تنہا عکہ کی حفاظت کے تمام انتظامات مکمل کر لیے تھے لیکن صلیبیوں کو یورپ سے مسلسل کمک پہنچ رہی تھی۔ ایک معرکے میں دس ہزار عیسائی قتل ہوئے مگر صلیبیوں نے محاصرہ جاری رکھا لیکن چونکہ کسی اور اسلامی ملک نے سلطان کی طرف دست تعاون نہ بڑھایا اس لیے صلیبی ناکہ بندی کی وجہ سے اہل شہر اور سلطان کا تعلق ٹوٹ گیا اور سلطان باوجود پوری کوشش کے مسلمانوں کو کمک نہ پہنچا سکا۔ تنگ آکر اہل شہر نے امان کے وعدہ پر شہر کو عیسائیوں کے حوالہ کر دینے پر آمادگی ظاہر کی۔ فریقین کے درمیان معاہدہ طے ہوا کہ جس کے مطابق مسلمانوں نے دو لاکھ اشرفیاں بطور تاوان جنگ ادا کرنے کا وعدہ کیا اور صلیب اعظم اور 500 عیسائی قیدیوں کی واپسی کی شرائط طے کرتے ہوئے مسلمانوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ مسلمانوں کو اجازت دے دی گئی ۔ وہ تمام مال اسباب لے کر شہر سے نکل جائیں لیکن رچرڈ نے بدعہدی کی اور محصورین کو قتل کر دیا۔
عکہ کے بعد صلیبیوں نے فلسطین کی بندرگاہ عسقلان کا رخ کیا۔ عسقلان پہنچنے تک عیسائیوں کا سلطان کے ساتھ گیارہ بارہ بار مقابلہ ہوا سب سے اہم معرکہ ارسوف کا تھا۔ سلطان نے جواں مردی اور بہادری کی درخشندہ مثالیں پیش کیں لیکن چونکہ کسی بھی مسلمان حکومت بالخصوص خلیفہ بغداد کی طرف سے کوئی مدد نہ پہنچی۔ لہذا سلطان کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ واپسی پر سلطان نے عسقلان کا شہر خود ہی تباہ کر دیا۔ اور جب صلیبی وہاں پہنچے تو انہیں اینٹوں کے ڈھیر کے سوا کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔ اس دوران سلطان  صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کی حفاظت کی تیاریاں مکمل کیں کیونکہ اب صلیبیوں کا نشانہ بیت المقدس تھا۔ سلطان نے اپنی مختصر سی فوج کے ساتھ اس قدر عظیم لاؤ لشکر کا بڑی جرات اور حوصلہ سے مقابلہ کیا۔ جب فتح کی کوئی امید باقی نہ رہی تو صلیبیوں نے صلح کی درخواست کی۔ فریقین میں معاہدہ صلح ہوا۔ جس کی رو سے تیسری صلیبی جنگ کا خاتمہ ہوا۔
اس صلیبی جنگ میں سوائے عکہ شہر کے عیسائیوں کو کچھ بھی حاصل نہ ہوا اور وہ ناکام واپس ہوئے۔ رچرڈ شیر دل ، سلطان کی فیاضی اور بہادری سے بہت متاثر ہوا جرمنی کا بادشاہ بھاگتے ہوئے دریا میں ڈوب کر مرگیا اور تقریباًً چھ لاکھ عیسائی ان جنگوں میں‌کام آئے۔
معاہدہ کے شرائط مندرجہ ذیل تھیں:
B                        بیت المقدس بدستور مسلمانوں کے پاس رہے گا۔
B                        ارسوف، حیفہ، یافہ اور عکہ کے شہر صلیبیوں کے قبضہ میں چلے گئے
B                        عسقلان آزاد علاقہ تسلیم کیا گیا۔
B                        زائرین کو آمدورفت کی اجازت دی گئی۔
B                        صلیب اعظم بدستور مسلمانوں کے قبضہ میں رہی ۔
تیسری صلیبی جنگ میں سلطان صلاح الدین نے ثابت کردیا کہ وہ دنیا کا سب سے طاقتور ترین حکمران ہے ۔

سلطان صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ قسط 14

فتح بیت المقدس
حطین کی فتح کے بعد صلاح الدین نے بیت المقدس کی طرف رخ کیا ایک ہفتہ تک خونریز جنگ کے بعد عیسائیوں نے ہتھیار ڈال دیے اور رحم کی درخواست کی۔ بیت المقدس پورے 90 سال بعد دوبارہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا اور تمام فلسطین سے مسیحی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ بیت المقدس کی فتح صلاح الدین ایوبی کا عظیم الشان کارنامہ تھا۔
 یاد رہے کہ جب صلیبی فوج نے بیت المقدس شریف مسلمانوں سے چھینا تھا تو اس موقع پر بیت المقدس شریف میں تقریباً ایک لاکھ مسلمانوں کو ذبح کیا گیا تھا ۔ تمام بڑےبڑے مغربی مؤرخ کہ جنہوں نے صلیبی جنگوں کی تاریخ ہے خود شرمندگی سے اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ تاریخ انسانی میں اس سے زیادہ درندگی ، دہشت گردی ، قتل عام وخونریزی اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی کہ جیسی اس جنونی صلیبی فوج نے بیت المقدس میں بے گناہ اورنہتے مسلمانوں کے ساتھ روا رکھی ۔ مسجدعمر میں مسلمانوں کا خون گھوڑوں کے گھٹنے تک پہونچ آیا ۔ بیت المقدس کے اندر مسجد اقصیٰ کے صحن میں ستر ہزار مسلمان ذبح کئے گئے جن میں علماء،  مشائخ، زہاد، مہاجرین اور رؤسا تھے ۔ چالیس قندیلیں کلاں نقرئی ( ہر ایک کا وزن تین ہزار چھ سو درہم مطابق وزن رائج الوقت بیس بیس سیر کا تھا) ایک سو پچاس قندیلیں خوردنقرئی، ایک تنورنقرئی وزنی چالیس رطل شامی(مطابق وزن رائج الوقت ایک من) اور ان کے علاوہ بہت سامال واسباب جوکہ حدود شمار تھا لوٹ لیا۔ ( تاریخ ابن خلدون حصہ ہفتم صفحہ57)
          اس کے علاوہ تاریخ کی  اور کتابوں میں ایسے اور بھی سینکڑوں واقعات موجود ہیں کہ جن کو بیان کرتے انسانی روح کانپ جاتی ہیں۔ ایک یورپی مؤرخ خود بھی اس کو بیان کرتے ہوئے شرمندہ ہوجاتے ہیں کہ صرف ایک ہفتے میں ایک لاکھ مسلمان بیت المقدس میں ذبح کئے گئے ۔ مسجداقصیٰ میں دس ہزار مسلمانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا ۔ جب یورپی بادشاہ کو فتح کی اطلاع دی گئی تو خط میں یہ تحریر کیا گیا کہ مسلمانوں کا خون ہمارے گھوڑوں کے گھٹنوں تک آپہونچاہے۔ مسجد عمر کہ جہاں امیر المؤمنین نے بیت المقدس فتح کرنے کے بعد پہلی نمازادا کی تھی ،میں مسلمانوں کے لاشوں کے ٹکڑوں اور جمے ہوئے خون کی وجہ سے طویل عرصے تک داخل نہ ہوسکا۔ مسلمان بچوں کو ٹانگوں سے پکڑ کر دیواروں پر اور صلیبوں پر  پٹخا جاتا ۔ عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں کو بڑی بڑی عمارتوں کے برجوں سے نیچے گرایا جا تا یا آگ میں زندہ جلایا جاتا  حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک  کئے گئے ، علماء کرام اور مشائخ عظام کو تیل چھڑک کر جلادیا گیا ۔دنیا کا کوئی ایسا ظلم نہیں تھا کہ جوان صلبیوں نے عیسائیت کے نام پر مسلمانوں سے روانہ رکھا ہو۔ مسلمانوں کے گروہوں کو کمروں میں بند کرکے آگ لگادی جاتی ۔ یعنی ظلم اور جبر بھی یہاں ایک چھوٹا لفظ ہے ، یہ درندگی کا وہ شیطانی کھیل تھاکہ جو پوپ کے حکم اور اجازت سے برپا کیا جارہا تھا ۔
حضرت شیخ سعدی شیزاری علیہ الرحمہ نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لوگ صلیبی راستوں میں اور مکانوں کی چھتوں پر دوڑ رہے تھے اور اس شیرنی کی طرح جس کے بچے چھین لے گئے ہوں  اور صلیبی قتل عام کے مزے لے رہے تھے  کسی متنفس کو بھی نہ چھورے ، جلد فراغت حاصل کرنے کی غرض سے ایک ہی رسی میں کئی کئی آدمیوں کو لٹکادیتے تھے۔
ایک عینی شاہد ریمانڈواژیل پوئی کے تیس بیان کریتا ہے کہ " بیت المقدس کے راستوں اور ہرجگہ پر سروں ہاتھوں اور رانوں کے انبار لگے ہوئے تھےاور لاشوں پر سے چلنا پڑتا تھا، ہیکل سلیمانی ، مسجد عمر میں اس قدر خون بھرا تھا کہ اس کے صحن میں لاشیں تیرتی پھرتی تھیں، کسی کا ہاتھ کسی کا پیر بے جوڑ اس طرح سے ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے کہ انہیں پہچاننا مشکل تھا ۔ صلیبوں نے اس قتل عام کو ناکافی سمجھ کر ایک محفل منعقد کی جس میں قرار پایا کہ کل  تمام باشندان بیت المقدس کو تہ تیغ کردیا جائے ،یہ قتل عام کا بازار باوجود حامیان دین عیسوی کی مستعدی کے آٹھ روز تک گرم رہا ، عورتیں بچے ، بوڑھے سب مارے گئے ، کوئی متنفس زندہ نہ رہا۔
اب نوے سال کے بعد بیت المقدس حضرت سلطان  علیہ الرحمہ نے حاصل کرلی اور سلطان نے قسم کھا رکھی تھی  کہ صلیبیوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ نوے سے قبل کیا تھا ۔ اس مجاہد کا ایک جلالی فیصلہ تھا لیکن جلد ہی انہوں نے اپنےجلال پر قابو پالیا اور جب صلیبیوں نے ان سے امن معاہدے کی درخواست کی تو حضرت سلطان علیہ الرحمہ نے بھی فتح مکہ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے عام معافی کااعلان کردیا ، اس سے پہلے صلیبیوں  کے دماغ میں یہ خناس بھی موجود تھا کہ بیت المقدس  کو مسلمانوں کے حوالے کرنے سے پہلے مسجد اقصیٰ کو شہید کردیا جائے اور گنبدصخرہ  کو بھی تباہ کردیا جائے ، سلطان نے انہیں تنبیہ کی کہ ایسانہ کرنا ورنہ تمہارے ساتھ براسلوک کیا جائے گا۔ اس کے بعد اتنی آسان شرائط کے پر ان صلیبیوں کے ساتھ معاہدہ کیا گیا کہ آج کی متعصب مغربی دنیا بھی اس بات پر مجبور ہے کہ وہ سلطا ن کے کردار کی تعریف کرے۔
اب ذرا معاہدہ امن کی شرائط بھی دیکھ لیجئے ۔ یہ شرائط اس قدر ناقابل یقین ہیں کہ تاریخ انسانی میں اس کی مثال صرف مسلمان ہی دے سکتے ہیں ۔
B   بیت المقدس کے تمام صلیبی اورعیسائی قیدیوں کو امان دے دی گئی۔حتی کہ ٹمپلز اور پاسپٹلز نائٹس کو بھی اجازت دے دی گئی کہ وہ اپنی تمام تر دولت لیکر یہاں سے نکل جائیں۔
B   چرچ اور پادریوں کو اجازت تھی کہ چرچ کی تمام دولت اپنے ساتھ لے جاسکیں۔
B   ہر مرد اور عورت کو صرف ایک معمولی سا فدیہ اداکرکے رہائی کی اجازت دے دی گئی بلکہ ان تمام خاندانوں کو بھی حفاظت کے ساتھ سمند ر تک کہ جہاں اب بھی ایک آدھ عیسائی قلعہ موجودتھا پہونچانے کے لئے مسلمان فوج خود ان قیدیوں کے ساتھ گئے۔
B   ان میں سے تقریباً دس ہزار لوگ ایسے تھے کہ جو اپنا فدیہ اداکرنے کے قابل نہیں تھے ان کا فدیہ خود سلطان نے اپنی جیب سے ادا کیا۔
B   ایسی کئی سو عورتیں سلطا ن کے پاس آئیں کہ ہمیں آپ نے جانے کی اجازت تودے دی ہے لیکن ہمارے مرد آپ کے پاس جنگی قیدی ہیں( یہ لوگ حطین اوردوسری لڑائیوں میں قید ہوئے تھے)، ہم اپنے مردوں کے بغیر تباہ ہوجائیں گی،ہم پر رحم کریں اورہمارے مرد ہمیں واپس کردیں۔ ان کی آہ وازی دیکھ کر سلطان روپڑےاور فوج میں ان تمام مردوں کوبلایا گیا کہ جو مسلمانوں کے قید میں تھے۔انہیں عزت کے ساتھ خرچ دے کر ان کے بچوں اور بیویوں کے ساتھ عیسائی اکثریتی علاقوں کی جانب رخصت کردیا گیا ۔
B   اسی طرح سلطان کے بھائی نے بھی کئی ہزارقیدیوں کا فدیہ ادا کیا ۔ ان میں تقریباً چالیس ہزار کے قریب ایسے قیدی بھی تھے جو بغیر فدیہ کے آزاد کردیئے گئے۔ کیا دنیا کی تاریخ اتنے اعلیٰ اخلاق کی کوئی مثال بھی پیش کر سکتی ہے؟
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد جو عام معافی دی وہ محدود نہیں رہی بلکہ ہر آنے والے دور میں ہر عاشق رسول صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے بعد میں اسی سنت پر عمل کرتے ہوئےایسی ہی  شاندارمثالیں قائم کیں ہیں۔ تاریخ انسانی اٹھاکر دیکھ لیں کہ جب بھی ہمارے دشمنوں نے ہمارے شہر فتح کیا تو انہوں نے مسلمانوں کوسخت نقصان پہونچایا ، مگر مسلمانوں نے اپنے دشمنوں سے ہمیشہ احسان کا معاملہ رکھا۔

سلطان صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ قسط 13

سلطان صلاح الدین اورعیسائیوں کے کردار کا موازنہ
سلطان نے کبھی کسی معاہدہ کے خلاف نہیں کیا ۔ اس کے برعکس متواتر خلاف ورزیاں کرتے رہتے چنانچہ اس معاہدہ صلح کی خلاف ورزی کرتے ہوئے والئ کرک ریجی نالڈ نے مکہ معظمہ اور مدینۃ المنورہ ﷺ پر چڑھائی کا ارادہ کیا اور روضۂ رسول اللہ ﷺ کے بارت میں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لئے فوجیں ساحل حجاز پر اتاردیں۔
جب یہ خبر سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ  کو ملی یہ سنتے ہی آپ سکتہ طاری ہوگیا ۔سلطان فوراً دمشق سے مصر کے طرف روانہ ہوئےاور بحری بیڑے کے سربراہ لولوکو طلب کیا اور مختصر طور پر والئی کرک کے شیطانی عزائم کا ذکر کرتے ہوئےکہا میں نے اپنے تمام دشمنوں کوبھی معاف کیا جو میرے خون کے پیاسے رہے ہیں لیکن ریجی ینالڈ کو اپنے ہاتھوں قتل کرنا میرا فرض عین ہے تم اس بات سے میری نفرتوں کا اندازہ لگاسکتے ہو۔اس فتنہ کو روکو چاہے اس مزاحمت میں پورا سمندر انسانی خون سے سرخ ہوجائے بس میری زندگی میں اس کے ناپاک قدم مقامات مقدسہ تک نہ پہونچنے پائیں ورنہ بروزحشر ہم سب کے لئے شرمندگی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
امیر البحر لولو نے جب خبیث ریجی نالڈ کا منصوبہ سنا تو چہرے سے نفرت وغضب کے رنگ ابھر آیا۔ شیروں کی طرح دھاڑتے ہوئے کہا کہ اگر حق تعالیٰ کی تائید و نصرت ہمارے ساتھ رہی تو سلطان محترم بہت جلد سمندر کی تاریخ بدلتے دیکھیں گے۔
سلطان نے ساحل سمندر پر امیرالبحر لولو کو رخصت کیا ۔
پھر شیطانوں کی یہ جماعت سلطان صلاح الدین ایوبی کی جانثاروں کے تلواروں کی زد میں آگئی  تو پھر  انہوں نے دشمنوں سے کوئی رعایت نہیں برتی ۔ ریجی نالڈکی تمام فوج ذلت کی موت ماری گئی لیکن ریجی نالڈ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ۔
ریجی نالڈ کی سفاکی وبربریت کا اندازہ آپ اس کے قول سے لگاسکتے ہیں جو وہ اکثر رقص و سرور کی محفلوں میں کہا کرتا تھا :
B            بے شک اس رقاصہ کا رقص بہت دلکش ہے مگر میرے نزدیک دنیا کا سب سے زیادہ دلکش رقص وہ ہے جب ایک زخمی مسلمان زمین پر گر کر تڑپتاہے۔
B            مجھے شراب پینے سے بھی زیادہ لذت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب میں مسلمان کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرتاہوں ۔یہی میرا مقدس ترین فریضہ ہے اور یہی میری نجات کا راستہ۔

گستاخ رسول کی سزا
اپنی اسی بہیمانہ فطرت سے مجبورہوکر یہی شیطان نما انسان  ایک مرتبہ مسلمانوں کے حاجیوں کے قافلے پر حملہ کردیا ۔ اتقاق سے اسی قافلے  کے ساتھ سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ کی بیٹی مونسہ خاتون بھی تھیں ۔ ریجی نالڈ نہ صرف لوٹ مار کرتا رہا بلکہ بے دریغ نوجوان حاجیوں کو بے دریغ قتل بھی کرتے رہے اور جس کو قتل کرتے اس یہ کہتا کہ بلاؤ اپنے پیغمبر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو کہ آکر تمہیں بچائیں ۔ تمہارا ایمان تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم)  پر ہے انہی کو پکارو وہی تمہیں بچائیں گے۔
حجاج کرام  سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ کی دہائی دیتے ہوئے شہید ہوتے رہے۔ کچھ افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور باقی لوگوں کو اور عورتوں کو پکڑ کر زہزن کرک کے قلعے میں لے گئے۔ فرار ہونے والے حاجی سید ھے موصل پہونچے جہان ان دنوں سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ شدید علیل حالت میں ٹھہرے ہوئے
 تھے۔جاجیوں کی زبانی یہ سن کر ریجی نالڈ حاجیوں کو قتل کرتے وقت کہہ رہا تھا کہ بلاؤ اپنے رسول ( ﷺ) کو آکرتمہیں بچائے.........
سلطان ایوبی شدید علیل ہونے کے باوجود غم و غصہ سے سرخ ہوگئے اور مدینہ منورہ کی جانب رخ کرکے عرض کیا کہ " یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے ہمت دیں کہ میں آپ کے گستاخ کو اپنے ہاتھ سے سزادوں ،  بادشاہ بادشاہ کو نہیں مارتا لیکن میں ریجی نالڈ کو اپنے ہاتھ سے واصل جہنم کروں گا۔
اور پھر تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ سلطان کی عرض بارگاہ رسالت ﷺ میں منظور ہوئی اور سلطان دیکھتے ہی دیکھتے صحتیاب ہوگئے ۔ جنگ حطین کے بعد ریجی نالڈ کو بھی بادشاہ جیفری کے ساتھ گرفتار کرکے سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے پیش کیا گیا ۔ سلطان ایوبی نے برف سے سرد کیا ہوا پانی منگوایا اور بادشاہ جیفری کو پیش کیا ۔ جیفری نے پانی کر وہ پیالہ ریجی نالڈ کے طرف بڑھا دیا ۔ یہ دیکھ کر سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ جلال سے سرخ ہوگئےاور جیفری سے کہا کہ "اس کو یہ پانی تم نے پلایا ہے میں نے نہیں ۔"
عربوں کی روایات میں یہ بات شامل ہے کہ اگردشمن بھی ان کے ہاں کھا پی لیتا ہے توپھر اس کی جان بخشی کردیتےہیں جبکہ سلطان یہ فیصلہ کرچکے تھے کہ ریجی نالڈ کو جان بخشی نہیں کی جائے گی۔ آپ نے ریجی نالڈ کو قریب بلایا اور اس کو وہ گستاخانہ الفاظ یاد دلائے جو اس نے قافلہ لوٹنے کے دوران ایک مسلمان کو کہے تھے ۔ بڑے جلال میں ریجی نالڈ سے فرماتے ہیں کہ"میں  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو کی حفاظت کے لئے موجود ہوں"۔
سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس کو ایک  اور موقع دیا اور اسلام قبول کرنے کی پیشکش کی ۔ جب اس نے پھر انکار کیا تب آپ نے اپنی تلوار سے اس کی گردن اڑادی۔
یہ سب دیکھ کر بادشاہ جیفری پر وہشت طاری ہوگئی ۔سلطان نے اس کو تسلی دی اور کہا کہ بادشاہ بادشاہوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہیں کرتے ، لیکن ریجی نالڈ نے گستاخی کی وہ حد پار کردی تھی کہ مجھے اس کا سر اپنے ہاتھوں سے قلم کرناپڑا۔ (سلطان نورالدین زنگی اور سلطان صلاح الدین ایوبی صفحہ)

صلاح الدین کا عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
ایک دفعہ حاکم مدینہ نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو ایک تحفہ بھیجا۔لانے والے نے کہا کہ حاکم مدینہ نے آپ کے لئے ایک ایسا خاص تحفہ بھیجا ہے جو آج تک شائد آپ کو کسی نے نہ دیا ہو۔ سلطان نے جب اس تحفے کے لحاف کو کھولا تو اس میں کھجور کے پتوں کا بنا ہواایک پنکھا تھا۔ سلطان نے لانے والے سے پوچھاکہ  اس میں کیا خاص بات ہے؟
 جو تم لوگ اتنی دور سے میرے لئے یہ پنکھا لے کر آئے ہو۔
تحفہ لانے والوں نے کہا کہ  حضور اتنی جلدی نہ کیجئے ۔ ذرا اس کے دوسری طرف کی عبارت پڑھ لیجئے۔ سلطان نے پنکھے کو جب دوسری طرف الٹا تو اس پر لکھا تھا۔ کہ" یہ پنکھا حاکم مدینہ کی طرف سے سلطان کے لئے ایک خاص تحفہ ہے جو کہ اس کھجور کے پتوں سے بنایا گیا ہے جوبالکل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ انور کے ساتھ متصل ہے۔"
سلطان نے جب یہ پڑھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو جاری ہوگئے۔اور پنکھے کو چوم کراپنے سر پر رکھا اور درود شریف پڑھ کر کہنے لگا۔ کہ واقعی اس سے پہلے آج تک کسی نے مجھے ایسا تحفہ نہیں دیا۔

سلطان صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ قسط 12

جذبہ جہاد
آپ  کو جہاد فی سبیل اللہ  کا اتنا شوق تھا کہ ایک مرتبہ اس کے نچلے دھڑ میں پھوڑے ہوگئے ان کی وجہ سے وہ بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتے تھے لیکن اس حالت میں بھی جہاد کی سرگرمی میں فرق نہ آیا۔ صبح سے ظہر تک اور عصر سے مغرب تک برابر گھوڑے کی پیٹھ پر رہتے۔ آپ کو خود تعجب ہوتا تھا اور کہا کرتےتھے کہ جب تک گھوڑے کی پیٹھ پر رہتا ہوں ساری تکلیف جاتی رہتی ہے اور اس سے اترنے پر پھر تکلیف شروع ہوجاتی ہے ۔
سوانح نگار بہاء الدین کےمطابق’’اللہ کی راہ میں جہاد کا جذبہ اسکے دل و دماغ پر ہر وقت چھایا رہتا۔ یہی ذکر اسکی زبان پر ہوتا۔ کوئی چیز اگر اسکے خیالات اور سوچ بچار کا مرکز تھی تو وہ جنگی ہتھیار تھے۔ وہ لوگوں کو جہاد میں حصہ لینے کی نصیحت کرتا‘‘۔


ولی اللہ کی بشارت
آپ کو علماء ، فقراء ، درویش اور مشائخ عظام سے بے حد محبت تھی اور انکے دعائیں لئے بغیر کو ئی بھی کام نہ کرتے تھے  اور ہر کام کی شروعات بعدنماز جمعہ کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ جب صلاح الدین ایوبی صلیبی جنگوں میں مصروف تھے تو دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔ایک دفعہ انھیں اطلاع ملی کہ دشمن کا بحری بیڑہ آرہا ہے۔ اس پر صلاح الدین ایوبی کو بڑی ہوئی کہ مسلمانوں کی تعداد پہلے ہی تھوڑی ہے اور اوپر سے دشمن کا بحری بیڑہ آرہا ہے۔ تو یہ تو مسلمانوں پر ایک مشکل وقت آگیا ہے۔ چنانچہ وہ بیت المقدس پہنچے اور ساری رات رکوع و سجود میں گزار دی ۔ اللہ کے حضور رونے اور دعائیں مانگنے میں گزار دی۔صبح کی نماز پڑھ کی جب باہر نکلے تو دیکھتے ہیں کہ ایک اللہ والے کھڑے ہیں۔ جن کا چہرہ بتا رہا تھا کہ اللہ نے انھیں کوئی روحانی طاقت بخشی ہے۔ صلاح الدین ایوبی قریب ہوئے کہ ان سے دعا کرواتا ہوں۔ چنانچہ سلام کیا ۔ عرض کیا کہ حضرت دعا فرمائیے۔ دشمن کا بحری بیڑہ آرہا ہے۔ انھوں نے صلاح الدین ایوبی کے چہرے کو دیکھا۔ ان کو بھی اللہ نے کوئی بصیرت دی ہوئی تھی۔ پہچان گئے، فرمانے لگے، صلاح الدین ایوبی  تیرے رات کے آنسوؤں نے دشمن کے بحری بیڑہ کو ڈبودیا ہے اور واقعی تین دن کے بعد اطلاع ملی کہ دشمن کا بحری بیڑہ راستہ میں غرق ہو چکا ہے۔

کارنامے
صلاح الدین اپنے کارناموں میں نور الدین پر بھی بازی لے گئے۔ اس میں جہاد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور بیت المقدس کی فتح اس کی سب سے بڑی خواہش تھی۔
مصر کے بعد صلاح الدین نے 1182ء تک شام، موصل، حلب وغیرہ فتح کرکے اپنی سلطنت میں شامل کر لئے۔ اس دوران صلیبی سردار ریجی نالڈ کے ساتھ چار سالہ معاہدہ صلح ہو چکا تھا جس کی رو سے دونوں ایک دوسرے کی مدد کرنے کے پابند تھے لیکن یہ معاہدہ محض کاغذی اور رسمی تھا۔ صلیبی بدستور اپنی اشتعال انگیزیوں میں مصروف تھے اور مسلمانوں کے قافلوں کو برابر لوٹ رہے۔