Friday, 1 January 2016

سلطان صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ قسط 6


قبۃ الصخرہ
اموی خلیفہ عبد الملک (685ء تا 705ء) نے قبۃ الصخرہ کی تعمیر مکمل کی اور مامون الرشید اور معتصم کے زمانے میں اس کی تجدید ہوئی- مشہور مسلمان جغرافیہ نگار مقدسی یروشلم میں 375ء میں پیدا ہوا تھا، وہ قبۃ الصخرہ کے بارے میں لکھتا ہے ’’یہ ایک ہشت پہلو عمارت ہے- اس کے چار دروازے ہیں جن تک سیڑھیوں کے ذریعے پہنچا جاتا ہے۔
 اندرونی حصہ تین ہم مرکز والانوں میں منقسم ہے جن کے ستون سنگ مرمر کے ہیں۔ اس کے وسط میں صخرہ ہے اور اس کے نیچے غار ہے جس میں ستر آدمی سما سکتے ہیں- صخرہ کے گرد ستونوں کا حلقہ اسے باقی حصوں سے جدا کرتا ہے، اس کے اوپر ایک دریچے دار ڈھولنا ایک خوبصورت گنبد کو اٹھائے ہوئے ہے- گنبد کی چھت تک بندی 100 باع (سواسو گز) ہے- گنبد لکڑی کے تین چوکھٹوں کا بنا ہوا ہے- نیچے والے پر سنہری تانبا چڑھا ہوا ہے، دوسرا لوہے کی سلاخوں کا ہے اور تیسرا لکڑی کا، جس پر دھات کے پترے چڑھے ہوئے ہیں۔
معراج کی رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس سے قبۃ الصخرہ تشریف لے گئے اس لئے حدیث شریف میں وارد ہو اکہ صخرہ بیت المقدس جنت کے پتھروں سے ہے۔ اسی پتھر پر حضور سرورکائنات ﷺ کے قدم مبارک کا نشان موجود ہے۔

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دنیائے عالم کا کوئی ایسا میٹھا پانی نہیں جسے اس صخرۂ بیت المقدس سے تعلق نہ ہویعنی تمام روئے زمین کے چشموں کا پانی اسی صخرہ سے جاتا ہے یہ صخرہ (پتھر) اللہ تعالیٰ کے عجائبات قدرت کا ایک عجوبہ ہے۔ (بیت المقد س صفحہ 44)
اس پتھر کے نیچے ایک غار ہے جو دوردور تک پھیلی ہوئی ہے اور وہ پتھر زمین وآسمان کے درمیان لٹکا ہوا ہے۔ چنانچہ حضرت امام ابن عربی نے شرح مؤطا میں لکھا ہے کہ مجھے خیال ہوا کہ میں اسی پتھرکے نیچے سے گزروں لیکن اس کی ہیبت سے اس کے نیچے سے نہ گزر سکا اس خطرہ سے کہ شاید وہ میرے گناہوں کی نحوست سے میرے اوپر گر جائے۔ پھر ایک مدت کے بعد جرأت کرکےاس کے نیچے سے گزرا توبڑے عجائبات نظر آئی منجملہ اس کے ایک یہ تھا کہ مجھے ہر طرف سے چلتا ہوا نظرآیا باوجود اس کے کہ اس کا کوئی ٹکڑا زمین سے متصل نہ تھا بلکہ اس کے اپنے بعض ٹکڑے اس سے بہت جد ا نظر آتے تھے۔

مسجد اقصٰی اور قبۃ الصخرہ
مسجد اقصی کے نام کا اطلاق پورے حرم قدسی پر ہوتا تھا جس میں سب عمارتیں جن میں اہم ترین قبۃ الصخرہ ہے جواسلامی طرز تعمیر کے شاندار نمونوں میں شامل ہے ۔ تاہم آجکل یہ نام حرم کے جنوبی جانب والی بڑی مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔
وہ مسجد جو کہ نماز کی جگہ ہے وہ قبۃ الصخرہ نہیں، لیکن آج کل قبہ کی تصاویر پھیلنے کی بنا پر اکثر مسلمان اسے ہی مسجد اقصیٰ خیال کرتے ہيں حالانکہ فی الواقع ایسی کوئی بات نہیں مسجد تو بڑے صحن کے جنوبی حصہ میں اور قبہ صحن کے وسط میں ایک اونچی جگہ پر واقع ہے۔

ارض بیت المقد س کے مشہور مزارات
حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام  (مسکن لہیا  ، مزارالخلیل حبرون) 2۔حضرت سیدنا اسحاق علیہ السلام (مزارالخلیل)  3۔حضرت سیدنا یعقوب علیہ السلام (مسکن کنعان) 4۔ حضرت سیدنا نوح علیہ السلام ( مزاربعلبک) 5۔ حضرت سیدنا  ہود علیہ السلام 6۔ حضرت  سیدنا عزیر علیہ السلام (اعبلین) 7۔ حضرت  سیدناسلیمان علیہ السلام( بیت اللحم) 8.سموئیل نبی (مزار خبیب) 9۔ حضرت سیدنا داؤد علیہ السلام ( بیت اللحم مسکن) 10. یوسع نبی  (مسکن جریکو، مزارصرافہ) 11. حضرت سیدنا لوط علیہ السلام ( مسکن سدوم مزار نزد الخلیل) 12.حضرت سیدنا الیاس علیہ السلام ( مزار بقاع کلب) 13.حضرت سیدنا ایوب علیہ السلام ( مسکن حوران) 14. حضرت سیدنا شعیب علیہ السلام (مزار کوہ حطین) 15. حضرت سیدنا یونس علیہ السلام ( مسکن حوران ، مزارجلجول) 16. حضرت سیدنا صالح علیہ السلام (مزارقنسرین) 17۔ حضرت سیدنا زکریا علیہ السلام   و 18۔ حضرت سیدنا ہارون علیہ السلام ( مزار سبسطیہ) 19۔ حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام (مسکن سینا مصر) 20۔ حضرت سیدنا ہارون علیہ السلام ( مزار کوہ ہود) 21۔ حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام (مسکن بیت اللحم لدہ) 22۔ حضرت  سیدتناسارہ زوجہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ  23۔ حضرت رابقہ زوجہ یعقوب علیہ السلام(مزار الخلیل) 24۔ یہودا بن یعقوب علیہ السلام (مزار رومہ ،طبریہ) 25۔ راحیل والدہ حضرت سیدنا یوسف علیہ السلام (مزاربیت اللحم) 26۔ صفورہ بنت شعیب علیہ السلام (مزار کوہ حطین) 27۔ والدہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام (مزارارہد عکہ) 28۔ مریم والدہ حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام (مزاربیت المقدس) سیدتناام کلثوم زوجہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم (راویہ، دمشق) حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  (مزارطبریہ ) حضرت سیدنا عبیدہ  بن جراح رضی اللہ عنہ ۔
 انکے علاوہ اور بھی بہت مزارات ہیں صرف نمومے کے طور پر چند اسمائے مبارکہ لکھے ہیں۔

سلطان صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ قسط 5

بیت المقدس کیا ہے؟؟؟
بیت المقدس (Temple in Jerusalem یا Holy Temple) (عبرانی: בֵּית - הַמִּקְדָּשׁ، جدید عبرانی: Bet HaMikdash / بیت ہمقدش؛ طبری: Beṯ HamMiqdāš؛ اشکنازی: Beis HaMikdosh; عربی: بيت القدس / بيت المقدس) سے مرادہیکل سلیمانی ہے جو کہ قدیم یروشلم میں واقع تھا جو کہ موجودہ مسجد اقصٰی اور قبۃ الصخرۃ کا مقام ہے۔ "بیت المقدس"سے مراد وہ "مبارک گھر" یا ایسا گھر ہے جس کے ذریعے گناہوں سے پاک ہوا جاتا ہے۔ پہلی صدی ق م میں جب رومیوں نے یروشلم پر قبضہ کیا تو انہوں نے اسے ایلیا کا نام دیا تھا۔ (قبلۂ اول اور عالم اسلام)

مسْجِد اَلْاَقْصٰی
 ٭ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اّول تھا۔ سترہ ماہ تک اس کی طرف منہ کرکے نمازیں پڑھی جاتی رہیں۔
٭  مسجد اقصیٰ ہی وہ جگہ ہے جہاں سے اللہ تعالیٰ اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج پر لے گئے۔ ٭  مسجد اقصیٰ وہ مسجد ہے جس کا تذکرہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب قرآن کریم میں کیا ہے۔ 
٭ بیت المقدس فلسطین میں ہے اور یہ وہ  مقدس سرزمین ہے جہاں جلیل القدر انبیاء کا ورودہوا۔
٭  فلسطین بیت المقدس کو مسلمانوں میں سے سب سے پہلے حضرت عمرنے فتح کیا۔
٭ احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام (مکۃ المکرمہ )، مسجد نبوی (مدینۃ المنورہ) اور مسجد اقصیٰ (فلسطین)  شامل ہیں۔
بیت المقدس یا القدس فلسطین کے وسط میں واقع ہے جو مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے نزدیک انتہائی مقدس ہے یہاں مسلمانوں کا قبلہ اول مسجد اقصیٰ اورقبۃ الصخرہ واقع ہیں۔ اسے یورپی زبانوں میں یروشلم کہتے ہیں۔
سب سے پہلے حضرت ابراہیم  علیہ السلام اور ان کے بھتیجے حضرت لوط  علیہ السلام نے عراق سے برکت والی سرزمین یعنی بیت المقدس کی طرف ہجرت کی تھی۔ 620عیسوی میں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  حضرت جبرئیل علیہ السلام  کی راہنمائی میں مکہ سے بیت المقدس پہونچے اور پھر معراج آسمانی کے لیے تشریف لے گئے۔ مسجد اقصیٰ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد مقدس ترین مقام ہے۔
مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصی یا الحرم القدس الشریف کہتے ہیں- یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں پانچ ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور مسجد اقصی میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔
قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالی نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:۔ 

سُبْحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الۡاَقْصَا الَّذِیۡ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الْبَصِیۡرُ ﴿۱﴾
 ترجمہ کنزالایمان : پاکی ہے اسے (منزّہ ہے اس کی ذات ہر عیب و نقص سے)  جو اپنے بندے کو راتوں رات (محبوب محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) لے گیا (شبِ معراج)مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک(جس کا فاصلہ چالیس منزل یعنی سوا مہینہ سے زیادہ کی راہ ہے)جس کے گرداگرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں بیشک وہ سنتا دیکھتا ہے۔
 سیدالتفاسیر المعروف بہ تفسیر اشرفی : کہ برکتیں رکھی ہیں ہم نے گرداگرد کے تحت  علامہ  رئیس المحققین سید المتکلمین شیخ الاسلام والمسلمین حضرت علامہ سید محمد مدنی میاں اشرفی الجیلانی کچھوچھوی مدظلہ العالی فرماتے ہیں کہ دینی برکت بھی اور دنیاوی برکت بھی ، دینی برکت یہ ہے کہ ہم نے ملک شام کی اس زمین کو وحی اترنے کی جگہ اور انبیاء علیہم السلام  کی عبادت گاہ بنایا  اور دنیوی برکت یہ ہے کہ وہ زمین درختوں اور نہروں سے گھری ہوئی ہے،میوؤں کی کثرت ، فراخی معشیت اور اززانی کے سبب سے مالامال ہے۔ ( سید التفاسیرالمعروف بہ تفسیر اشرفی  جلد5   صفحہ 236)
حضرت یعقوب نے وحی الہی کے مطابق مسجد بیت المقدس (مسجد اقصی) کی بنیاد ڈالی اور اس کی وجہ سے بیت المقدس آباد ہوا- پھر عرصہ دراز کے بعد حضرت سلیمان (961 ق م) کے حکم سے مسجد اور شہر کی تعمیر اور تجدید کی گئی- اسی لیے یہودی مسجد بیت المقدس کو ہیکل سلیمانی کہتے تھے-

اسلامی عہد میں مسجد اقصیٰ کی تعمیر
137ق م میں رومی شہنشہاہ ہیڈرین نے یہودیوں کو بیت المقدس اور فلسطین سے جلا وطن کردیا- چوتھی صدی عیسوی میں رومیوں نے عیسائیت قبول کرلی اور بیت المقدس میں گرجے تعمیر کیے- جب نبی کریم معراج کو جاتے ہوئے بیت المقدس پہنچے اس وقت یہاں کوئی ہیکل نہ تھا، چنانچہ قرآن میں مسجد کی جگہ ہی کو مسجد اقصی کہا گیا- 2ہجری/624 عیسوی تک بیت المقدس ہی مسلمانوں کا قبلہ تھا، حتی کہ حکم الہی کے مطابق کعبہ (مکہ) کو قبلہ قرار دیا گیا- 17ہجری یعنی 639عیسوی میں عہد فاروقی میں بیت المقدس پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا-
جب خلیفہ دوم  امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو یروشلم کی چابیاں دی گئیں تو اہل یروشلم نے خلیفہ کا استقبال نہایت جوش و خروش سے کیا- شہر میں داخل ہونے کے بعد خلیفہ دوم نے شکرانے کے نوافل کی ادائیگی کیلئے اہل علاقہ سے جگہ کی بابت دریافت کیا لوگوں نے آپ کی توجہ ایک گرجا گھر کی طرف دلائی لیکن حضرت عمر نے جو جواب دیا وہ قیامت تک اسلام کے ’’فلسفہ برداشت‘‘ کی روشن مثال ہے- آپ نے فرمایا کہ میں ہرگز گرجا میں نماز ادا نہیں کروں گا- اس وجہ سے آپ نے وہاں نماز ادا نہ کی- حضرت عمر نے اس جگہ چند دن قیام کیا اور مسلمانوں کیلئے بلند جگہ پر مسجد کی تعمیر کی۔


عیسائیوں کا قبضہ
11 صدی عیسوی کے اواخر میں جب عباسی خلافت کا شیرازہ بکھر رہا تھا اور سلجوق ترکمان باہم الجھے ہوئے تھے ۔ مسلمانوں کی مرکزیت کا انتشار کا شکار تھی ۔ عیسائیوں کی مشرقی اور مغربی کلیسا  متحد ہورہے تھے تاکہ بیت المقد س کو مسلمانوں سے چھینی جائے اوربالآخر وہ کامیاب ہوگئے اوربیت المقدس مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل کر عیسائیوں کے قبضہ میں آگیا ۔

سلطان صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ قسط 4

بچپن کا واقعہ
سلطان صلاح الدین ایوبی ابھی نوعمر ہی ہیں کہ ‘عیسائی فوجیں ”رہا“پر قبضہ کرکے مال واسباب لوٹ کر عورتوں کو پکڑ لے جاتی ہیں ۔یہ ظلم دیکھ کر یہ نوعمر صلاح الدین ایک ترکی بوڑھے کو لے کر سلطان عماد الدین زنگی کے پاس پہنچتے ہیں ۔عیسائیوں کے مظالم سے بادشاہ کو آگاہ کرتے ہیں ‘اس کی اسلامی حمیت اور غیرت کو بیدار کرتے ہیں اور رو رو کر مدد کے لیے فریاد کرتے ہیں۔
نیک دل بادشاہ کو ان حالات کا علم ہوتا ہے تو وہ تمام فوجیں جمع کرتا ہے ۔انہیں ”رہا“کے حالات سناتا اور جہاد پر ابھارتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ ”کل صبح میری تلوار رہا کے قلعے پر لہرائے گی ‘تم میں سے کون میرا ساتھ دے گا ؟“ یہ اعلان سن کرتمام فوجی حیران رہ جاتے ہیں کہ یہاں سے ”رہا“۹۰ میل کی دوری پر ہے ‘راتوں رات وہاں کیسے پہنچا جا سکتا ہے ؟یہ تو کسی طرح ممکن نہیں ۔تمام فوجی ابھی غور ہی کررہے تھے کہ ایک نو عمر لڑکے کی آواز گونجتی ہے ”ہم بادشاہ کا ساتھ دیں گے۔“ لوگوں نے سراٹھاکر دیکھا تو ایک نوعمر لڑکا کھڑاتھا‘ بعضوں نے فقرے چست کیے کہ ”جاؤ میاں کھیلوکودو! یہ جنگ ہے بچوں کا کھیل نہیں ۔“سلطان نے یہ فقرے سنے تو غصے سے چہرہ سرخ ہوگیا بولا:”یہ بچہ سچ کہتا ہے‘اس کی صورت بتاتی ہے کہ یہ کل میرا ساتھ دے گا ۔یہی وہ بچہ ہے جو ”رہا“سے میرے پاس فریاد لے کر آیاہے ‘اس کا نام صلاح الدین ہے ۔“ یہ سن کر فوجیوں کو غیرت آتی ہےسب تیار ہوجاتے ہیں اور اگلے روز دوپہر تک رہا پہنچ کر حملہ کردیا ۔گھمسان کی جنگ ہوئی ‘عیسائی سپہ سالاربڑی آن وبان کے ساتھ مقابلے کے لیے نکلا ‘سلطان نے اس پر کاری ضرب لگائی مگر لوہے کی زرہ نے وار کو بے اثر بنادیا ،عیسائی سپہ سالار نے پلٹ کر سلطان پر حملہ کیا اور نیزہ تان کر سلطان کی طرف پھینکنا ہی چاہتا ہے کہ صلاح الدین کی تلوار فضامیں بجلی کی طرح چمک اٹھی اور زرہ کے کٹے ہوئے حصہ پر گر کر عیسائی سپہ سالار کے دوٹکڑے کرکے رکھ دیئے ۔عیسائی سپہ سالار کے موت کے گھاٹ اترتے ہی عیسائی فوج بھاگ کھڑی ہوئی اور ”رہا“پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا۔
 یادرہے کہ داستان ایمان فروشوں کی التمش کا سلطان صلاح الدین ایوبی کے زمانے پر لکھا ہوا بہت مشہوراردو ادبی ناول ہے۔التمش  صاحب نے جن مؤرخوں کی تحریروں سے تفصیلی واقعات حاصل کئے ہیں ۔ ان میں ہیرلڈلیمب، لین پول، ولیم آرٹ ٹائر ، قاضی بہاء الدین شداد، محمد فریدابوحدید، اینٹنی ویسٹ، واقدی، ہتّی،جنرل محمد اکبر خاں، رنگروٹ،موئیر،سراج الدین، اسدالاسدی،  الاطہر، سسٹن،بالڈون اور چند گمنام تاریخ داں بھی شامل ہیں۔
التمش  صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت نورالدین زنگی علیہ الرحمۃ نے اسے (صلاح الدین)  جنگی چالیں سکھائیں  ملک کے انتظامات کے سبق دیئے اور ڈپلومیسی میں مہارت دی ۔ اس تعلیم و تربیت نے  اس کے اندر وہ جذبہ پیدا کردیا کہ جس نے آگے چل کر اسے صلیبیوں کے لئے بجلی بنادیا ۔ اوائل جوانی میں  ہی اس نے وہ ذہانت اور اہلیت حاصل کرلی تھی جو ایک سالار اعظم کے لئے ضروری ہوتی ہے۔
حضرت نورالدین زنگی علیہ الرحمہ (استاذصلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ) کون تھے اور کس عقید ے تعلق رکھتے تھےاسلئے بہتر یہ ہے کہ پہلے ان کے بارے میں بتایا جائے تاکہ علم میں  مزید اضافہ ہو ....
سلطان العادل حضرت نورالدین  محمودزنگی علیہ الرحمہ
ملک عادل نور الدین ابو القاسم محمود ابن الملک الاتا بک قسیم الدولہ  عماد الدین ابی سعید  زنگی الملقب بالشہید بن الملک آقسنقر الاتابک بقسیم الدولہ الترکی السلجوقی مولاہم ۔آپ 17 شوال 511ہجری اتوار کے روز طلوع آفتاب کے وقت حلب میں پیدا ہوئے اور اپنے والدمحترم کی کفالت میں پرورش پائی جو حلب ، موصل اور دیگربہت سے بڑے بڑے شہروں کے حکمراں تھے اور قراٰن کریم ، شہسواری اور تیر اندازی سیکھی اور آپ شجاع ، بلند ہمت ، نیک نیت اور بڑے عزت داراور واضح دیندار آدمی تھے۔آپ حنفی المذہب تھے اور علماء اور فقراء سے بے حد محبت کرتے تھے اور ان کا اکرام و احترام کرتے تھے۔  (البدایہ والنہایہ جلد12 صفحہ 360)
 والد کے انتقال کے بعد آپ نےحکومت سنبھالی اور  اپنے  ملک میں سنیت کو اجاگر کیا اور بدعت کو ختم کیا اور حی علی الصلواۃ حی علی الفلاح کی آذان دینے کا حکم دیا ، حالانکہ آپ کے باپ اور دادا کی حکومتوں میں ان دونوں کلمات سے آذان نہ دی جاتی تھی ، صرف حی علی خیر العمل کی آذان دی جاتی تھی کیونکہ رفض کا شعار وہاں نمایا ں تھا۔ (ایضاً)
حضرت نور الدین زنگی بہادری میں اپنے باپ کی طرح تھے۔ واقعہ  بہت مشہور ہےکہ  ایک مرتبہ جنگ میں نورالدین کو  دشمنوں کی صف میں بار بار گھستے دیکھ کر اس کے ایک مصاحب قطب الدین نے کہا : ”اے ہمارے بادشاہ! اپنے آپ کو امتحان میں نہ ڈالئے اگر آپ مارے گئے تو دشمن اس ملک کو فتح کرلیں گے اور مسلمانوں کی حالت تباہ ہوجائے گی“۔ نورالدین نے یہ بات سنی تو اس پر بہت ناراض ہوا اور کہا : ”قطب الدین! زبان کو روکو، تم اللہ کے حضور گستاخی کررہے ہو۔ مجھ سے پہلے اس دین اور ملک کا محافظ اللہ کے سوا کون تھا؟“۔
آپ نے عیسائیوں سے بیت المقدس واپس لینے کے لیے پہلے ایک مضبوط حکومت قائم کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے گرد و نواح کی چھوٹی چھوٹی مسلمان حکومتوں کو ختم کرکے ان کو اپنی مملکت میں شامل کرلیا۔ شروع میں نورالدین کا دارالحکومت حلب تھا۔ 549ہجری میں اس نے دمشق پر قبضہ کرکے اسے دارالحکومت قرار دیا۔ اس نے صلیبی ریاست انطاکیہ پر حملے کرکے کئی قلعوں پر قبضہ کرلیا اور بعد ازاں ریاست ایڈیسا پر مسلمانوں کا قبضہ ختم کرنے کے لیے عیسائیوں کی کوشش کو بھی ناکام بنا دیا۔ دوسری صلیبی جنگ کے دوران دمشق پر قبضہ کرنے کی کوششیں بھی سیف الدین غازی اور معین الدین کی مدد سے ناکام بنا دیں اور بیت المقدس سے عیسائیوں کو نکالنے کی راہ ہموار کردی۔

سلطان صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ قسط 3

فیضان غوث الاعظم
ایک بار حضرت نجم الدین ایوب  بغداد معلیٰ حاضر ہوکر اپنے دس سالہ بیٹے حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کو غوث الاعظم شیخ عبدالقادرجیلانی رضی اللہ عنہ  کی خدمت بابرکت میں پیش کردیا اور عرض کی کہ یا سیدی  یا مرشدی ! اس بچے کے سرپر اپنا نورانی ہاتھ رکھ دیں اور اس کے لئے دعا فرمادیں کہ یہ اسلام کا عظیم مجاہد اور فاتح بنے ۔ چنا نچہ حضور غوث الاعظم نے اس بچے کے سر پر دست مبارک پھیرا اور دعا فرمائی اور پھر ارشاد فرمایا کہ " یہ بچہ تاریخ عالم کی ایک عظیم نامورشخصیت ہوگااور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ سے بہت بڑی اسلام کی فتح کرائے گا۔" (حیات المعظم فی مناقب سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ صفحہ 152- 154 )  و (اسلامی معلومات کا انسائیکلوپیڈیا  صفحہ 443)
چنانچہ پھر دنیا نے دیکھا کہ حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی جو سلطان نورالدین زنگی کی افواج میں ترقی پاکر جرنیل بنے اور پھر صلیبی جنگوں کے دوران سلطان نورالدین کی اچانک وفات کے بعد سلطان بنائے گئے اور پھر سلطان بن جا نے کے بعد حضرت سلطان صلاح الدین ایو بی نے عظیم کارنامے انجام دئے وہ تاریخ اسلام کا زریں باب ہیں۔یہ سب کچھ سید نا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی شان کرامت اور دعاؤں کا نتیجہ تھا۔
اسی طرح  جس زمانے میں سلطان صلاح الدین ایوبی شام میں فتوحات حاصل کررہے تھے اس وقت مسلم دنیا میں کوئی بھی ان کے پائے کا حکمراں نہیں تھا گوکہ حضرت سلطان شہاب الدین غوری علیہ الرحمہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہم عصر تھے مگر وہ ہندوستان میں فتوحات حاصل کررہے تھے ۔ وہ پہلے افغان مسلمان سپہ سالار تھے  جنہوں نے پرتھوی راج چوہان کو شکست دے کر دہلی پر پہلی اسلامی حکومت قائم کی ۔ آپ کا یہ دور سلطان الہند عطائے رسول خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری رضی اللہ عنہ کادور ہےاور خودسلطان غوری بھی حضرت خواجہ غریب نواز  سے فیض لیا کرتے تھے۔ (تاریخ اسلام)
مسلمان غازیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے جہاں ا ن کی جنگی فتوحات اور جنگی حکمت عملی کا ذکر ہوتاہے ، وہیں یہ پہلوبھی باربار ہمارے سامنے آتاہے کہ ان غازیوں کے شخصیت میں ایک پراسرارروحانی جہت بھی تھی ۔ یاد رہے کہ  حضرت نورالدین زنگی  علیہ الرحمہ کا حضور ﷺ سے قریبی روحانی تعلق تھا یہ حضور کافیضان تھا کہ پوری دنیا سے صرف انہی کو مدینہ منورہ کی مہم کے لئے منتخب کیاگیا چنانچہ اس کا ذکر  آگے کیا جائے گا۔یہ ایک غیرمعولی روحانی پہلو ہے کہ جس کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔وہ تمام مسلمان جرنیل ،غازی، اور حکمراں کہ جنہوں نے تاریخ میں نئے باب رقم کئے ۔ ان سب میں یہ پر اسرار روحانی پہلو نظر آتی ہے ۔اللہ اور اس کے رسول سے ان کا روحانی تعلق کبھی ظاہر ہوتاہے اور کبھی پوشیدہ ہی رہتاہے لیکن یہ پہلو اِ ن سب میں موجود ضرور ہوتا ہے۔یہی وہ عنصر ہے جوکہ ان کو پراسرار بناتا ہے اور یہ مافوق الفطرت وجود معلوم ہوتےہیں اور ایسے ایسے جنگی کارنامے انجام دیتےہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
یہ روحانی پہلو ہمیں غازی کے وجود میں نظر آتی ہےچاہے وہ امیر حمزہ ، حضرت عمر فاروق اعظم،  عمر بن عاص، قتیبہ بن مسلم، سعد بن ابی وقاص،  سعد بن زید ،عتبہ بن نافع، خالد بن ولید ،  سلطان نورالدین زنگی  الحنفی ، موسیٰ بن نصیر،عمادالدین زنگی ،سلطان صلاح الدین ایوبی ، طارق بن زیاد ، محمد بن قاسم ، سلطان محمد غزنوی الشافعی ، عمر المختار المالکی   ، عبدالقادر الجرائری المالکی ، عمر المختار المالکی ،ناصرالدین محمود ، یوسف بن تاشقین مالکی،  الپ ارسلان ،  سلطان محمد فاتح الحنفی ، اما م شامل الحنبلی نقشبدی ،الشیخ عزالدین قسام الشافعی ، خیرالدین باربروسہ وغیرہ بھی ایسے ہی پراسرار مجاہد تھے جن کی تلوار سے اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے دفاع کا کام لیا ہے اور ان کو یہ توفیق بخشی ہے حضور ﷺ کی خاص الخاص خدمت کرسکیں۔ اس کے بعد اس شخص کی خوش نصیبی میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی۔
جب قائد اپنے بلند مقام پر ہو کہ ان کے ہرکام کی نگرانی خود ارسول اعظم فرمارہے ہوں تو پھر قدرتی امر ہے کہ وہ اپنے پروں کے سائے میں ایسے شہباز فتح ہی ملے گی  ۔
یہاں پر ایک عجیب و غریب واقعہ رو نما ہوتا ہے ۔ سلطان کی فوج میں ہمیشہ بھاری تعداد میں امت مسلمہ کے علماء عظام  ،مشائخ کرام، درویش، فقراء اور صوفیاء شامل ہوا کرتے تھے اور ان کا کام دعائیں کرنا اورمجاہدین کے حوصلہ بڑھانا ہوتا تھا اور ضرورت پڑنے پر سلطان ان سے فتویٰ بھی لیا کرتے تھے ۔ لیکن یہ علماء ، مشائخ ،صوفیاء، فقراء اور درویش کبھی بھی خود تلوار ہاتھ میں لے کر جنگ نہیں کرتے تھے ان کے علم ، مقام اور مرتبے کی وجہ سے ان کو ایک الگ مقام حاصل تھا اور ان کا زیادہ تر وقت فوج کی اخلاقی و روحانی تربیت اور دعاؤں میں گزرتاتھا۔سلطان ایوبی  ان کا خاص خیال رکھتے تھے اور فوجیوں میں بھاری اکثریت حضور سیدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے تلامذہ کی تھی۔ جو علماء اور فضلاء تھے  اور باقی کچھ مدرسہ نظام الملک (جو حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی )کے مدرسےکے تھے  اور جو چیف ایڈوائزر (Chief Advisor) تھے جن کا نام امام موفق الدین ابن قدامہ  المقدسی الحنبلی ہیں وہ سیدناسرکار غوث الاعظم شیخ عبدالقادرجیلانی الحنبلی رضی اللہ عنہ کے شاگرد ، مرید اور خلیفہ ہیں ۔ یہ  جو تاریخ میں سنہرہ باب حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی نے رقم کی وہ روحانی فیض حضور سیدنا سرکار غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا  تھا۔

سلطان صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ قسط 2

تعلیم و تربیت
حضرت صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ تکریت کے ایک قلعہ میں پیدا ہوئے تھے، گو کہ ان کی تربیت مکمل فوجی ماحول میں ہوئی لیکن ان کی ہمیشہ کی ایک ہی خواہش تھی کہ وہ ایک عالم بنیں اور ہوتی بھی کیوں نہ کہ اس زمانے کے سب سے بہترین انسان نورالدین زنگی نے ان کی تربیت خود کی تھی۔آپ نے کم عمری ہی میں قرآن  کریم حفظ کر لیا تھا اور آپ خود اہلسنت و جماعت اورشافعی صوفی تھے۔
تاریخ اسلام میں  ہے کہ "شیرکو ہ اور صلاح الدین دونوں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے بڑی عقیدت رکھتے تھے ۔ صلاح الدین ایوبی نے شیعہ قاضیوں کو موقوف کرکے شافعی قضاۃ مامور کیا ۔ مدرسہ شافعیہ اور مدرسہ مالکیہ کی بنیاد رکھی ۔" (تاریخ اسلام جلد دوم صفحہ 722)
مزید آگے فرماتے ہیں کہ"صلاح الدین کی وجہ سے مصر میں دم بہ دم شیعیت کو تنزل اور سنی مذہب کو ترقی حاصل ہوئی۔"(ایضاً صفحہ 723)
یہ وہ وقت تھا جب عیسائی ایک بار پھر سے زور پکڑتے جا رہے تھے اور کوئی دن ایسا نہ تھا جب آپ ان کی فتوحات کی خبریں نہ سنتے ہوں۔ ان کی والدہ کا بیان ہے کہ جب آپ ان کے پیٹ میں تھے جو انہوں نے خواب دیکھا کہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ان کے اندر ہے۔
آپ  نےمدرسہ نظام الملک میں تعلیم حاصل کی  یا درہے کہ مشہور وزیر اعظم  نظام الملک طوسی دنیا ئے اسلام کے ایک سلطنت کے وزیر تھے  یہ مدرسہ انہوں نے قائم کیا  تھا جس میں  اسلامی تعلیم دی جاتی تھی اور بچوں کو اسلامی نظریات اور تاریخ سے بہر ور کیا جاتا تھا ۔  ( داستان ایمان فروشوں کی حصہ اول صفحہ 16)
حضرت علامہ نظام الملک خواجہ حسن طوسی رحمۃ اللہ علیہ (۱۰۱۷ تا۱۰۹۲ عیسوی)  بہت بڑے عالم و فاضل باصفا  اور باعمل تھے، علم و فن کے نہایت اعلیٰ درجہ کے قدر دان بھی، آپ نے تعلیم کی افادیت پر زور دیا اور اس کے لئے عملی طور پر بہت کام کیا ، آپ ملک شاہ سلجوقی کے وزیر اعظم تھے، حکومت میں آپ کا بڑا عمل دخل تھا اور آپ کے مشوروں کو بہت اہمیت دی جاتی تھی اور آپ کا تعلق بھی اسی دور سے تھا ۔ بلند پایہ، صوفی اور فلسفی  حجۃ الاسلام ابوحامد محمد غزالی الطوسی الصوفی الشافعی (1059-1111 عیسوی) کا تعلق اسی دور سے تھا۔عظیم مصلح غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ  470ہجری تا 561 ہجری بمطابق 1077-1166 عیسوی جوکہ سُنّی حنبلی طریقہ کے نہایت اہم صوفی شیخ (اور سلسلہ قادریہ  کے بانی ہیں بھی ) اسی دور سے تعلق رکھتے تھے۔ فارسی کے مشہور شاعرغیاث الدین ابوالفتح عمربن ابراہیم الخیام المروف عمر خیام اور محمد ابن محمد ابن حسین حسینی خطیبی بکری بلخی المعروف مولانا جلال الدین رومی تبریزی کا تعلق بھی اسی دور سے تھا۔       (ویکیپیڈیا  آزاد دارۃالمعارف)
پہلے پہلے مساجد میں مدارس کا کام ہوتا تھا، پھر چوتھی صدی ہجری میں سب سے پہلا مدرسہ علیحدہ عمارت میں قائم ہوا،مشہور مفکر عالم ناجی معروف لکھتے ہیں:
سب سے پہلے مدرسہ کا نام ”مدرسۃ الصادریہ “ تھا جس کی بنیاد شام میں ۳۵۰ہجری میں پڑی، پانچویں صدی ہجری میں مدرسہ صادریہ کے نہج پر کئی دوسرے مدارس قائم ہوئے جن میں قابل ذکر ”مدرسہ بیہقیہ “ اور مدرسہ سعدیہ ہیں جن کی بنیاد نیشاپور میں پڑی۔
( نشأة المدارس المستقلۃ فی الاسلام صفحہ 4-5)
 اس کے بعد اسلامی دنیا کا سب سے معروف و مقبول مدرسہ نظامیہ قائم ہوا،جس کو سلطان ارسلان سلجوقی کے علم دوست وزیراعظم نظام الملک خواجہ حسن طوسی نے قائم کیا۔ ( ایضاصفحہ 5)
تاریخ ابن خلدون میں ہے کہ "حضرت نظام الملک طوسی  علیہ الرحمہ نے دارالخلافت بغداد میں بہت بڑا مدرسہ بنوایا جس کا نا م نظامیہ تھا ۔ شیخ ابواسحاق شیزاری اس مدرس اعلیٰ تھے 476 ہجری میں انہوں نے وفات پائی ۔ تب موید الملک ابن نظام الملک نے شیخ ابواسحاق شیرازی  کی جگہ ابوسعید کو مامور کیا لیکن یہ تقرری نظام الملک کو نہ بھائی، امام ابو نصر صباغ صاحب کو یہ خدمت سپردکی اسی سنہ کی ماہ شعبان میں امام ابو نصر نے بھی اس دنیائے فانی کو چھوڑدیا ۔ تب نظام الملک نے ابو سعید کو 478 ہجری میں اس خدمت پر متعین کیا اس کے بعد شریف علوی، ابو القاسم دبوسی  نظامیہ کےصدر مقرر ہوئے ۔ 482 ہجری میں ان کا بھی انتقال ہوگیا ۔ ابو عبداللہ طہری اور قاضی عبدالوہاب شیرازی باری باری نظامیہ میں درس دنیے  لگے۔ 484 ہجری میں امام ابوحامد محمد غزالی ( علیہ الرحمہ) مسند درس و تدریس پر متمکن ہوئے جو ایک مدت تک اس خدمت مامور رہے ۔نظام الملک کے عہد وزارت میں تعلیم وتعلم کا بے حد چرچا ہوا چونکہ اس کا نتیجہ اچھا دکھتے تھے اس وجہ سے لوگوں کی توجہ علم دین کے حاصل کرنے کی طرف زیادہ تھی۔ (تاریخ ابن خلدون حصہ ہفتم صفحہ 41)

سلطان صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ قسط 1

خداوند بزرگ وبرتررحمن ورحیم کا ہم ناتواں پہ کروڑہا کروڑ احسان کہ جس نے ہمیں دولت ِ ایمان اوردامن نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم جیسی نعمت سے نوازا ۔ اللہ رب العزت جل جلالہ نے انسان کی بھلائی کے لئے انبیاء و رسل  کو مبعوث فرمایا ۔ ان پاکیزہ ہستیوں نے انسان کو خلائق لم یزل کی اطاعت وفرمابرداری کی دعوت دی ۔ انبیاء ورسل کی تشریف آوری کا یہ سلسلہ چلتا رہا اور خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پر ختم ہوگیا ۔ پھر دعوت اسلام کا کام امت محمد ی کے ذ مے آگیا ۔ مصطفوی پیغام کو عام کرنے کے لئے اللہ نے یکے بعد دیگر حضور پرنورغو ث الاعظم محبوب سبحانی الشیخ  محی الدین ابو محمد عبدالقادر الحسنی الحسینی الجیلانی رضی اللہ عنہ جیسی عظیم ہستی کو پیدا فرمائی جن کی  فیض کا جھلک الملك الناصر ابو المظفر صلاح الدين والدنيا يوسف بن ايوب بن شاذی بن مروان بن يعقوب الدُوينی التكريتی (532-589ہجری ،1138-1193 عیسوی)   ہیں۔
حیات المعظم فی مناقب سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ میں نقل کیا گیا ہے کہ نائب مصطفے تاجداربغداد پیر لاثانی، قطب ربانی محبوب سبحانی سیدنا حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ  اپنے چند مریدین کے ساتھ عراق کے کردستان علاقہ میں تشریف لے گئے۔ یہ پوری بستی کئی لاکھ افراد پر مشتمل تھی اور ان کا مذہب عیسائیت تھا ۔ طبیعت کے لحاظ سے بہت سخت قوم تھی ۔ اسلام کا پیغام آنے کے باوجود سینکڑوں برس گزر جانے کے بعد اس قوم کے لوگ عیسائیت پر قائم تھے۔ آپ نے ان کے مرکز میں پہونچ کر ان کے بڑے بڑے سرداران قبائل کو دین اسلام کی دعوت دی۔ آپ کی اس دعوت اسلام پر ان کاایک پادری سامنے آیا اور وہ اس قوم کا بہت بڑا عالم مانا جاتا تھا ۔ وہ کچھ عرصہ بغداد شریف اور مصر میں بھی رہ چکا تھا ۔اس نے مسلمان علمائے کرام سے کچھ حدیثیں بھی سن رکھی تھی ۔ آپ سے مخاطب ہوکر کہنے لگاکہ کیا آپ کےنبی(صلی اللہ علیہ والہ و اصحابہ وسلم) کا یہ فرمان ہے:
علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل ترجمہ: میر ی امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہوں گے۔
آپ  رضی اللہ عنہ نے فرمایا :کیا تم کو اس میں کوئی شک ہے؟
وہ پادری کہنے لگا:حضرت عیسیٰ روح اللہ علی نبینا وعلیہ الصلواۃ والسلام جو اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے ۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ معجزہ دیا تھا کہ وہ ٹھوکر سے مردہ کو زندہ کردیتے تھے۔ اب  اس حدیث کی رو سے آپ کے نبی  (صلی اللہ علیہ والہ و اصحابہ وسلم) کی امت کے علمائے کرام میں سے آپ ہیں۔ لہذا بنی اسرائیل کے پیغمبروں کی طرح ہوئے ۔ وہ تو ٹھوکر سے مردہ زندہ کردیتے تھے تو ہم تو جب جانیں کہ آپ بھی مردہ کو زندہ کرکے دکھائیں۔
آپ نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ ہمارے آقا سرور کائنات (صلی اللہ علیہ والہ و اصحابہ وسلم) کی امت کے علمائے ربانیین یعنی اولیا ء اللہ کی شان یہی ہے ،۔ یہ تو کوئی مشکل بات نہیں ۔ تم کون سے مردے کو زندہ دیکھنا چاہتے ہو؟
چنانچہ قریب ہی ایک قبرستان کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ اس مردہ کو زندہ دیکھنا چاہتے ہیں ۔ آپ اس قبر کے قریب تشریف لے گئے اور آپ نے اس قبر کو ٹھوکر مارتے ہوئے ارشاد فرمایا :
قم باذن اللہ ۔ "اللہ کے حکم سے اٹھ"!
قبر شق ہوگئی اور اس میں سے ایک شخص باہر نکلا اور نکلتے ہی سلام کیا اور پوچھا کیا قیامت ہوگئی ؟
سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں ابھی قیامت نہیں ہوئی بلکہ تمہیں اٹھایا گیا ہے ۔ تم اپنے بارے میں بتاؤ۔
اس نے کہا : میں حضرت دانیال علیہ السلام کا امتی ہوں اور میں ان کے ماننےوالوں میں سے تھا ۔ میراحال اچھا ہےاور اس دین اسلا م ہی برحق ہے اور فلاح و کامرانی اورنجات کا دارومداراسی دین کو قبول کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے میں ہے۔
سرکارغوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اب تم واپس جاؤ، تمہیں قیامت میں پھر اٹھایا جائے گا۔ یہ عظیم کرامت دیکھ کر وہاں موجود تمام کردوں نے اور اس عالم نے اسلام قبول کرلیا اور اس طرح کرد قبائل نوراسلام سے منور ہوگئے۔ پھریہ لوگ اسلامی لشکر میں شامل ہوگئے ۔
مصنف حیات المعظم علیہ الرحمہ  مزید آگے فرماتے ہیں کہ " اس کے بعد اس قوم میں سے ایسے مجاہدین پیداہوئے جنہوں نے اسلام کے لئے بڑی بڑی فتوحات حاصل کیں ۔ ان میں سے ایک فاتح ، مجاہد اسلام حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ بھی اسی کرد قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد بھی اسی دوران اپنی برادری کے ساتھ مسلمان ہوکر حضور غوث الاعظم  سے بیعت ہوئے تھے اور بعد میں ملک شام کے زنگی سلاطین کے بہت بڑے فوجی جرنیل بنے۔
 (حیات المعظم فی مناقب سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ صفحہ 152- 154)
کچھ دنوں بعد حضرت نجم الدین ایوب کو تکریت کی گورنر ی ملی۔ولایہ "تکریت" کے گورنر نجم الدین ایوب کافی عمر ہونے تک شادی سے انکار کر تے رہے۔
ایک دن اس کے بھائی اسد الدین شیر کوہ نے ان سے کہا : بھائی تم شادی کیوں نہیں کرتے؟
نجم الدین نے کہا : میں کسی کو اپنے قابل نہیں سمجھتا۔
 اسد الدین نے کہا: میں آپ کے لیے رشتہ مانگوں؟
 نجم الدین نے کہا : کس کا؟
 اسد الدین: ملک شاہ بنت سلطان محمد بن ملک شاہ سلجوقی سلطان کی بیٹی کا یا وزیر الملک کی بیٹی کا۔
 نجم الدین: وہ میرے لائق نہیں۔
 اسد الدین حیرانگی سے : پھر کون تیرے لائق ہو گی؟
 نجم الدین نے جواب دیا: مجھے ایسی نیک بیوی چاہیے جو میرا ہاتھ پکڑ کر جنت لے جائے اور اس سے میرا ایک ایسا بیٹا پیدا ہو جس کی وہ بہترین تربیت کرے جو شہسوار ہو اور مسلمانوں کا قبلہ اول واپس لے۔ اسد الدین کو نجم الدین کی بات پسند نہیں آئی اور انہوں نے کہا : ایسی تجھے کہاں ملے گی ؟
نجم الدین نے کہا : نیت میں اخلاص ہو تو اللہ نصیب کرے گا۔
 ایک دن نجم الدین مسجد میں تکریت کے ایک شیخ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے،ایک لڑکی آئی اور پردے کے پیچھے سے ہی شیخ کو آواز دی، شیخ نے لڑکی سے بات کرنے کے لیے نجم الدین سے معذرت کی ۔ نجم الدین سنتا رہا کہ  شیخ لڑکی سے کیا کہہ رہے ہیں؟
شیخ نے لڑکی سے کہا کہ تم نے اس لڑکے کا رشتہ کیوں مسترد کیا جس کو میں نے بھیجا تھا؟
 لڑکی نے کہا : اے شیخ  وہ ہمارے مفتی لڑکا واقعی خوبصورت اور رتبے والا تھا مگر میرے لائق نہیں تھا۔
شیخ نے کہا  : تم کیا چاہتی ہو؟
لڑکی نے کہا  : شیخ مجھے ایسا لڑکا چاہیے جو میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جنت لے جائے اور اللہ اس سے مجھے ایسا بیٹا دے جو شہسوار ہو اور مسلمانوں کا قبلہ اول واپس  لےلے۔
 حضرت نجم الدین ایوب حیران رہ گئے کیونکہ جو وہ سوچتے تھے وہ لڑکی بھی وہی سوچتی ہے۔
حضرت نجم الدین ایوب  جس نے حکمرانوں اور وزیروں کی بیٹیوں کا رشتہ ٹھکرایا تھا۔
 شیخ سے کہا : شیخ اس لڑکی سے میری شادی کرادیں۔
شیخ نے کہا : یہ اس محلے کے سب سے فقیر گھرانے کی لڑکی ہے۔
 نجم الدین نے کہا : میں یہی چاہتا ہوں۔ نجم الدین نے اس فقیر مگر متقی لڑکی سے شادی کر لی اور اسی سے وہ شہسوار پیدا ہوا جن کو دنیا سلطان صلاح الدین ایوبی کے نام سے جانتی ہے ۔

Tuesday, 29 December 2015

حاجی الحرمین سید عبدالرزاق نورالعین کچھوچھوی قسط 12

سجادگی
معتبر روایات سے پتہ چلتا ہے کہ سید عبدالرزاق نورالعین نے اپنی زندگی ہی میں اپنے صاحبزادگان کو تبرک اور مختلف علاقوں کی ولایت عطافرمادی تھی اور ان کے لئے مقام تجویز کردیئے تھے تاکہ اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے تبلیغ دین کا فریضہ ادا کرسکیں،چنانچہ بڑے صاحبزادے سید شاہ حسن کو اپنا جانشین بنایا اور ولایت کچھوچھہ عطا کیا دوسرے صاحبزادے سید شاہ حسین کو ولایت جونپور عطا کی تیسرے صاحبزادے سید شاہ احمد کو ولایت جائس رائے بریلی اور چوتھے صاحبزادے سید شاہ فرید کو ولایت بارہ بنکی عطا کی اس طرح آپ نے تمام صاحبزادگان کو علاقے عطافرمائے لیکن اپنا جانشین سید شاہ حسن کو ہی بنایا ۔ہماری اس بات کی حیات محدث اعظم ہند کے مصنف کی اس تحریر سے ہوتی ہے وہ  لکھتے ہیں :
"حضرت نورالعین پاک نے ہر وجہہ اور ہر لحاظ سے اکبریت حسن کا خاص خیال کھتے ہوئے اپناقائم مقام خلیفہ اور سجادہ نشین سید شاہ حسن خلف اکبر کو بنایا اور خدمت آستانہ و جاروب کشی بھی ان کے سپرد فرمائی جیساکہ مولانا صالح رودولوی خلیفہ سید شاہ کرم اللہ اشرف جائسی اپنے رسالہ"خلافت نامہ اشرفیہ" میں تحریر کرتے ہیں " چنانچہ حضرت نورالعین وقت وفات خدمت جاروب کشی بخلف اکبر سپردند وسید حسین رابجون پوروسید احمد رابجائس وسید فرید رابردولی فرستادہ وصیت بجاآورند" اس بیان سے یہ حقیقت رونما ہوگئی کہ حضرت حاجی الحرمین الشریفین شیخ الاسلام والمسلمین سید عبدا لرزاق نورالعین کی وفات کے بعد درگاہ کچھوچھہ شریف کے تنہا واحد حقیقی اصلی اور جائزسجادہ نشین سید شاہ حسن خلف اکبر یا سرکارکلاں تھےسید شاہ حسن خلف اکبر یا سرکارکلاں کے عہد سجادگی میں ان کے چھوٹے بھا ئی سید شاہ حسین ایک عرصے کے بعد ولایت جونپور سے درگاہ کچھوچھہ شریف بغرض چلہ کشی پہنچےاور پھر مستقل سکونت اختیار کرنے کا ارادہ ظاہر فرمایاولایت جونپور چھوڑنے کی وجہ بھی بتائی جاتی ہے کہ"چوں بست ودومواضع ازبعض معتقدین بفتوح دارندحصہ سید حسین خلف ثانی نیز درآن قراریافت بدیں وجہہ تعلق سکونت کچھوچھہ اختیارکردند"۔   (خلافت نامہ اشرفیہ)
بہرحال !  سید شاہ حسین ثانی جب کچھوچھہ شریف پہونچے تو بڑے بھائی کی محبت و شفقت نے انہیں پناہ دی اور مستقل رہنے کی اجازت بھی ،ان کی بے نفسی وسیع القلبی اور والہانہ تعلق خاطر کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے یہ بھی گوارہ نہ کیا کہ خود تمام حقوق رکھنے کے باوجود تنہامراسم عرس اداکریں اور چھوٹے بھائی کے نام کا چراغ روشن نہ ہو لہذا انہوں نے بکمال اخلاص و محبت اپنے چھوٹے بھائی سید شاہ حسین کو 27محرم الحرام کی تاریخ برائے ادائیگی مراسم عرس مرحمت فرمائی اور اپنے لئے 28 محرم الحرام یعنی عرس حضرت مخدوم صاحب کی خاص تاریخ محفوظ رکھی اس طرح سید شاہ حسین خلف ثانی کو سید شاہ حسن  خلف اکبر سرکار کلاں کے بخشندہ یا مرحمت کردہ حقوق سجادہ نشینی حدوددرگاہ کچھوچھہ شریف ملے ورنہ نورالعین نے انہیں ولایت جونپور کا سجادہ نشین نامزد فرمایا تھا۔           (حیات محدث اعظم ہندصفحہ 13)
اس سے معلوم ہوا کہ شیخ الاسلام والمسلمین مخدوم الآفاق حاجی الحرمین الشریفین سید عبدالرزاق نورالعین الحسنی الحسینی قدس سرہ النورانی کے وصال کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے سید شاہ حسن ہی درگاہ کچھوچھہ شریف  کے سجادہ نشین تھے لیکن جب ان کےچھوٹے بھائی سید شاہ حسین ولایت جونپور چھوڑکر کچھوچھہ شریف آئے تو انہوں نے کمال مہربانی اور خلوص و محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں جگہ دی بلکہ مراسم عرس بھی تقسیم کرلیں چنانچہ 27 محرم الحرام کو سید شاہ حسین درگاہ شریف میں مراسم عرس ادا کرتے ہیں اور اصل تاریخ یعنی 28 محرم الحرام کو سید شاہ حسن جو درگاہ شریف کے سجادہ نشین تھے مراسم عرس ادا فرماتے تھے۔
الحمدللہ عزوجل ! آج بھی مراسم عرس  28 محرم الحرام  کو  مخدوم زادہ  قائد ملت حضرت علامہ  الشاہ سیدمحمدمحمود اشرف اشرفی الجیلانی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی بمقام خانقاہ اشرفیہ حسنیہ سرکاں کلاں (گراؤنڈ جامع اشرف )  درگاہ کچھوچھہ شریف میں ادا  فرماتے ہیں ۔