Tuesday, 29 December 2015

حاجی الحرمین سید عبدالرزاق نورالعین کچھوچھوی قسط 4

 تعلیم تربیت:
آپ نے  ان کی تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دی اور اکثر علوم و فنون خود انہیں پڑھائے خصوصاً علم تصوف و طریقت کی تعلیم سے آراستہ کی اور اپنی صحبت بافیض سے مستفیض فرمایا ۔
سید سلطان اشرف جہانیاں جہانگیر سمنانی رضی اللہ عنہ مکتوبات اشرفی میں فرماتے ہیں کہ "سلسلہ نوربخشیہ میں ستر(70) اشخاص نے اس  درویش سے ایک سال میں قرآن حفظ کیا جن میں بندہ عبدالرزاق نے بھی ایک سال کے دوران مخدومی خدمت میں قرآن پاک کو قرأت سبعہ کے ساتھ حفظ کیا اس کے بعد علوم شرعیہ اور اصول فرعیہ کو حاصل کیا ۔ (مکتوبات اشرفی 2/342)
اس سے پتہ چلا کہ سید عبدالرزاق نورالعین حافظ قرآن بھی تھے اور آپ نے سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانیرضی اللہ عنہ کی زیر نگرانی میں قرآن پاک کو سبعہ قرأت سے حفظ کیا اور  بعد اس کےتحصیل  علوم  شرعیہ  میں مشغول ہوئے اور تمام علوم معقول و منقول ، ریاضی، نجوم ،ہیئت ، تفسیر ، حدیث  اورفقہ وغیرہا چہار دہ علوم کی تعلیم ابتدا سے انتہا تک حاصل   کئے۔
آپ سفر  و حضر میں نورالعین کو اپنے ساتھ رکھتے تھے اور دوران سفربھی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رہتاتھا ۔  نورالعین کو بھی علم سے گہرا شغف تھا اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہےکہ سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ عنہ کو علم سے کس درجہ شغف تھا اور انہوں نے حضرت سید عبدالرزاق کی تعلیم کے لئے کیا کچھ نہ کیا ہوگااس سے خود حضرت سید عبدالرزاق نورالعین کے بھی علمی ذوق و شوق کا پتہ چلتا ہے۔
ایک بار حضرت مخدوم سمنانی رضی اللہ عنہ مکہ شریف کے سفر کا ارادہ فرمایا اور جہاز پر اکابر مشائخ کے ہمراہ سوار ہوئے تو مولانا اعظم جمال بدخشانی بھی ہم سفر  تھے ان کی عادت تھی کہ تجارت کی غرض سےمختلف ممالک کا  سفرکیاکرتے تھے ۔ آپ  جامع العلوم تھے ۔اس سفر ان سے مختلف مسائل پر گفتگو ہوتی رہی مولانا بدخشانی نے محسو س کیا کہ حضرت عبدالرزاق کو علم سے گہری دلچسپی ہے اور ساتھ ہی جو ہر قابل بھی رکھتے ہیں ادھر سے علم سیکھنے کا شوق ظاہر ہوا اور ادھر مولانا بھی سکھانے  پر آمادہ ہوگئے لیکن یہاں شاگرد و استاد کا رشتہ علوم دین نہ تھا کیونکہ علوم دینی کی تکمیل بہ تمام و کمال خود سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی السامانی نوربخشی کے ذریعے ہوچکی تھی   یہ علم اقلیدس و محیط وغیرہ سے متعلق تھا ۔ چنانچہ حضرت نورالعین پاک فرماتے ہیں کہ " بندہ نے ہر چند علوم الٰہی کی تحصیل و تکمیل حضرت قدوۃ الکبریٰ سے کی تھی لیکن مولانا بعض عجیب علوم ( ریاضی ) سے پوری طرح واقف تھے تو طبیعت کا تقاضہ ہوا کہ ان میں سے بعض علوم سیکھے جائیں خصوصاً اقلیدس اور محیط سے سیکھا شروع کیا "۔
حضرت سید عبدالرزاق نورالعین  نے مولانا جمال الدین سے علم سیکھنا شروع کیا اور جو کچھ سیکھتے اس کو لکھتے جاتے ابھی صرف مقدمہ ہوا تھا کہ بحری سفر ختم ہوگیا اور بندرگاہ آگئی۔ مولانا کو ملک روم کی طرف جانا تھا اس لئے اب تعلیم کا سلسلہ جاری نہیں رہ سکتا تھا ۔ حضرت نورالعین کی دلچسپی اس علم سے بڑھ چکی تھی ۔ حضرت سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی نے اپنے نورالعین کے شوق کو دیکھ کر پوچھا کہ مولانا کا سامان تجارت  ملک روم میں کتنے داموں بگے گا اور ملک روم سے اشیاء خریدی جائیں گی وہ  ملک چین میں کتنے داموں بکیں گی اور اس خرید وفروخت سے کس قدر نفع ہوگا ۔ چند اصحاب نے حساب لگاکر حضرت محبوب یزدانی  کے سامنے پیش کیا ۔ حساب میں ایک لا کھ بیس ہزار دیکھا یا گیا تھا ۔ آپ نے اپنے اصحاب سے کہا کہ جو زر نقد ہے وہ مولانا کے خزانچی کو دے دیا جائے ۔ شمار کرنے پر معلوم ہوا کہ کل ایک لاکھ بیس ہزار دینار ہیں ۔ یہ سب مولانا کے خزانچی کو دے دئے گئے اور مولانا سے وعدہ کیا کہ تعلیم ختم ہونے کے بعد سفرسےواپسی میں انہیں اسی قدر زرنقد اور دیا جائے گا ۔ مولانا کی رفاقت ایک سال رہی اور اس عرصے میں حضرت نورالعین پاک نے آپ سے پورا استفادہ کیا اس کے بعد سفر سے واپسی پر مولانا کو ایک لاکھ بیس ہزار دینار حسب وعدہ پھر دیئے گئے۔  (نورالعین  صفحہ 12)
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی السامانی نوربخشی  رضی اللہ عنہ نے کس طرح  سید عبدالرزاق نورالعین  کی تعلیم و تربیت کا اہتمام فرمایا اور چند علوم سیکھانے کے لئے اُس زمانے میں ایک لاکھ بیس ہزار دینار خرچ کئے جو آج کے کروڑو ں روپے کے برابر ہیں ۔ نیز اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ آپ کے دل میں علم اور علماء کی قدر کتنی تھی کہ آ پ نے ایک سال تک مولانا جمال الدین بدخشانی کو سفر میں ساتھ رکھا صرف اس لئے کہ وہ نورالعین کو علم سیکھائیں اور اس کے معاوضے میں زر کثیر انہیں عطافرمایا۔
حضرت سید عبدالرزاق نورالعین فرماتے ہیں کہ حضرت سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ عنہ نے اس قدر کرم فرمایا اور ایسی توجہ کی کہ اگر رونگٹے رونگٹے میرے بدن کی قوت میں  گویائی پائیں شرح اس کی بیان میں نہ لا سکیں۔ ( مکتوبات اشرفی  صحائف اشرفی 2/63)
آپ کی زندگی بھی حضرت سلطان سیداشرف جہانگیر سمنانی کی زندگی سے مشابہت رکھتی ہے کہ حضرت نے اپنے والدین کنبہ اور خاندان سلطنت  ودولت کو چھوڑ کر اپنی پوری زندگی اللہ کےلئے وقف کردی  ۔اسی طرح حضرت اولاد غوث الاعظم  سید عبدالزراق نورالعین  الحسنی الحسینی نے بھی والدین عزیز ، رشتہ دار اور گھر بار  سب کچھ چھوڑ کر حصول معرفت خداوندی کے لئے حضرت محبوب یزدانی سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی  کا دامن تھام لیا اور پوری زندگی ان کی خدمت میں رہ کر منزل سلوک طے کیا ۔ آپ کے اند ر حرص و طمع کے بجائے توکل و استغناء بدرجۂ اتم تھا ایک مرتبہ حضرت شیخ سیف الدین  مسند عالی سیف خاں (جو کہ  اودھ کے ایک رئیس اور بہت بڑے منصب دار تھے ) نے ایک لاکھ اشرفی  کی جاگیر کا دستاویز لکھ کر حضرت مخدوم سمنانی کو بطور نذر پیش کیا تو آپ نے فرمایا  کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہاں سید عبدالرزاق کے پاس  لے جاؤ اگر وہ چاہیں تولے لیں ۔ جب حضرت عبدالرزاق نورالعین کو معلوم ہوا تو فرمایا جس چیز کو حضرت نے قبول نہ کیا میں کیسے قبول کرسکتاہوں ۔
زہے بلند جہانے کہ چشم  ہمت  او
بسوئے جلوۂ  کونین  التفات نکرد
آفریں ہے اس بلند جہان شخص پر جس کی چشم ہمت نے دونوں جہان کے جلوؤں کو دیکھنے پر توجہ نہ دی ۔
کسے  کہ تابع  متبوع  خود شد  نکرد
نظر بگوشۂ چشمان شش جہات نکرد
یہ ہمت کہ وہ چشم سے شش جہات پر نظر نہ ڈالے اسی تابع سے ممکن ہے جواپنے متبوع کے قدم  بہ قدم  چلتا ہو۔
مثل مشہور ہے کہ " التابع کالمتبوع" تابع متبوع کی مثل ہوتا ہے۔
 جب سید عبدالرزاق نورالعین کی اس بے نیازانہ رویے کی خبر حضرت کوملی  تو نہایت خوش ہوئے اور انہیں اپنے حضور طلب کرنے کے شرف سے مشرف فرمایا اور لطف وعنایات کا اظہار فرمایا ۔ آخر میں فرمایا کہ عبدالرزاق اور ان کی اولاد کو ہم نے خزانۂ الٰہی  سے وابستہ کردیا ہے اور اللہ تعالیٰ سے درخواست کی ہے کہ اگر عبدالرزاق نورالعین کی اولاد اور اخلاف قناعت اختیار کریں گے توکسی کے محتاج نہ ہوں گے۔ ان کی ادنیٰ توجہ ہمت مردان کا کام کرے گی ۔ (مکتوبات اشرفی  مترجم مولانا ممتاز اشرفی صفحہ 19)
ہمتاں مردانِ عالی  اے  پسر
ہر کجا خواہند آنجا حاضر است
اے بیٹے عالی مردوں کی ہمت (ہر وقت ان کے ساتھ رہتی ہے ) جہاں چاہیں حاضر ہے۔
ہمت شاں با توجہ ہمرہ است
ہمت ازناید توجہ قاصر است
ان کی ہمت توجہ کے ساتھ ساتھ رہتی ہے اگر ہمت حاضر نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ توجہ میں کوئی کمی ہے۔ نورالعین کی اولا د ( ہمیشہ ) عزیز و محترم رہے گی اگرمخلوق کے دروازے پر جائے گی تو خوار ہوگی۔
شیر نر بوسد بہ ہمت مرد قانع راقدم
مادہ سگ خاید بدنداں پائے مرد بردرے
ہمت کی وجہ سے شیر نر قناعت کرنے والے شخص کا قدم چومتاہے جو شخص کسی کے دروازے پر جاتا ہے توکتیا دانتوں سے اس کے پیر زخمی کردیتی ہے۔
مرامل راپائے بشکن  و زاجل میندش ہیچ
مطمعے را پر مکن تاہر کجا  خواہی برے
آرزو کا پاؤں توڑ دے اور موت کا اندیشہ نہ کر ، لالچ کی جگہ  کو پر نہ کرپھر جہاں سے  چاہے پھل ملے گا۔

حاجی الحرمین سید عبدالرزاق نورالعین کچھوچھوی قسط3

ولادت باسعادت :
حضرت  سید عبدالرزاق نورالعین قد س سرہ  غالبا 750 ہجری یا 752 ہجری میں قصبہ جیلاں میں پیدا ہوئے ۔ حضرت غوث العالم سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کی خالہ زادبہن حضرت سید عبدالغفور حسن جیلانی قد س سرہ  سے منسوب تھیں ۔ یہ خاندان قصبۂ جیلاں میں معزز اور محترم تھا ۔ خانوادۂ سرکار غوث الاعظم کی نسبت کی وجہ سے اس خاندان میں چار چاند لگ گیا تھا ۔ یہ علماء  ومشائخین کا گہوارہ تھا ۔ اس قصبہ کی دھرتی کو سرکارغوث الاعظم کی جائے پیدائش ہونے کا شرف حاصل تھا ۔
شیخ الاسلام والمسلمین  حضرت مولانا الشاہ امام احمد رضا خاں  فاضل بریلوی قد س سرہ فرماتے ہیں کہ
تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
توہے  عین نورتیرا سب گھرا نا نور کا
یہ نوری گھرانا جہاں سے ہمیشہ رشد وہدایت کی شمع روشن تھی یہی جگہ مخدوم الآفاق سید عبدالرزاق نورالعین کا مولد و مسکن تھا اسی جگہ آپ نے اپنی عمر کے کچھ ایام  گزارے۔
حضرت غوث العالم محبوب یزدانی سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ عنہ سیاحت عالم فرماتے ہوئےحامہ تشریف لے گئے اور خانواۂ غوثیہ کے مہمان ہوئے۔ حضرت سید شاہ  عبدالغفور حسن الحسنی الحسینی کے ایک سعادت مند اور بااقبال صاحبزادے سید عبدالرزاق تھے جن کو حضرت سے بے حد انس ہوگیا تھا اور برابر حاضرخدمت رہا کرتا تھا اور حضرت شاہ سمناں  رضی اللہ عنہ بھی ان کی اس سعادت مندی سے بہت ملتفت تھے سیدزادے کی عمر اس وقت بارہ ہی سال کی تھی مگر ان کی پیشانی سے نورولایت ضو فگن تھا۔
حضرت غوث العالم رضی اللہ عنہ نے جب ارادۂ سفر ظاہر کیا جو حضرت سید عبدالرزاق نے اپنے والدین سے حضرت کی ہمرکابی اور خدمت کی اجازت چاہی۔ شفقت پدری اورماں کی مامتا بیتات ہوئی اور قرۃ العین کو بہت طرح سے چاہا کہ میرے ہی ہوکر گیلان میں رہیں مگر جس کو عالم کا نورالعین ہونا تھا وہ صرف باپ کی قرۃ العینی پر کیسے قناعت کرتے۔ جب صاحبزادے کے عزم مصمم کو والدین نے دیکھااور انہیں یقین ہوگیا کہ اگر بخوشی اجازت نہ دی گئی توبغیر اطلاع کے چلے جائیں گےتو بالآخر ہاشمی خون نے جوش مارا اور سوچا کہ کمسن سید تو معرفت الہی کا ایسا متوالا ہے کہ اس کم عمری میں ترک علائق پر آمادہ ہوگیا تو میں ان کے طلب کی راہ میں کیوں رکاوٹ بنوں ۔
چنانچہ پہلے تو اپنی اہلیہمحترمہ کو آمادہ اور ہم خیال بنایا اور پھر صاحبزادے کا ہاتھ پکڑ کر حضرت مخدوم سمناں کی خدمت میں آئے اور چھوٹے سید کی بیتابی شوق اور طلب  مولیٰ کے جذبہ کا ذکر کرتے ہوئے عرض کی کہ میں اس کمسن بچے کو آپ کی خدمت کے لئے نذر کرتا ہوں اور اپنے حقوق کو معاف کرتا ہوں ۔ اسی طرح عفیفہ والدہ  نے بھی اپنے جگر کے گوشے کو سپرد کیا اور  کہا کہ میں نے بھی اپنے حقوق معاف کئے اور یہ بچہ ہم دونوں کا نذرانہ ہے اور حضرت نے صاحبزادے کو اپنی فرزندی میں   بصد جان قبول فرمالیا ۔
سنوات الاتقیاء  میں ہےکہ حضرت محبوب یزدانی سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی نے نورالعین پاک کو اپنے ساتھ سمنان لے گئے اور وہاں اپنی بڑی بہن کا دودھ پلوایا جو طرح طرح کے فضائل واخلاق سے آراستہ تھیں تاکہ ظاہری نسبت بھی ظاہر ہوجائے ۔جب سید عبدالرزاق نورالعین کے دہن مبارک میں بہن کا دودھ ڈالا گیا تو حضرت نے فرمایا مجھے اس فرزند سے یہ نسبت اس سے زیادہ پیاری ہے کہ میری خالہ زادہ بہن حضرت حسن گیلانی کی زوجہ ہے اور اس کے بطن سے یہ فرزند پیدا ہوا  اور اب ہمارے اور اس کے درمیان  جو نسبتیں ہیں  اس کی شرح قطعی ناممکن ہے۔ (سنوات الاتقیاء  ،لطائف اشرفی 65/619)
چہ حاجت نسبت شیراے برادر
کہ دارم نسبتے  دیگر بہ از شیر
اے بھائی مجھے دودھ کی حاجت نہیں ہے کیونکہ میں دودھ کی نسبت سے بہتر نسبت رکھتا ہوں۔
چونور واحد از خورشید تابد
دہد از مشرق خاور بتاشیر
جب نور واحد آفتاب سے چمکتا ہے تو خراسان کے مشرق سے صبح کی روشنی نمودار ہوجاتی ہے۔
ہماں نوریست از خورشید رخشاں
کہ آن رادر حسین و باحسن گیر
وہی ایک نور ہے جو آفتاب سے رخشاں ہے اسی کو حسین میں حسن سے حاصل کر۔
سبحان اللہ ! سید عبدالرزاق نورالعین کو حضرت سے کتنی محبت تھی کہ انہوں نے حضرت کی محبت میں اپنا گھر بار وطن عزیز و اقارب سب کو چھوڑدیا اور ہمہ وقت حضرت کی خدمت میں رہنے لگے ان کے ہر حکم کو بجا لانے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے اسی لئے حضرت بھی ان سے بڑی محبت فرماتے تھے۔
اسی سفر میں حضرت غوث العالم محبوب یزدانی کا صالحہ دمشق کے راستے میں گزر ہوا ۔ یہاں آپ کو بیماری پیش آئی اور اس طرح کی بے تابی رونما ہوئی کہ لوگوں کی امید قطع ہوگئی ۔ کچھ دیر حضرت بے ہوشی کی کیفیت میں رہے ۔ اصحاب میں سے حضرت ابوالمکارم ، خواجہ ابوالوفا، شیخ علی ،شیخ کبیر، اصیل الدین  اور شیخ سیف الدین وغیرہ بہت سے عزیز حاضر تھے اور یہ مذکورہ اصحاب کسی مقام اعلیٰ کے متوقع تھے اور ان کے دل میں ولایت عالی کی تمنا پیدا ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد آپ ہوش میں آئے اور فرمایا کہ یہ تکلیف دینے کا مقام ہے؟
مدت گزر گئی کہ وہ حالت دوسرے کو تفویض ہوچکی ہے اور وہ فرزند نورالعین کے حصے میں آچکی ہے۔ خبردار!کبھی اپنے آپ کو اس فکر میں ڈالو۔
حق تعالیٰ نے اس بیماری سے آپ کو شفائے کلی عنایت فرمائی ۔ جب صحت کلی حاصل ہوگئی تو آپ نے حضرت نورالعین کو طلب فرمایا اور ہرہرطرح کے لطف کے ساتھ شفقت انگیراور تسلی آمیز باتیں ان کے بارے میں نثار فرمائیں:
مرا ہرچہ یزداں  عطاکردہ  بود
کہ لطف و عنایت دریں روزگار
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں جو کچھ اپنی عنایت و مہربانی سے مجھے عنایت فرمایا تھا۔
ہمہ از سر لطف و احساں شدہ
بفریق بلند تو  چوں درنثار
ازروئے لطف و احسان  سب کاسب تیرے بلند قد پر موتیوں کے مانند نثار کردیا ۔

حاجی الحرمین سید عبدالرزاق نورالعین کچھوچھوی قسط 2

حضرت سلطان سید اشرف جہانیاں جہانگیرسمنانی قد س سرہ النورانی کی روحانی و معنوی اولادوں کا سلسلہ آپ ہی سے جاری و ساری ہوا  کیونکہ حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی جس وقت قدوۃ الاکابر عمدۃ الاماثر حضرت شیخ علاؤالحق والدین کی بیعت کے شرف سے مشرف ہوئے تھے تو آپ ستائیس سال کے تھے ۔ حضرت شیخ کی جانب سے جو طرح طرح کے لطائف اور انعامات حضرت سید اشرف جہانگیر سمنانی کو حاصل ہوئے جس کا ذکر "کرامات سلطان سید اشرف  جہانیاں جہانگیر سمنانی السامانی" ہو چکاہے  اس کے علاوہ "صحائف اشرفی  حصہ اول" میں بھی  کیا گیا ہے  یہاں پر  لکھنے کی حاجت  نہیں ہے۔
آپ حاضری خدمت  مرشد میں ریاضت اور ذکرو شغل کے ساتھ بسر کررہے تھے ۔حضرت عبدالرحمن چشتی صابری عباسی العلوی قد س سرہ اپنی مشہور و معروف کتاب مراۃ الاسرار میں فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت شیخ   (علاؤالحق پنڈوی)  کی خدمت میں جانے کے لئے کمر باندھ رہے تھے کہ شیخ خود تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ  فرزند اشرف کیا  کررہے ہو ؟
آپ نے جواب دیا کہ خدمتِ شیخ کے لئے کمر باندھ رہاہوں ۔
شیخ نے فرمایاکہ مضبوط سے باندھنا۔
اشارہ یہ تھا کہ شادی سے گریز کرنا چاہیے ۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے ساری عمر شادی نہ کی اورمجرد اور مسافر رہے۔ (مراۃ الاسرار صفحہ 1176)
حضرت مخدوم سمناں رضی اللہ عنہ  جب باہر تشریف لائے تو آ پ کے چہرے کا رنگ کسی قدر متغیر ہوا ، خیال پیدا ہوا کہ ہمارا کوئی قائم مقام  تو ہوگا نہیں ۔ جیسے ہی یہ خیال آپ کے دل میں آیا ، حضرت شیخ سے پوشیدہ نہ رہا ۔ اپنا سرگریباں میں لے گئے ۔ دو تین ساعت کے بعد سر اٹھایا اور تمام تربشارت کے فرمایا کہ اے فرزند اشرف ! مبارک ہو کہ ہم نے تمہارے لئے حضرت پروردگار سے فرزنددینی عنایت کرنے کی درخواست کی ہے جو سلسلے کا سرحلقہ اور تمہارے خاندان کا پیشوا ہوگا۔ اس کے باعث تمہاری بزرگی کا شہرہ جب تک  زمانہ اوراد ختم نہ ہوجائیں روئے زمین پر باقی رہے گا اور وہ فرزند تمہارے خاندان سے ہوگا نیز زبان مبارک سے یہ اشعار پڑھے:
تا رود  بر صفحۂ  گیتی   نشان
از  تقاضائے  قضایت  اے  اِلہ
یا اللہ جب تک تیری تقدیر کے مطابق دنیا کے صفحے پر نشان باقی رہے
باد بر روئے زمیں  آثار تو
دُر فشان و جاوداں چوں مہروماہ        (لطائف اشرفی56/619)
روئے زمیں پر تیرے آثار باقی رہے اور ہمیشہ چاند اور سورج کا مانند موتی برساتے رہیں
حضرت سلطان سید اشرف  جہانیاں جہانگیرسمنانی قد س سرہ  نے اس بشارت کے سنتے ہی حضرت شیخ کے قدموں میں سر رکھ دیا ۔ حضرت شیخ اور اصحاب نے آپ کو مبارکباد دی۔
مبارک باد ایں  عالی  بشارت
زدج  گوہر  دریائے  اسرار
دریائے اسرار کے درگوہر پانے کی عالی خوش خبری مبارک ہو۔
بود  نسبت   گہر از  گوہر کان
سزائے تاج شاہاں باشد اے یا ر
کان سے نکلنے والے موتی کو ہرعالی خاندان سے نسبت ہے ( اس لئے) اے دوست ! وہ بادشاہوں کے تاج کے لائق ہوتا ہے۔
اسی دن سے آپ اس معنوی فرزند کی جستجو میں رہنے لگے  ۔

حاجی الحرمین سید عبدالرزاق نورالعین کچھوچھوی قسط 1

محبوبِ سبحانی ،قطبِ ربانی ، شاہبازِ لامکانی، غوث صمدای، پیرپیراں، میرمیراں، شیخ عالم ، غوث اعظم ، غوث الثقلین ،امام الطرفین امام النقیٰ، سلطان الاولیاء،  شاہِ اصفیاء، رئیس الاتقیاء، تاج الاصفیاء، فخرشریعت وطریقت، ناصرسُنت، عماد حقیقت، قاطع بدعت، سیدوالزاہدین، رہبر عابدین، قطب الاقطاب، غوث الاغواث محی الملت والدین سیّدنا  الشیخ عبدالقادر جیلانی الحسنی و الحسینی رضی اللہ عنہ  کی ذات والا صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے ۔ رب ذوالجلال نے آپ کو بے پایاں شان عطا فرمائی ہے اور اولیائے کرام میں آپ رضی اللہ عنہ کو وہ مقام اور مرتبہ عطا فرمایا ہے جو انبیاءکرام اور رسل عظام میں حضور خاتم النبین (ﷺ) کا ہے۔
غوث اعظم درمیانِ اولیاء
چوں  محمد  درمیانِ  انبیاء
سرکار آسی حضرت مولانا الشاہ عبدالعلیم رشیدی قد س سرہ استاذ الشرق و الغرب قاضی القضاۃ ملک العلماء حضرت علامہ امام قاضی شہاب الدین دولت آبادی خلیفۂاجل غوث العالم محبوب یزدانی مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ عنہ کے تلمیذ اجل وارشد قطب الاقطاب علامہ امام دیوان محمد رشید جونپوری مصنف مناظرہ رشیدیہ کی خانقاہ کے سجادہ نشین اور علم ومعرفت کے وارث تھے۔ آپ قد س سرہ  سرکارغوث الاعظم رضی اللہ عنہ  بارے میں فرماتے ہیں کہ .....
پوچھتے ہو  شہِ جیلاں کے فضائل آسی ؔ 
ہر فضیلت کے وہ جامع ہیں نبوت کے سوا
امام اہلسنت عظیم البرکت  مجدددین وملت  شیخ الاسلام والمسلمین حضرت علامہ مولانا الحافظ القاری الحاج الشاہ امام احمد رضاخاں قد س سرہ  فرماتے ہیں  کہ
تو حسینی حسنی  کیوں نہ محی الدیں ہو
اے خضر مجمع  بحرین ہے چشمہ تیرا
مجمع البحرین   حاجی الحرمین الشریفین اعلیٰ حضرت قدسی منزلت مخدوم الاولیاء  مرشدالعالم محبوب ربانی ہم شبیہ غوث الاعظم حضرت سید شاہ ابواحمد المدعومحمد علی حسین اشرف اشرؔفی میاں الحسنی الحسینی قدس سرہ النورانی فرماتے ہیں کہ ........................
نبی کی شکل ظاہر میں علی کی شکل باطن میں
کہوں میں تم کو کیا ہو شاہ محی الدین جیلانی
شیخ المشائخ قطب العالم خواجہ خواجگان حضرت خواجہ سید شاہ  محمد  بہاء الحق والدین المشتہر نقشبند بخاری الحنفی رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ
بادشاہ  ہر دو عالم  شاہ  عبدالقادر است
سرور اولاد  آدم  شاہ  عبدالقادر است
 برزمین و  آسمان جن و  بشر ہم قدسیان
ساختہ ورد زبان ہم شاہ عبدالقادر است

اور یہ سب اولیاء اللہ رحمہم اللہ تعالیٰ  یہ سب کچھ کیوں نہ کہتے کہ  غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر  جیلانی رضی اللہ عنہ   نے خود فرمایا کہ .....................

اَنَاالْحَسَنِیُّ وَالْمُخْدَعْ مُقَامِیْ 

وَاَقْدَامِیْ  عَلٰی  عُنُقِ  الرّجَالِ
          ترجمہ : میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ  کی اولاد سے ہوں اور میرا مرتبہ مخدع"خاص مقام" ہے اور میرے قدم اولیاء اللہ کی گردنوں پر ہیں۔
وَعَبْدُ القَادِرِ الْمَشْھُوْرُ  اِسْمِیْ
وَجَدّیْ صَاحِبُ الْعَیْنِ الْکَمَالِ 
          ترجمہ: اورعبدالقادر میرا مشہور ومعروف نام ہے اورمیرے دادا ونانا  حضورسرورکائنات فخرموجودات( صلی اللہ علیہ والہ واصحابہ و سلم) چشمۂکمال کے مالک ہیں۔
حضرت غوث  الاعظم نجیب الطرفین سید  ہیں اور یہ بات اس تواتر سے صحیح ثابت ہے کہ اس میں کسی طرح کا اختلاف و نزاع نہیں اس لیے اگر کوئی حاسد و متعصب انکار کرے تو یہی کہنا کافی ہے ۔
گر نہ بیند بروز شپرہ چشم
چشمہآفتاب را چہ گناہ
آپ رضی اللہ عنہ کی اولادو امجاد نے رشدوہدایت اور تبلیغ اسلام کے لئے دور دراز مقامات پر جاکر قیام فرمایا ، چنانچہ حضرت سیف الدین یحییٰ الحموی (حامہ شریف شام)  ا  بن ظہیرالدین احمد  ابومسعود ابن ابونصر محمد (بغداد شریف عراق) ابن حضرت قاضی القضاۃ شیخ الاسلام والمسلمین عماد الدین ابوصالح نصر (بغداد شریف عراق) ابن تاج العراق  خلیفۃ الاعظم شیخ عبدالرزاق رضی اللہ تعالیٰ عنہم بغداد شریف  (عراق)سے حامہ شریف (شام) تشریف لے گئے ۔ ان کی ذات مرجع انام تھی ، یہاں انہوں نے قضاۃ کے منصب کو سرفرازی عطافرمائی۔
حضرت شیخ سیف الدین یحییٰ الحموی  کی چھٹی پشت میں حضرت  سیدنا شیخ عبدالغفور حسن جیلانی حموی (بغداد شریف) تھے۔ جن کے صاحبزادے  حضرت قدوۃ الابرار عمدۃ الاخیار سروگلستاں حسنی الحسینی ، نہال بوستاں بنی المدنی نوردیدہ حضرت محبوب سبحانی سرور سینہ سید عبدالقادر جیلانی، مظہر اسرار اشرفی ، منظر انظار شگرفی حاجی الحرمین الشریفین، مخاطب بہ خطاب نورالعین، زبدۃ الآفاق مرضی الاخلاق مہبط انوار مشیخت علی الاطلاق مخدوم الآفاقشیخ الاسلام والمسلمین الحافظ القاری  مولانا ابوالحسن سید عبدالرزاق نورالعین الحسنی الحسینی الحموی کچھوچھوی  رضی اللہ عنہ تھے۔
مکتوبات اشرفی میں آپ رضی اللہ عنہ نے اپنا نسب نامہ تحریر فرمایا ہے۔

منقبت سید حاجی الحرمین سید عبدالرزاق نررالعین اشرفی

منقبت
خلیفۂ اشرف العلماء حضرت علامہ محمد عمر ارشدی اشؔرفی (محمد میاں)  بلرامپوری  مدظلہ العالی والنورانی
بڑی سرکار عالی  ہے شہ نورالعین آقا کی
بشر ہیں جن غلامی میں شہ نورالعین آقا کی

نہیں ثانی کوئی ملتا بعد از مخدوم سمنانی
بڑھا دی شان آقا نے شہ نورالعین آقا کی

خدا کی خاص رحمت ہیں عطائے مصطفی یہ ہیں
نہ ٹالی بات اس رب نے شہ نورالعین آقا کی

توجہ کی نظر ڈالی ولایت مل گئی اس کو
کرامت ہوگئی  ظاہر  شہ نورالعین آقا کی

سلامی آکے دیتے ہیں اولیاء اللہ بھی در پر
غلامی کی ہے شاہوں نے شہ نورالعین آقا کی

مجمع البحرین کے ساقی سخاوت کے دھنی یہ ہیں
ہے نسبت قادری چشتی شہ نورالعین آقا کی

ارشؔدی کو مل گیا یہ در طفیل اشرف العلماء
نسبت مل گئی اس کو شہ نورالعین آقا کی


 

Sunday, 20 December 2015

حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی اشعری الشافعی علیہ الرحمہ کے بہنوئی شاہ ابوسعید المظفر کوکبری المعروف شاہ اربل علیہ الرحمہ کا جشنِ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم


حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی  اشعری الشافعی علیہ الرحمہ
اور
جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم
فاطمی خلافت  میں رائج  بری رسومات کو اور شخصی میلاد کو ختم کرکے مجاہد اسلام  ملک الناصر حضرت الحافظ القاری  مولانا سلطان صلاح الدین ایوبی  اشعری الشافعی رحمۃ اللہ علیہ نے صرف اورصرف  میلاد مصطفیٰ علیہ التحیہ والثنا کا انعقاد رائج ٹھہرایا اور صوفیا ء کے لئے خانقاہوں کی تعمیر کی ۔ (المدائح النبویہ  صفحہ 100 الدکتور محمود علی مکی)
حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی  اشعری الشافعی علیہ الرحمہ کے بہنوئی
شاہ ابوسعید المظفر کوکبری المعروف شاہ اربل  علیہ الرحمہ
کا
جشنِ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم
..................................
شاہ ابوسعید المظفر (متوفی  630ہجری) عظیم فاتح سلطان صلاح الدین ایوبی (532۔ 589ہجری / 1138۔ 1193عیسوی) کے بہنوئی تھے۔ سلطان کی حقیقی ہمشیرہ ربیعہ خاتون ملک ابو سعید المظفر کے عقد میں تھیں اور سلطان بادشاہ سے بغایت درجہ محبت رکھتے تھے۔ وہ دونوں خدمتِ اسلام میں ایک دوسرے کے ساتھ دل و جان سے شریک تھے۔ بادشاہ خادمِ اسلام ہونے کے باوصف بہت متقی، پرہیزگار اور فیاض واقع ہوئے تھے۔ بادشاہ کا عظیم دینی و روحانی مقام اور خدمتِ اسلام کی تڑپ دیکھ کر ہی سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنی ہمشیرہ ’ حضرت ربیعہ خاتون‘ کی شادی ان سے کی تھی۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کے حوالے سے ملک ابو سعید المظفرکا یہ تعارف کرانے کے بعد امام ابن کثیر نے تین چار سطور میں موصوف کے سیرت وکردار، تقویٰ و پرہیزگاری اور دریا دلی پر روشنی ڈالی ہے اور میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے تفصیلات شرح و بسط کے ساتھ رقم کی ہیں۔ انہوں نے اس موضوع پر بالتفصیل لکھا ہے کہ بادشاہ کس جوش و جذبہ اور مسرت و سرور سے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقریب کا اہتمام کیا کرتا تھا۔
 امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ  شاہ مظفر ابو سعید کو کبری بن زین الدین علی بن تبکتکین ایک سخی، عظیم سردار اور بزرگ بادشاہ تھا، جس نے اپنے بعد اچھی یادگاریں چھوڑیں۔ اس نے قاسیون کے دامن میں جامع مظفری تعمیر کروائی۔ وہ برزہ کے پانی کو اس کی طرف لانا چاہتا تھا تو معظم نے اسے اس کام سے یہ کہہ کر روک دیا کہ وہ سفوح کے مقام پر مسلمانوں کے قبرستان سے گزرے گا۔ وہ ماہ ربیع الاول میں میلاد مناتا تھا اور عظیم الشان محفلِ میلاد منعقد کرتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بہادر، دلیر، حملہ آور، جری، دانا، عالم اور عادل بھی تھا۔ اللہ تعالیٰ اس پر رحمت فرمائے اور اسے بلند رتبہ عطا فرمائے۔
شیخ ابو الخطاب ابن دحیہ نے اس کے لیے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ایک کتاب لکھی اور اس کا نام ’’التنویر فی مولد البشیر والنذیر‘‘ رکھا۔ شاہ نے اس تصنیف پر اُسے ایک ہزار دینار انعام دیا۔ اس کی حکومت حکومتِ صلاحیہ کے زمانے تک رہی، اس نے عکا کا محاصرہ کیا اور اس سال تک وہ قابلِ تعریف سیرت و کردار اور قابلِ تعریف دل کا آدمی تھا۔
سبط نے بیان کیا ہے کہ مظفر کے دستر خوانِ میلاد پر حاضر ہونے والے ایک شخص کا بیان ہے کہ اس میں پانچ ہزار بھنے ہوئے بکرے، دس ہزار مرغیاں، ایک لاکھ مٹی کے دودھ سے بھرے پیالے اور تیس ہزار مٹھائی کے تھال ہوتے تھے۔‘‘
1.                 ابن کثیر ، البدایہ والنہایہ جلد 9 صفحہ 18
2.              محبی ، خلاصۃ الاثر فی اعیان القرن الحادی عشر جلد 3 صفحہ 233
3.              سیوطی ، حسن المقصد فی عمل المولد صفحہ 42-44
4.              سیوطی ، الحاوی للفتاویٰ صفحہ 200
5.              احمد بن زینی دحلان ، السیرۃ النبویہ جلد 1 صفحہ 53-54
اِس کے بعد امام ابن کثیر کی عبارت ملاحظہ فرمائیں :
 میلاد کے موقع پر اُس کے پاس بڑے بڑے علماء اور صوفیاء حاضر ہوتے تھے، وہ انہیں خلعتیں پہناتا اور عطیات پیش کرتا تھا اور صوفیاء کے لیے ظہر سے عصر تک سماع کراتا تھا اور خود بھی ان کے ساتھ رقص کرتا تھا۔ ہر خاص و عام کے لیے ایک دارِ ضیافت تھا اور وہ حرمین شریفین و دیگر علاقوں کے لیے صدقات دیتا تھا اور ہر سال بہت سے قیدیوں کو فرنگیوں سے چھڑاتا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس نے ان کے ہاتھ سے ساٹھ ہزار قیدیوں کو رہا کرایا۔
 اس کی بیوی ربیعہ خاتون بنت ایوب کہتی ہے کہ اس کے ساتھ میرا نکاح میرے  حضرت بھائی صلاح الدین ایوبی اشعری الشافعی علیہ الرحمہ  نے کرایا تھا۔ اس خاتون کا بیان ہے کہ شاہ کی قمیص پانچ دراہم کے برابر بھی نہ ہوتی تھی۔ پس میں نے اسے اس بارے میں سوال کیا تو وہ کہنے لگے : میرا پانچ درہم کے کپڑے کو پہننا اور باقی کو صدقہ کر دینا اس بات سے بہتر ہے کہ میں قیمتی کپڑا پہنوں اور فقراء اور مساکین کو چھوڑ دوں اور وہ ہر سال محفل میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تین لاکھ دینار اور مہمان نوازی پر ایک لاکھ دینار اور حرمین شریفین اور حجاز کے راستے میں پانی پر خفیہ صدقات کے علاوہ تیس ہزار دینار خرچ کرتا تھا، رحمہ اﷲ تعالی۔ اس کی وفات قلعہ اِربل میں ہوئی اور اس نے وصیت کی کہ اسے مکہ لے جایا جائے، مگر ایسا نہ ہو سکا اور اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اِجتماع گاہ میں دفن کیا گیا۔‘‘
حوالاجات
1.                 ابن کثیر ، البدایہ والنہایہ جلد 9 صفحہ 18
2.              سیوطی ، حسن المقصد فی عمل المولد صفحہ 44
3.              سیوطی ، الحاوی للفتاوی 200
4.              صالحی ، سبل الھدیٰ و الرشاد فی سیرۃ خیرالعباد صلی اللہ علیہ وسلم جلد 1 صفحہ 362-363
5.              نبہانی ، حجۃ اللہ علی العالمین فی معجزات سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم صفحہ 236
6.               دفیات الاعیان  صفحہ 536-540
7.             البدایہ والنہایہ  جلد 13 صفحہ 147
8.              العبر فی خبر من غبر  جلد 2 صفحہ 224
9.               تاریخ الاسلام صفحہ 402-405
10.          سیر اعلاء والنبلاء جلد 16 صفحہ 257
11.             آثار البلاد واخبار العباد صفحہ 290
12.          شذرت الذہب  جلد 5 صفحہ 140
13.          البراہین الجلیہ  صفحہ 92
14.          الفتح القسی فی الفتح القدسی صفحہ 51
15.          مراۃ الزمان صفحہ 392-393
16.           کتاب الروضتین صفحہ جلد 3-9191
17.         العسجد السبوک والجواہر المحکوک  جلد1 صفحہ 492
18.          التکملۃ  لوفیات النقلہ  جلد 3 صفحہ 354
19.           دول الاسلام صفحہ 341
20.        الباعث صفحہ 36