Friday, 1 January 2016

سلطان صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ قسط 11

حسن سلوک
حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ نے لڑائیوں میں عیسائیوں کے ساتھ اتنااچھا سلوک کیا کہ عیسائی آج بھی اس کی عزت کرتے ہیں۔ایک دفعہ جنگ کے دوران ایک عیسائی  عورت اپنے لشکر سے نکل کر روتی پیٹتی مسلمانوں کے لشکر کی طرف آگئی۔ مسلمان سپاہیوں نے اسے پکڑ کرحضرت  سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ  کے سامنے پیش کیا ۔ حضرت سلطان علیہ الرحمہ نے اس سے بڑی شفقت سے پیش آئے اور رونے کی وجہ دریافت کی ۔ اس پر وہ عورت بولی کہ "رات میرے بچے کو کوئی پکڑ کر لے گیا ہے ۔ جب میں اپنے بادشاہ کے پاس گئی تو اس نے مجھے مشورہ دیا کہ تم مسلمانوں کے بادشاہ کے پاس جاؤ۔ وہ بہت رحمدل اور خداترس انسان ہے وہ ضرور تمہاری مدد کرے گا ۔خدا کے واسطے میری مدد کرو۔ میں تمہارے پاس فریاد لے کر آئی ہوں "۔
اس عورت کی آہ و بکا دیکھی نہیں جارہی تھی ۔ اس کی حالت دیکھ کر خود حضرت  سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ بھی آبدیدہ ہوگئے اور اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ چاروں طرف پھیل جاؤ اور اس  عورت کا بچہ تلاش کرو۔
پھر تاریخ نے یہ منظر بھی دیکھا کہ خود سلطان علیہ الرحمہ نے اپنے ہاتھوں سے اس بچے کو اس عورت کے حوالے کیا اور اس کو زادِ راہ دے کر عزت و احترام کے ساتھ رخصت کرنے کا حکم صادر فرمایا ۔ وہ عورت شدت جذبات سے رونے لگی اور دیکھنے والوں نے یہ بھی دیکھا کہ خود مسلمانوں کا سلطان بھی اس کے ساتھ آبدیدہ تھا ۔ یہ حضرت  سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کی غیرمعمولی رحم دلی، شفقت اور ان کے وجود میں روحانیت کی واضح دلیل ہے ۔ یہ ان کی انسان دوستی کی ایسی مثال ہے کہ جس کی بدولت ان کے بدترین دشمن بھی مجبور ہیں کہ ان  کی شان میں آج تک تعریفی کلمات ادا کرتے ہیں۔
ایک جنگ کے دوران رچرڈ بادشاہ  کا گھوڑا مارا گیا ۔ حضرت  سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کی غیرت نے اس بات کو گورا نہیں کیا کہ وہ اپنی فوج کی قیادت گھوڑے میں بیٹھ کر کریں اور اور ان کا دشمن بادشاہ زمین پر پیدل کھڑا ہو۔ حضرت  سلطان علیہ الرحمہ نے جنگ رکوائی اور اپنا بہترین گھوڑا رچرڈ کو دیااور اسے کہا کہ اس پر سوار ہوکر اپنی فوجوں کی قیادت کرو، لیکن میں ایسے دشمن کو نہیں مارتاکہ میں گھوڑے پر ہوں اور وہ پیدل ۔
ابن شداد لکھتے ہیں کہ ایک موقع پر بادشاہ رچرڈ بیمار ہوگیا اور اس کے علاج کا کوئی راستہ نہیں مل رہاتھا تو سلطان نے اپنا خاص طبیب بھیجا کہ جس نے عیسائی لشکر میں جاکر رچرڈ کا علاج کیا اور اس کے ساتھ تحفے اور پھل بھی بھیجوائے تاکہ وہ جلد صحتیاب ہو کر سلطان کے مقابلے آسکے۔ انسانی تاریخ نے اتنے اعلیٰ کردار کا جرنیل اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ تمام تر تعصب کے باوجود خودعیسائی مؤرخ مجبور ہیں کہ حضرت  سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ کی شان میں قصیدے لکھیں۔
 اسی طرح مسیحیوں سے صلح ہو جانے کے بعد صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ  نے عیسائیوں کو بیت المقدس کی زیارت کی اجازت دے دی۔ اجازت ملنے پر یورپ کے زائرین جو برسوں سے انتظار کررہے تھے اس کثرت سے ٹوٹ پڑے کہ شاہ رچرڈ کے لئے انتظام قائم رکھنا مشکل ہوگیا اور اس نے سلطان سے کہا کہ وہ اس کی تحریر اور اجازت نامے کے بغیر کسی یہودی یا عیسائیوں  کو بیت المقدس میں داخل نہ ہونے دیں گے ۔ سلطان نے جواب دیا  ”زائرین بڑی بڑی مسافتیں طے کرکے زیارت کے شوق میں آتے ہیں ان کو روکنا مناسب نہیں“۔ سلطان نے نہ صرف یہ کہ ان زائرین کو ہر قسم کی آزادی دی بلکہ اپنی جانب سے لاکھوں زائرین کی مدارات، راحت، آسائش اور دعوت کا انتظام کیا۔
صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ  کا غیر مسلموں سے سلوک عین اسلامی تعلیمات کے مطابق تھا اور یہ اس کا ثبوت ہے کہ اسلامی حکومت میں غیر مسلموں کے حقوق بھی اسی طرح محفوظ ہوئے ہیں جس طرح مسلمانوں کے ۔
 اسی طرح سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ نے جب ملک شام فتح کیا تو ان کے وزراء نے نئے مفتوحہ ملک کا جائزہ لینے کے بعد سلطان کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ نصرانیوں کا ملک ہے ، یہاں کے لوگ نہایت ہی سرکش مزاج اور سخت جان واقع ہوئے ہیں اس لئے ہمارا آپ کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ ان کے لئے سخت گیری کی ضرورت ہے،  چونکہ اسلام  کے سیاسی اصول بہت نرم ہیں ، لہذا آپ کو مشورہ ہے کہ احکام اسلام کے علاوہ بھی اگر کچھ اور قوانین نافذ کردیئے جائیں تو یہاں کے لوگوں پر قابو رکھنے میں آسانی ہوگی ، حکومت کو استحکام حاصل ہوگااور وہ تمام قوتیں جو نظام حکومت کوکمزور کرنے والی ہیں ، کچلی جاسکیں گی۔ 
 ان وزراء کی باتیں سن کر سلطان صلاح الدین ایوبی کا چہرہ متغیر ہوگیا ، فرمایا :"تمہارا کیا خیال ہے کہ میں نے یہ جو ملک فتح کیا ہے اس لئے فتح کیا ہے کہ اپنی حکومت اورسلطنت قائم کروں اورلوگوں کی گردنوں پر اپنی غلامی کو جوارکھوں ؟ تم میری بات کان کھول کر سن لوکہ ایسا ہرگز نہیں ہے ، بلکہ میں نے محض اللہ  اور اس کے رسول ﷺکو خوش کرنے کے لئے اور اس رضا کی خاطر یہ ساری کوششیں کی ہیں۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نوکر ہوں میں اپنا حکم ہرگز نہیں نافذ کروں گا۔ یہ ملک رہے یا جائے مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ تم اچھی طرح ذہن نشین کرلوکہ میں کوئی بھی کام حکم قرآن اور سنت رسولﷺ کے خلاف صادر نہیں کرسکتا  اور قرآن وسنت کی مخالفت میں کوئی بھی کوشش ہرگز کامیاب نہیں ہونے دوں گاکیونکہ قرآن اللہ جل جلالہ کا فرمان اور سنت رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت ہے ، انسانیت کی فلاح مومن ہویا کافرانہی دونوں پر عمل کرنےمیں ہے۔"
سلطان نے قاضیوں اورمفتیوں کا تقررکیا ،ہرمذہب کے ماننے والوں کو مکمل آزادی دی ، مملکت کے ہرفرد کو تحفظ کا احساس ملا ، جس طرح مسجدیں محفوظ تھیں ، دیگرمذاہب کے عبادت خانے بھی محفوظ تھے ۔ہر مذہب کا ماننے والا یہ محسوس کرتاتھا کہ وہ قرآن اور شریعت اسلامیہ کے سائے میں زندگی بسر کررہا ہے۔ جس نے اعلان کررکھاتھا کہ لَاۤ اِکْرَاہَ فِی الدِّیۡنِ دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔کچھ عرصہ بعدشام میں عظیم انقلاب آیا دیکھتے ہی دیکھتے شام جو نصرانی اکثریت کا ملک تھا یہ تلوار کے زور پر نہیں بلکہ قرآن و سنت  اور حضرت سلطان کی حسن و سلوک کی برکت سے مسلم اکثریت کا ملک بن گیا ۔ 

سلطان صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ قسط10


شاہ اربل حضرت شاہ ابوسعیدالمظفرالدین علیہ الرحمہ
یاد رہے کہ اس عظیم کارنامے کو عملی جامہ پہنانے میں شاہ اربل حضرت شاہ ابوسعیدالمظفرالدین علیہ الرحمہ  بھی پیچھے نہ رہے کتابوں میں لکھا ہے کہ حضرت  شاہ ابوسعید المظفر  علیہ الرحمہ (متوفی630ہجری) عظیم فاتح سلطان صلاح الدین ایوبی  علیہ الرحمہ کے بہنوئی تھے۔ سلطان ایوبی  کی حقیقی ہمشیرہ  حضرت ربیعہ خاتون ملک ابو سعید المظفر کے عقد میں تھیں اور سلطان بادشاہ سے بغایت درجہ محبت رکھتے تھے۔ وہ دونوں خدمتِ اسلام میں ایک دوسرے کے ساتھ دل و جان سے شریک تھے۔ بادشاہ خادمِ اسلام ہونے کے باوصف بہت متقی، پرہیزگار اور فیاض واقع ہوئے تھے۔ بادشاہ کا عظیم دینی و روحانی مقام اور خدمتِ اسلام کی تڑپ دیکھ کر ہی سلطان صلاح الدین ایوبی  علیہ الرحمہ نے اپنی ہمشیرہ ’ حضرت ربیعہ خاتون رحمۃ اللہ علیہا‘ کی شادی ان سے کی تھی۔ سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ کے حوالے سے ملک ابو سعید المظفرکا یہ تعارف کرانے کے بعد امام ابن کثیر نے تین چار سطور میں موصوف کے سیرت وکردار، تقویٰ و پرہیزگاری اور دریا دلی پر روشنی ڈالی ہے اور میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے تفصیلات شرح و بسط کے ساتھ رقم کی ہیں۔ انہوں نے اس موضوع پر بالتفصیل لکھا ہے کہ بادشاہ کس جوش و جذبہ اور مسرت و سرور سے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقریب کا اہتمام کیا کرتا تھا۔
 امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ  شاہ مظفر ابو سعید کو کبری بن زین الدین علی بن تبکتکین ایک سخی، عظیم سردار اور بزرگ بادشاہ تھا، جس نے اپنے بعد اچھی یادگاریں چھوڑیں۔ اس نے قاسیون کے دامن میں جامع مظفری تعمیر کروائی۔ وہ برزہ کے پانی کو اس کی طرف لانا چاہتا تھا تو معظم نے اسے اس کام سے یہ کہہ کر روک دیا کہ وہ سفوح کے مقام پر مسلمانوں کے قبرستان سے گزرے گا۔ وہ ماہ ربیع الاول میں میلاد مناتا تھا اور عظیم الشان محفلِ میلاد منعقد کرتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بہادر، دلیر، حملہ آور، جری، دانا، عالم اور عادل بھی تھا۔ اللہ تعالیٰ اس پر رحمت فرمائے اور اسے بلند رتبہ عطا فرمائے۔
شیخ ابو الخطاب ابن دحیہ نے اس کے لیے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ایک کتاب لکھی اور اس کا نام ’’التنویر فی مولد البشیر والنذیر‘‘ رکھا۔ شاہ نے اس تصنیف پر اُسے ایک ہزار دینار انعام دیا۔ اس کی حکومت حکومتِ صلاحیہ کے زمانے تک رہی، اس نے عکا کا محاصرہ کیا اور وہ قابلِ تعریف سیرت و کردار اور قابلِ تعریف دل کا آدمی تھا۔
سبط نے بیان کیا ہے کہ مظفر کے دستر خوانِ میلاد النبی ﷺ پر حاضر ہونے والے ایک شخص کا بیان ہے کہ اس میں پانچ ہزار بھنے ہوئے بکرے، دس ہزار مرغیاں، ایک لاکھ مٹی کے دودھ سے بھرے پیالے اور تیس ہزار مٹھائی کے تھال ہوتے تھے۔‘‘
B ابن کثیر ، البدایہ والنہایہ جلد 9 صفحہ 18
B محبی ، خلاصۃ الاثر فی اعیان القرن الحادی عشر جلد 3 صفحہ 233
B سیوطی ، حسن المقصد فی عمل المولد صفحہ 42-44
B سیوطی ، الحاوی للفتاویٰ صفحہ 200
B احمد بن زینی دحلان ، السیرۃ النبویہ جلد 1 صفحہ 53-54
اِس کے بعد امام ابن کثیر کی عبارت ملاحظہ فرمائیں :
 میلاد کے موقع پر اُس کے پاس بڑے بڑے علماء و مشائخ  اور صوفیاء حاضر ہوتے تھے، وہ انہیں خلعتیں پہناتا اور عطیات پیش کرتا تھا اور صوفیاء کے لیے ظہر سے عصر تک سماع کراتا تھا اور خود بھی ان کے ساتھ رقص کرتا تھا۔ ہر خاص و عام کے لیے ایک دارِ ضیافت تھا اور وہ حرمین شریفین و دیگر علاقوں کے لیے صدقات دیتا تھا اور ہر سال بہت سے قیدیوں کو فرنگیوں سے چھڑاتا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس نے ان کے ہاتھ سے ساٹھ ہزار قیدیوں کو رہا کرایا۔
ربیعہ خاتون بنت ایوب رحمۃ اللہ علیہا (جو بڑی علم و فاضل والی خاتون تھیں ۔آپ رحمۃ اللہ علیہا نے دمشق میں جبل قاسیون میں ایك عظیم الشان مدرسہ تعمیر كروایا جو مدرسہ خاتونیہ كے نام سے مشہور ہے اور آج تك موجود ہے ۔ آپ کا مزار مبارک اسی مدرسہ کے اندر واقع ہے) فرماتی ہیں کہ اس کے ساتھ میرا نکاح میرے  بھائی صلاح الدین ایوبی (علیہ الرحمہ)  نے کرایا تھا۔
مؤرخین کے مطابق اس خاتون کا بیان ہے کہ شاہ  اربل کی قمیص پانچ دراہم کے برابر بھی نہ ہوتی تھی۔ پس میں نے اسے اس بارے میں سوال کیا تو وہ کہنے لگے " میرا پانچ درہم کے کپڑے کو پہننا اور باقی کو صدقہ کر دینا اس بات سے بہتر ہے کہ میں قیمتی کپڑا پہنوں اور فقراء اور مساکین کو چھوڑ دوں اور وہ ہر سال محفل میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تین لاکھ دینار اور مہمان نوازی پر ایک لاکھ دینار اور حرمین شریفین اور حجاز کے راستے میں پانی پر خفیہ صدقات کے علاوہ تیس ہزار دینار خرچ کرتا تھا، رحمہ اﷲ تعالی۔
ابن خلکان نے جو اس عادل بادشاہ کے بارے میں جو لکھا ہے وہ نہایت ہی اہم اور قابل توجہ اس لئے بھی  ہے کہ انہوں نے جو لکھا ہے وہ کسی سے سنا ہوا نہیں ہے  بلکہ وہ ان کا مشاہد ہ ہے۔جس کی تصریح خود ان لفظوں میں کردی ہے، فرماتے ہیں کہ"اگر میں ان کے تمام محاسن نقل کروں تو کتاب طویل ہوجائے گی اور ان کی نیکوں کی شہرت بھی طوالت سے مانع ہے ہم نے جو ان کے  اس قدرطویل حالات لکھے ہیں  ہم معذور ہیں ان کا سبب فقط ان ہم پر ایسے حقوق ہیں جن میں سے ہم بعض کا شکریہ ادا نہیں کرسکتےخواہ ہم کتنا بھی روزلگالیں  اور منعم کا شکرادا کرنا لازم ہوتاہے  اللہ ہماری طرف سے انہیں خوب جزا عطا فرمائے۔ ہم پر ان کے بڑے احسانات ہیں ۔  میں نے کوئی شئے ان سے  بطور مبالغہ نہیں لکھی  بلکہ جوکچھ لکھا ہےیہ میرا اپنا مشاہدہ ہےاور دیکھا ہوا ہےاور میں نے بہت سی چیزیں اختصار کے خاطر حذف کردیا ہے۔ ( دفیات الاعیان  جلد 3صفحہ 539)

ان کی خوبصورت سیرت
ان کی سیر ت و کردار کا کیا کہنا  انہوں نے اس قدر اعلیٰ وعمدہ نیک کام کئے ہیں کہ ایسے کام کسی کے نہیں سنے۔دنیا میں صدقات سے بڑھ کر کوئی شے محبوب ہی نہ تھی ۔ ہرروز شہروں کے متعدد مقامات میں محتاجوں کے لئے بھاری مقدار میں غلہ اور روٹی تقسیم کی جاتی ۔ اس لئے ہر جگہ صبح کے وقت وہاں کثیر مخلوق جمع ہوجاتی ، جب وہ گھر واپس سواری سے اترتے تو اس موقعہ پربھی کثیر  لوگوں کا ہجوم ہوتا تو ہر ایک کو موسم گرماوسرما کے مطابق کپڑے اور ان کے ساتھ ایک ، دو، تین اور کم وبیش سونے کے دینا بھی دیتے تھے ۔ معذور اور نابینا لوگوں کے لئے لئے چار خانقاہیں و مراکز تعمیرکروائیں  جو ان سے آباد و بھرے رہتے اور انہیں وہاں ہرروز ضرورت کی اشیا مہیا ہوتیں، یہ پیر شریف(سوموار) اور جمعرات کو بوقت عصر خود تشریف لے جاتے ، ہر ایک کے پاس کمرہ میں جاتے حال پوچھتے اور پوچھتے کسی شئے کی ضرورت تونہیں اسی طرح پھر دوسرے  حتی کہ تمام کے پاس جاتے ان کے ساتھ خوش طبعی اور مزاح کی صورت میں ان کے دلوں کو خوش کرتے ۔ بیوگان کے لئے الگ مرکز ، یتامیٰ کے لئے الگ مرکزاورلاوارث بچوں کے کو دودھ پلانے والی خواتین تک کا انتظام تھا ۔ ہر ہر مرکز کی ضروریات کو بھرپور کوشش کرکے پورا کیا جاتا ۔ باربارخود بھی ان مراکز کا دورہ کرتے ان کی ضرویات کو پورا کرنے کی یہاں تک کوشش کرتے کہ مقرر فنڈ سے زیادہ ان پر خرچ کرتے ، بیماروں کے لئے ہسپتال بنوائے، وہاں جاتے ہر ایک مریض سے مزاج پوچھتے تمہاری رات کیسی گزری ؟ تمہاری صحت کیسی ہے ؟ کونسی چیز کھانا پسند کروگے ؟
مہمان خانے بنوائے وہاں پر ہر کوئی آسکتاتھا  خواہ وہ عالم و فقیہہ ہویا فقیروغیرہ یعنی وہاں کسی کے داخلہ کی پابندی نہیں تھی ، صبح و شام اٹینڈ کرنے والے لوگ موجود ہوتے۔ جب کوئی انسان سفرکا ارادہ کرتا تو اس کے حسب ضرورت سفر خرچ  بھی عنایت فرماتے۔ مدرسہ قائم کیا جس میں شوافع  واحناف  علماء و فقہاء مقرر کئے ، وہاں تو اکثر ان کا آنا جانا رہتا ان کا لنگر وہاں تھا ۔رات وہاں بسر کرتے اور سماع و اچھا کلام سنتے ۔ جب خوش ہوتے تو اپنی خلعت اتارکر اہل  کلام کا بطورانعام دیتے اور انہیں سوائے سماع ( اچھاکلام سننے کے)  کسی میں لذت نہ تھی ،کیونکہ وہ برائی کو پنپنے نہیں دیتے تھے بلکہ ان کے شہر میں برائی داخل ہی نہ ہوپاتی ۔ صوفیہ کرام کے لئے دوخانقاہیں بنوائیں اور ان میں کثیر مخلوق اور مسافر مقیم رہتے ۔ مختلف اوقاف تھے ، جن سے وہاں مخلوق کی ضروریات پورا کیا جاتا واپسی کے لئے بھی خرچ دیا جاتا ۔خود وہاں آتے اوراکثر اوقات محفل سماع کا انعقاد کرتے ، ہرسال دو دفعہ ساحل کی طرف اپنے امین نمائندوں کو بھیجتے جو فدیہ لے کر جاتے اور کفار سے مسلمان قیدیوں کو آزاد کرواتے اگروہ قیدی ان کے پاس آتے تو خود ان کی خدمت کرتے وریہ نمائندے حسب حکم ان کی خدمت کردیا کرتے اور ہرسال حجاج کے لئے سبیل قائم کرتے اور اس کے ساتھ راستہ کی تمام ضروریات بھیجواتے،ساتھ نمائندے جاتے جو پانچ یا چھ ہزار دینار حرمین شریفین کے ضرورت مندوں اور خادمین پر خرچ کرتے ۔ان کی مکۃ المکرمہ میں نہایت اعلیٰ خدمات ہیں۔کچھ ان میں سے ابھی باقی ہیں یہی وہ پہلے حاکم ہیں جنہوں نے وقوف عرفہ کے لئے عرفات میں پانی کا انتظام کیااور اس میں کثیر رقم خرچ کی ۔ جبل عرفات میں پانی کا کارخانہ لگایا  کیونکہ حجاج عدم پانی کی وجہ سے نہایت ہی پریشان ہوتے، انہوں نے اپنے لئے وہاں قبر بھی بنوائی تھی ۔ رہاولادت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  کے خوشی  میں ان کا محفل میلاد سجاد اس کا بیان احاطہ سے باہر ہے ۔ کچھ کا تذکرہ کئے دیتے ہیں ۔ تمام علاقوں اور شہروں  کے لوگ ان کے اس حسن اعتقاد سے آگاہ تھے تو ہر سال اربل کے قریبی شہروں ، مثلاً بغداد ، موصل، جزیرہ، نصیبین، بلاد عجم اور دیگر علاقوں سے کثیر لوگ فقہاء ، علماء، مشائخ، واعظین، خطباء ، قراء اور شعراء ان کے ہاں آتے یہ سلسلہ آمد محرم سے ربیع الاول کے شروع تک جاری رہتا۔ان کے لئے قباب تیار کرواتا ، ان کے مختلف طبقاب ہوتے اور ان میں سے ایک قبہ خود اس کا  بھی ہوتا باقی دیگراصحاب منصب کےلئے ہوتے ، ابتدا ءصفر المظفر سے ان قباب کو مزین کروایا جاتاپھر ہر طبقہ میں اچھا کلام پڑھنے والے ، خاکے اور لطائف بیان کرنے والے اور اصحاب مزاحیہ کی جماعت مہیا کی جاتی ہر قبہ کا کوئی طبقہ اس سے خالی نہ ہوتا۔ان دنوں عام تعطیل ہوتی لوگ یہاں ہی خوشی و تفریح کے لئے آتے جاتے ۔ یہ قباب اس باب قلعہ کے سامنے خانقاہ تک ہوتے جو میدان سےمتصل تھی مظفرالدین ہرروز عصر کے بعد یہاں آتے اور ہرہر قبہ میں ٹھہرتے اور وہاں اچھا کلام سنتے ان کے خیالات وافکار وغیرہ سن دیکھ کر بہت خوش ہوتے ، رات خانقاہ میں بسرکرتے اورمحفل سماع سجاتے۔ تاریخ میلاد میں اختلاف کی وجہ سے کسی سال وہ آٹھ ربیع الاول اور کسی سال بارہ ربیع الاول کو محفل منعقد کیاکرتے۔شب میلاد سے دودن پہلے وہ ان گنت اونٹ ، بکریاں اورگائے ڈھول باجوں کے ساتھ لے کر میدان میں آتے وہاں انہیں ذبح کیا جاتا اور پھر انہیں مختلف انداز میں پکایا جاتا۔شب میلاد قلعہ میں نماز مغرب کے بعد بزم سماع سجتی ۔ پھر وہاں سے اتر تے تو ان کے آگے کثیر شمعیں روشن ہوتیں ، ان میں سے دویا چار ، مجھے شک ہے ،شمعیں خچروں کے پشت پر بند ہوتیں  جنہیں ایک آدمی سہارا دے رہا ہوتا اور وہ خچروں کے پشت پر بند بھی ہوتی حتی کہ خانقاہ تک پہونچتے ، جب صبح میلاد آتی تو قلعہ سے تمام خلعتیں اور سامان جماعت صوفیہ کے ہاتھوں یوں منتقل ہوتا کہ ہرشخص کے ہاتھ میں تھیلا ہوتا اور تمام لائن میں ہوتے۔ اس قدر چیزیں وہاں سےلاتے کہ میں انہیں شمار نہیں کرسکتا ۔ پھر خانقاہ میں بادشاہ تشریف فرماہوتے وہاں بڑے بڑے علماء ، مشائخ ، رؤسااور ایک گروہ سفید لباس میں ہوتے ۔ وعظ و نصیحت کرنے والے علماء کے لئے کرسی رکھی جاتی ، مظفرالدین کے لئے ایک لکڑی کا یوں برج بنایا جاتا کہ اس میں لوگوں اورکرسی کے طرف کھڑکیاں ہوتیں ۔ اسی برج میں ایک کھڑکی میدان کی طرف بھی ہوا کرتی ، وہ میدان بہت بڑا اور نہایت ہی وسیع تھا ۔اس میں لشکر بھی جمع ہوتے اور اس دن وہ بھی سلامی دیتے ، بادشاہ کبھی لشکر کی پریڈ کی طرف، کبھی لوگوں اور واعظین کی طرف متوجہ ہوتے ۔ لشکر کی سلامی ختم ہونے تک یہی سلسلہ جاری رہتااس کے بعد مید ان میں فقراء اورمحتاجوں کے لئے دسترخوان لگایا جاتا اور اس پر ان گنت کھایا اور روٹی ہوتی جس کا بیان ممکن نہیں پھردوسرا دسترخوان خانقاہ میں ان لوگوں کے لئے بچھتا جو کرسی کے پاس جمع ہوتے۔ بادشاہ سلامی لشکر اور وعظ کے دوران ایک ایک بڑے عالم اور وفود کو اپنے پاس بلاتا جو اس موقعہ پر وہاں آئے ہوتے کیونکہ فقہاء ، واعظین ، قراء ، شعرا اس مجلس میں ہر طرف سے آیا کرتے تھے انہیں بلاکر ہر ایک کو خلعت دیتا اور وہ اپنی جگہ واپس چلا جاتا ۔ جب تمام کو خلعتیں وانعام دینا مکمل ہوجاتا تو یہ دسترخوان پہ آتے اور کھا نا کھاتے اور پیک شدہ کھانا اپنے گھر لے جاتےاور یہ سلسلہ عصر اور بعد ازعصر تک جاری رہتا پھر رات وہاں ہی بسرکرتے اور صبح تک بزم سجتی ۔ ہرسال ان کا یہی معمول تھا ۔ میں نے صورت حال کا یہ خلاصہ کردیا کیونکہ تمام کا احاطہ طویل ہے۔ جب یہ محافل اختتام پذیر ہوتیں ہر آدمی اپنے اپنے شہر واپسی کا ارادہ کرتا تو ہر شخص کو خرچہ عطا کرتے۔ ( ایضاً)
آپ کی یہ بات بھی بہت مشہور تھی کہ سلطان مظفرالدین جب کوئی پسندیدہ چیز تناول فرماتے تو فقط اپنے لئے مخصوص نہ کرتے تھے  بلکہ  جب کوئی چیز مثلاً دہی اچھا کھانے لگا  تو لقمہ کھانے کے بعد ملازمین سے فرماتے اسے فلاں شیخ یا فلانہ کو دو  جونیکی و تقویٰ میں لوگوں  کےہاں معروف ہوتے اور اسی طرح کامعاملہ پھل ، مٹھائی ، اور دیگر کھانوں میں کرتے۔ (محفل میلاد اور شاہ اربل صفحہ46)
آپ کی ولادت قلعہ موصل27 محرم الحرام 549 ہجری  منگل کی رات میں ہوئی اور وفات 14 رمضان المبارک  بروز جمعرات  630 ہجری  میں ہوئی۔قلعہ اربل میں دفن کیا گیا ۔ کچھ دن کے بعد ان کی وصیت کے مطابق مکہ شریف کی طرف لے جایا گیا ۔ ان کے لئے پہاڑ کے دامن میں دفن کے لئے قبہ بنایاگیا تھا اس کا ذکر پہلے ہوچکاہے ، جب حاجی 631 ہجری میں حجاز کی طرف روانہ ہوئے تو انہوں نے ساتھ اٹھا لیا تو اتفاق اس سال حجاج مقام لینہ سے واپس آگئے اور وہ مکہ مکرمہ نہ پہونچ پائے لہذا انہیں واپس لاکر کوفہ میں مشہد کے قریب دفن کردیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحمت نزول فرمائے اور انہیں بہتر جزادے، ان کی خدمات ونیکیوں کو قبول فرمائےاور ان کا ٹھکانہ خوبصورت ہو۔آمین
آپ کے مفصل حالات کے لیے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کریں ۔
صالحی- سبل الھدیٰ و الرشاد فی سیرۃ خیرالعباد صلی اللہ علیہ وسلم جلد 1 صفحہ 362-363 ،نبہانی- حجۃ اللہ علی العالمین فی معجزات سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم صفحہ 236، دفیات الاعیان  صفحہ 536-540، البدایہ والنہایہ  جلد 13 صفحہ 147، العبر فی خبر من غبر  جلد 2 صفحہ 224،تاریخ الاسلام صفحہ 402-405، سیر اعلاء والنبلاء جلد 16 صفحہ 257، آثار البلاد واخبار العباد صفحہ 290 ، شذرت الذہب  جلد 5 صفحہ 140، البراہین الجلیہ  صفحہ 92، الفتح القسی فی الفتح القدسی صفحہ 51، مراۃ الزمان صفحہ 392-393۔ کتاب الروضتین صفحہ جلد 3-9191، العسجد السبوک والجواہر المحکوک  جلد1 صفحہ 492، التکملۃ  لوفیات النقلہ  جلد 3 صفحہ 354،  دول الاسلام صفحہ 341، الباعث صفحہ 36 وغیرہ

سلطان صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ قسط9

ابتدائی دور
سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ شروع میں وہ سلطان العادل حضرت نورالدین زنگی الحنفی  علیہ الرحمہ کے یہاں ایک فوجی افسر تھے۔ مصر کو فتح کرنے والی فوج میں صلاح الدین بھی موجود تھے اور اس کے سپہ سالار شیر کوہ صلاح الدین ایوبی  کے چچا تھے۔ مصر فتح ہو جانے کے بعد صلاح الدین کو 564ہجری میں مصر کا حاکم مقرر کردیا گیا۔ اسی زمانے میں 569ہجری میں انہوں نے یمن بھی فتح کرلیا۔ حضرت نور الدین زنگی  علیہ الرحمہ کے انتقال کے بعد صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ نے حکومت سنبھالی۔

آپ علیہ الرحمہ کے طور طریقے اور ادب و آداب
 مؤرخین لکھتے ہیں کہ سلطان صلاح  الدین ایوبی ایک ایسا عظیم حکمران تھا جو میدانِ جنگ میں قہر برپا کرنے والا ایک بہادر جنگجو تو تھا لیکن وہ ایک رحم دل انسان بھی تھے۔ صلاح الدین  نمازِ پنجگانہ کا پابند اور نفلی عبادت گزار تھے۔ اس نے کبھی کوئی نماز نہ چھوڑی اور نہ قضا کی۔اس کے ساتھ ہمیشہ ایک امام موجود ہوتے تھے اور اگر کوئی امام نہ ہوں تو کسی عالمِ دین کے پیچھے نماز ادا کرلیتےتھے جو وہاں موجود ہوتے تھے۔
صلاح الدین نے ساری زندگی جو کچھ کمایا اس کا بیشتر حصہ صدقے و خیرات میں خرچ کردیا اور کبھی وہ اتنی دولت جمع ہی کر پایا کہ وہ زکوٰۃ ادا کرتے۔ صلاح الدین کی ایک بڑی خواہش تھی کہ وہ حج ادا کرے لیکن وہ جہاد میں اس حد تک مصروف رہے کہ اس کے پاس اتنی رقم ہی جمع نہ ہوسکی کہ وہ حج کرسکے اور اس کے بغیر ہی انتقال کرگئے۔آپ ہر پیر اور جمعرات کو ایک اجلاس منعقد کرتے تھے جس میں بیٹھ کر عوام کی فریاد اور تکالیف سنی جاتیں-اس محفل میں قانون دان٬ قاضی صاحبان اور عالمِ دین بھی شرکت کرتے تھے- صلاح الدین نے اپنی زندگی میں کبھی کسی کی مدد کرنے میں کوتاہی نہیں برتی آپ نے کبھی بھی کسی سے بدکلامی نہیں کی اور نہ ہی اپنی موجودگی میں کسی اور کو کرنے دی- اپنی پوری زندگی میں ان نے کبھی کوئی تلخ بات نہیں کی اور نہ ہی کبھی کسی مسلمان کے خلاف اپنے قلم اور تلوارکو استعمال کی٬ جب بھی کوئی یتیم آپ کے دروازے پر آیا آپ نے بہت شفت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ،ان کوا پنےمال سے حصہ بھی دیا کرتے تھے ۔ حضرت نور الدین زنگی علیہ الرحمہ کی طرح آپ  کی زندگی بھی بڑی سادہ تھی۔ ریشمی  اور قیمتی کپڑے کبھی استعمال نہیں کئے اور رہنے کے لئے محل کی جگہ معمولی سا مکان ہوتا تھا۔
قاہرہ پر قبضے کے بعد جب آپ نے فاطمی حکمرانوں کے محلات کا جائزہ لیا تو وہاں بے شمار جواہرات اور سونے چاندی کے برتن جمع تھے ۔ آپ نے یہ ساری چیزیں اپنے قبضے میں لانے کے بجائے بیت المال میں داخل کرادیں۔ محلات کو عام استعمال میں لایا گیا اور ایک محل میں عظیم الشان خانقاہ قائم کی گئی۔فاطمیوں کے زمانے میں مدرسے قائم نہیں کئے گئے شام میں تو نور الدین کے زمانے میں مدرسے اور شفاخانے قائم ہوئے لیکن مصر اب تک محروم تھا۔ صلاح الدین  ایوبی نے یہاں کثرت سے مدرسے اور شفاخانے قائم کئے ۔ ان مدارس میں طلبا کے قیام و طعام کا انتظام بھی سرکار کی طرف سے ہوتا تھا۔
قاہرہ میں آپ  علیہ الرحمہ  کے قائم کردہ شفاخانے کے بارے میں ایک سیاح ابن جبیر لکھتا ہے کہ یہ شفاخانہ ایک محل کی طرح معلوم ہوتا ہے جس میں دواؤں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے ۔ اس نے عورتوں کے شفاخانے اور پاگل خانے کا بھی ذکر کیا ہے ۔ آپ کے تمام  عظیم کارناموں میں ایک کارنامہ یہ بھی ہےجو صاحب المدائح النبویہ فرماتے ہیں کہ "فاطمی خلافت  میں رائج  بری رسومات کو اور شخصی میلاد کو ختم کرکے صلاح الدین ایوبی  (رحمۃ اللہ علیہ) نے صرف اورصرف  میلاد مصطفیٰ علیہ التحیہ والثنا کا انعقاد رائج ٹھہرایا اور صوفیا ء کے لئے خانقاہوں کی تعمیر کی ۔
(المدائح النبویہ  صفحہ  100  ازالدکتور محمود علی مکی)

سلطان صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ قسط8

اس ( الدولۃ الزنکیہ) کتاب میں محقق علی محمد الصلابی نے سلطانِ معظم مجاہدِ اسلام حضرت نورالدین زنگی رحمتہ اللہ علیہ کی سوانح بیان کی ہے اور مقدمہ میں اختصار کے ساتھ تحریر کیا ہے کہ سلطان نے سنیوں کے مدرسہ سے تعلیم حاصل کی اور چونکہ وہ دور حضرت شیخ المشائخ غوث الاعظم عارف باللہ شیخ محی الدین عبدالقادر الجیلانی رضی اللہ عنہ  کا دور تھا، اور ان کا طُوطی چاردانگ عالم بول رہا تھا اور علومِ دین و شریعہ میں ان کی مثال کوئی نہ تھا جنکا منہاج ، منہاجِ اہلسنت وجماعت پر تھا اور تعلیم حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی رضی اللہ عنہ  کا تھا اسلئے سلطان نورالدین  کو ان سے بھی فیض حاصل ہوا اور دینی لحاظ سے تمام تر فتوحات وغیرہ کے پس پردہ جو تعلیم تھی وہ ان شیوخ کی تھی۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہ سلطان نے تمام سنی چاروں مذاہبِ اسلام یعنی حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلیوں کےلئے مدارس کے ساتھ ساتھ صوفیاء کرام کے لیئے جا بہ جا خانقاہوں اور اذکار کی محافل کی جگہوں کا بھی انتظام و انصرام کیا۔  نیز ابن تیمیہ کا بھی ذکر ہے کہ جس نے حضرت شیخ جیلانی رضی اللہ عنہ کو عظیم مشائخ اور ثقہ علماء میں سے ثابت کیا ہے اور ان سے متاثر بھی تھا۔
یعنی ثابت ہوا کہ اسلام کا یہ عظیم سپوت اور حقیقی مجاہد،  ملک الناصرحضرت سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی طرح مقلد اور سنی المذہب کٹر اور صوفیاء سے محبت رکھنے والے سلطان تھے۔ ان کی قبر مبارک دعاؤں کی قبولیت کا بے مثال مظہر ِ الٰہیہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ  ان پاک ترین نفوس پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے جنہوں نے بنا کسی کا گلا کاٹے ، بنا خودکش کئےاسلام کے عظیم پھول کی آبیاری کی، حیف ہے زمانے کی چال پر کہ آج اسلام میں (صیہونی دہشتگرد) تبلیغ اور مجاہد کے نام پر اسلام کو بدنام کررہے ہیں۔ صد کروڑافسوس.........
اس( الدولۃ الزنکیہ)  کتابِ تاریخ میں ڈاکٹر علی محمد الصلابی نے حضرت شیخ سید عبدالقادر الجیلانی رضی اللہ عنہ کی سیرت بیان کی ہے، اور اس کے ایک باب میں ذکر کیا ہے کہ مدرسہ (القادریہ) کی بنیاد ہی مجاہد اسلام حضرت سلطان نورالدین زنگی  الحنفی  علیہ الرحمہ نے اس لئے رکھوائی تھی کہ تمام تر سنی چاروں مذاہبِ فقہ ایک جگہ پر متحد ہوسکیں، یعنی دوسرے الفاظ میں تصوف اور شیخ غوث الاعظم شیخ  عبدالقادر الجیلانی رضی اللہ عنہ کی منہاج کی ترویج اس لئے سلطان نے کی تاکہ مسلمانوں کوصلبیوں کی ثقافی، مذہبی گمراہی، بدکاری معاشی، و معاشرتی یلغاروں کو مسلمانوں پر سے روک سکیں ، اور اس کام میں طریقتِ قادریہ پر ایک مدرسہ بنوایا گیا جہاں سے تبلیغِ دین ، اشاعت اسلام کا کام ہوتا اور صلیبیوں کی ان یلغاروں سے متحد ہوکر امت مسلمہ کا تحفظ کیا جاتا ۔ مدرسہ قادریہ نے اس اہم موقعہ پر یہ اہم خدمت سرانجام دی۔
یہ بات بین ثبوت ہے کہ تصوف اسلام کی روح ہے اور آج کے جو نام نہاد (سلفی ،وہابی دیوبندی) وغیرہ اسکی مخالفت کرتے ہیں وہ خود اسلام سے نآ شنا ہیں اور ان کا تاریخ میں کوئی رول نہیں رہا ہے ، ہمیشہ آپ کو تاریخ میں صوفیاء کا ذکر ملے گا جو مجاہد تھے، کٹر سنی تھے مقلد تھے ۔ چاہے کوئی صوفی نہ بھی ہو تب بھی وہ ان کو شرک نہیں کہتا تھا نا کسی نے اسکو شرک سمجھا ورنہ تصوف کے مدرسے کی اشاعت وہ بھی صلیبی دور میں کیا معنی رکھتی ہے۔ ظاہر ہے کہ تصوف کو اسلام کی بقا روح اور صفائی قلب کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ جبکہ ان کے مخالفت میں کون تھے؟ صلیبی اور حشیشین یعنی اس دور کے خوارج میں حشیشین تھے ، جبکہ آجکل (سلفی دیوبندی وہابی ) ہیں۔
"اللہ تعالیٰ تیری  (حضرت نورالدین ) ان ہڈیوں کو جو مٹی کے نیچے بوسیدہ ہوگئی ہیں، عفوو مغفرت کا لباس پہنائے اور جس قبر میں انہوں اسے رکھا ہے ، اسے رحمت سے سیر اب کرے اور ان کی قبر کی جگہ کو روح و ریحان سے بھردے" ۔ (البدایہ والنہایہ جلد 12 صفحہ 362)
آپ کے مفصل حالات کے لیے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کریں ۔
 المنتظم جلد18صفحہ 210-209 ،تاریخ دمشق لابن عساکر جلد60صفحہ 123 -118،  الکامل فی التاریخ لابن الاثیر جلد 9 صفحہ 126-124، تاریخ الاسلام للذھبی جلد 39 صفحہ 387-370، سیر اعلام النبلاء جلد20 صفحہ 539-531،البدایہ و النہایہ جلد ا4صفحہ 254-239 الاشارات الیٰ اماکن الزیارات، جامع کرامات الاولياء،  الدولۃ الزنکیہ وغیرہ 

سلطان صلاح الدین ایوبی الشافعی علیہ الرحمہ قسط 7

اب آئیے اصل مقصود کی طرف  جیسا کہ ابن خلکان وغیرہ نے کہا کہ سلطان نورالدین محمود بن عمادالدین زنگی ایک عادل بادشاہ تھا۔ کنیت ابوالقاسم تھی۔ یہی وہ بادشاہ تھا جس نے زمین پر دارالحدیث بنانے کا سب سے پہلے شرف حاصل کیا  ۔ اس نے بہت زیادہ کتابیں تصنیف کیں اور ہر نیک کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والا تھا۔ مساجد اور دینی مدارس بلاد اسلامیہ میں تعمیر کئے دینی علوم پھیلائے اور بہت سے اوقاف قائم کئےاور دین کے جاننے اور پڑھنے پڑھانے والوں سے بہت محبت کرتےتھے۔ نیکی کمانے کا بڑا حریص تھے اور لڑائی میں ڈٹ جانے والا اور بہترین تیرانداز تھے صرف اپنی خاص مِلک سے کھاتے ، پیتے، پہنتے اور صدقہ وخیرات کرتے تھے۔ یا پھر غنیمت میں سے جو حصہ ملتا اس سے یہ کام سرانجام دیتے تھے۔ آپ اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے جو آپ اپنی تلوار اور نیزے سے کرتے تھے۔ مال غنیمت میں سے اسقدر حصہ لیتے جتنا علماء کرام اس کا حصہ بتاتے ، کسی دوسرے پر زیادتی نہ کرتا اور جو چیز پہننی اللہ نے حرام کردی ہے۔ یعنی سونا، ریشم اور چاندی، ان میں سے کوئی چیز بھی نہ پہنتے۔ اس نے اپنی تمام حکومت میں شراب پینے اور اس کے لین دین پر پابندی لگادی تھی۔ عوام میں اس کی شہرت اچھی ہوگئی اور اس کے انصاف کا چرچا مشرق و مغرب اور ہرجگہ پھیل گیا تھا ۔ شام کی تمام فصیلیں بنوائیں۔ حلب ، حمص، حماۃ اور دمشق وغیرہ میں قلعے تعمیر کئے۔ اس نے اپنے لیے بڑے بڑے محل تعمیر نہیں کئے بلکہ بیت المال کا روپیہ مدرسوں، شفاخانوں اور مسافر خانوں کے قائم کرنے اور رفاہ عامہ کے دیگر کاموں میں صرف کرتے۔ دمشق میں اس نے ایک شاندار شفاخانہ قائم کیا تھا جس کی دنیا میں مثال نہ تھی۔ اس میں مریضوں کو دوا بھی مفت دی جاتی تھی اور کھانے کا رہنے کا خرچ بھی حکومت کی طرف سے ادا کیا جاتا تھا۔ آپ نے تمام ناجائز ٹیکس موقوف کردیے تھے۔ وہ مظلوموں کی شکایت خود سنتے اور اس کی تفتیش  بھی کیا کرتے تھے۔ نور الدین کی ان خوبیوں اور کارناموں کی وجہ سے اس زمانے کے ایک مؤرخ ابن اثیر نے لکھا ہے کہ: ”میں نے اسلامی عہد کے حکمرانوں سے لے کر اس وقت تک کے تمام بادشاہوں کی تاریخ کا مطالعہ کیا لیکن خلفائے راشدین اور عمر بن عبدالعزیز کے سوا نور الدین سے زیادہ بہتر فرمانروا میری نظر سے نہیں گزرا“۔ (البدایہ والنہایہ جلد12 صفحہ 361)
آپ امام الائمہ ،سراج الامہ ،رئیس الفقہاء والمجتہدین ،سیدالاولیاء والمحدثین حضرت سیدنا  امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب کے فقیہ تھے ۔آپ نے حدیث کا سماع کیا اورکرایا ۔(ایضاً)
حافظ ابن کثیر دمشقی علیہ الرحمہ  (707-774ہجری)  فرماتے ہیں کہ آپ نے خانقاہیں بنوائیں اور فقہاء مشائخ اور صوفیا ء آپ کے پاس جمع ہوتے تھےاور آپ ان کا اعزاز واکرام کرتے تھے اور آپ صالحین سے محبت کرتے تھےاور ایک دفعہ ایک امیر نے آپ کے پاس ایک فقیہ کا گالی دی اور وہ قطب الدین نشیا پوری تھے ، نورالدین علیہ الرحمہ  نے اسے کہا تو ہلاک ہو جائے تو نے جو بات کہی ہے اگروہ سچی ہے وہ تو اس کی بہت سی نیکیاں ہیں جو اسے مٹادے گی جو تیرے پاس نہیں جس سے اس کی برائی کا کفارہ دیا جائے۔قسم بخد ا میں تیری تصدیق نہیں کروں گااور اگرتونے دوبار اس کا ذکر کیا یا کسی نے کسی اور کا میرے پاس برائی  سے ذکر کیا تو میں تجھے ضرور ایذا دوں گا پس اس سے رک جا اور اس کے بعد اس کاذکر نہ کر ۔
ابن اثیر نے بیا ن کیا ہے کہ آپ بارعب اور باوقار تھے اورامراء کے دلوں میں آپ کا بہت خوف تھا ، آپ کی اجازت کے بغیر کوئی شخص آپ کے سامنے بیٹھنے کی جسارت نہ کرتا تھا مگر امیر نجم الدین ایوب  (والد صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ )کے سوا۔ کوئی امیر بغیر اجازت بیٹھ نہیں سکتا تھا اور اسدالدین شیرکوہ اور مجددالدین بن الدایۃ نائب حلب اور دیگر اکابر آپ کے سامنے کھڑے رہتے تھےاور اس کے باوجود جب کوئی فقیہ یا فقیرآتا تو آپ اس کے لئے کھڑے ہوجاتے اور چند قدم چلتے اور وقار و سکون کے ساتھ اسے اپنے سجادہ پر بٹھاتے اور جب ان میں سے کسی کو کوئی چیز دیتے تو اکثر کہتے یہ لوگ اللہ کے سپاہی ہیں ان کی دعاؤں سے ہم دشمن پر فتح پاتے ہیں اور جو میں انہیں دیتاہوں ، بیت المال میں ان کا حق اس سے کئی گنا زیادہ ہے اور جب وہ ہم سے اپنا کچھ حق لے کر راضی ہوجاتے ہیں تو یہ ان کا ہم پر احسان ہے۔

کسی کی ادا کو ادا کررہا ہوں
 ایک مربتہ  آپ کوایک حدیث سنایا گیا جس میں تھا کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  تلوار گلے میں لٹکائے باہر نکلے توآپ تعجب کرنے لگے کہ جو عادات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں لوگ ان سے کیسے بدل گئے ہیں اور سپاہی اور امراء تلواروں کو اپنی کمروں میں کیسے باندھتے ہیں اور اس طرح نہیں کرتےجیسے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نےکیا ہے ، پھر آپ نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ تلواروں کو اپنے گلوں میں ڈالیں ۔ پھر آپ دوسرے روز فوج کی طرف گئے تو آپ تلوار گلے میں لٹکائے ہوئے تھےاور سپاہیوں کا بھی یہی حال تھا اس سے آپ کا مقصد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرنا تھا ۔ رحمۃ اللہ علیہ (البدایہ والنہایہ جلد 12 صفحہ 346)
سلطان نورالدین زنگی ایک عبادت گزار، شب بیدار بادشاہ تھا، ایک عظیم الشان سلطنت کا فرماں روا ہونے کے باوجود ایسا مردِ درویش تھا جس کی راتیں مصلیٰ پر گزرتی تھیں اور دن میدان جہاد میں۔ مصر کے اس مجاہد، دین دار بادشاہ کی حکومت حرمین شریفین تک تھی اور یہ سارا علاقہ اس کے زیر نگیں تھا۔ وہ عظمت وکردار کا ایک عظیم پیکر تھا ،جس نے اپنی نوک شمشیر سے تاریخ اسلام کا ایک روشن باب لکھا۔ سلطان نورالدین زنگی نے رات کا بیشتر حصہ عبادت ومناجات میں گزارتا تھا اورآپ  معمول تھا کہ نماز عشا کے بعد بکثرت نوافل پڑھتے او رپھر رسول کریم صلی الله علیہ وسلم پر سینکڑوں مرتبہ درود شریف بھیج کر تھوڑی دیر کے لیے بستر پر لیٹ جاتے تھے۔ چند ساعتوں کے بعد پھر نماز تہجد کے لیے اٹھ کھڑےہوتے تھے او رصبح تک نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ عبادت میں مشغول رہتے۔
اور اسی طرح آپ کی بیوی عصمت الدین خاتون بنت اتابک معین الدین رات کو بہت قیام کرتی تھی ۔ ایک شب وہ اپنے ورد سے غافل ہوگئی تو صبح کو غضبناک حالت میں تھی ، نورالدین نے اس سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ نیند کی وجہ سے اس کا ورد نہیں ہوسکا ، پس اسی وقت نورالدین نے قلعہ میں سحر کے وقت طبل بجانے کا حکم دیا تاکہ وہ سونے والے کو اس وقت قیام اللیل لئے جگا دے اور اس نے طبل خانہ کو بہت اجرت اوروظیفہ دیا ۔ (ایضاً 362)

خواب میں زیارتِ رسول صلی الله علیہ وسلم
557 ہجری ،1162عیسوی کی ایک شب اورادووظائف  سے فارغ ہو کر بستر پر لیٹا تو خواب میں تین بار حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوا۔ بعض روایتوں میں ہے کہ سلطان نے متواتر تین رات حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔ ہر مرتبہ دو آدمیوں (انسانی شیطانوں) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سرور کونین صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نور الدین ! یہ دو آدمی مجھے ستارہے ہیں۔ ان کے شر کا استحصال کرو۔“ نور الدین یہ خواب دیکھ کر سخت مضطرب ہوا، بار با ر استغفار پڑھتا اور رو رو کر کہتا۔" میرے آقا ومولا کو میرے جیتے جی کوئی ستائے یہ نہیں ہو سکتا۔ میری جان ، مال، آل واولاد سب آقائے مدنی صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر نثار ہے۔ خدا اس دن کے لیے نو رالدین کو زندہ نہ رکھے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم غلام کو یاد فرمائیں اور وہ دمشق میں آرام سے بیٹھا رہے۔"
ایک عشقِ مصطفی ہے اگر ہو سکے نصیب
ورنہ دھرا ہی کیا ہے جہان  خراب میں
فاتح کون ومکاں ہے جذبہ عشقِ رسول
کچھ نہیں ہوتا یہاں بے گرمئی سوزِ بلال

سلطان  نورالدین زنگی کی بے چینی
 حضرت نورالدین علیہ الرحمہ  زیارت رسول الله صلی الله علیہ وسلم او رارشاد ِرسول کے بعد بے چین ہو گیا او راسے یقین ہو گیا کہ مدینہ طیبہ میں ضرور کوئی ایسا ناشدنی واقعہ ہوا ہے، جس سے رحمت دارین صلی الله علیہ وسلم کی روح اقدس کو تکلیف پہنچی ہے ۔ خواب سے بیدار ہوتے ہی اس نے بیس اعیانِ حکومت کو ساتھ لیا اور بہت ساخزانہ گھوڑوں پر لدوا کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ دمشق کے لوگ سلطان کے یکا یک عازمِ سفر ہونے سے بہت حیران ہوئے، لیکن کسی کو معلوم نہ تھا کہ اصل بات کیا ہے؟
اہل مدینہ کی دعوت
دمشق سے مدینہ منورہ پہنچنے میں عام طور پر بیس پچیس دن لگتے تھے لیکن سلطان نے یہ فاصلہ نہایت تیز رفتاری کے ساتھ طے کیا اور سولہویں دن ہی مدینہ طیبہ جا پہنچا۔ اہل مدینہ اس کی اچانک آمد پر حیران رہ گئے۔ سلطان نے آتے ہی شہر میں آنے جانے کے دروازے بند کر دایے۔ پھر منادی کرادی کہ آج تمام اہل مدینہ اس کے ساتھ کھانا کھائیں، تمام اہل مدینہ نے نہایت خوش دلی سے سلطان کی دعوت قبول کی۔ اس طرح مدینہ منورہ کے تمام لوگ سلطان کی نظر سے گزر گئے، لیکن ان میں وہ دو آدمی نہ تھے جن کی شکلیں اسے سچے خواب کے ذریعے دکھائی گئی تھیں۔
بزرگ صورت شیطان
سلطان  نورالدین زنگی علیہ الرحمہ نے اکابر شہر سے پوچھا کہ کوئی ایسا شخص تو باقی نہیں رہا جو کسی وجہ سے دعوت میں شریک نہ ہو سکا ہو؟
انہوں نے کہا کوئی ایسا تو نہ رہا، البتہ دو خدار رسیدہ مغربی زائر، جو مدت سے یہاں مقیم ہیں، نہیں آئے۔ یہ دونوں بزرگ عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔ اگر کچھ وقت بچتا ہے تو جنت البقیع میں لوگوں کو پانی پلاتے ہیں ،سوائے اس کے کسی سے ملتے ملاتے نہیں۔

سلطان کا خون کھول گیا
سلطان نے حکم دیا ان دونوں کو بھی یہاں لاؤ۔ جب وہ دونوں سلطان کے سامنے حاضر کیے گئے تو اس نے ایک نظر ہی میں پہچان لیا کہ یہی وہ دو ( شیطان صفت) آدمی ہیں جو اسے خواب میں دکھائے گئے تھے۔ انہیں دیکھ کر سلطان کا خون کھول اُٹھا، لیکن تحقیق حال ضرور ی تھی، کیوں کہ ان (مکاروں) کا لباس زاہدانہ اور شکل وصورت مومنوں کی سی تھی۔ سلطان نے پوچھا تم دونوں کہاں رہتے ہو ؟ انہوں نے بتا یاکہ روضہٴ اقدس کے پا س ایک مکان کرایہ پر لے رکھا ہے اور اسی میں ہر وقت ذکر الہٰی او رعبادت خداوندی میں مشغول رہتے ہیں۔
خوف ناک انکشاف
سلطان نورالدین  علیہ الرحمہ نے وہیں ان دونوں کو اپنے آدمیوں کی نگرانی میں چھوڑا اور خود اکابر شہر کے ہم راہ اس مکان میں جا پہنچا، یہ ایک چھوٹا سا مکان تھا، جس میں نہایت مختصر سامان مکینوں کی زاہدانہ زندگی کی خبر دے رہا تھا، اہل شہر (دھوکے سے) ان دونوں کی تعر یف میں رطب اللسان تھے اور بظاہر کوئی چیز قابل اعتراض نظر نہیں آتی تھی، لیکن سلطان کا دل مطمئن نہ تھا اس نے مکان کافرش ٹھونک بجا کر دیکھنا شروع کیا۔ یکا یک سلطان کو ایک چٹائی کے نیچے فرش ہلتا ہوا محسوس ہوا، چٹائی ہٹا کر دیکھا تو وہ ایک چوڑی سل تھی، اسے سر کایا گیا توا یک خوف ناک انکشاف ہوا۔ یہ ایک سرنگ تھی جو روضہٴ اقدس کی طرف جاتی تھی ۔سلطان سارا معاملہ آناً فاناً سمجھ گیا اور بے اختیار منہ سے نکلا: صدق الله وصدق رسولہ النبی الکریم
بھیڑ نما بھیڑئیے
سادہ مزاج اہل مدینہ بھی ان بھیڑ نما بھیڑیوں کی یہ حرکت دیکھ کر ششدر رہ گئے، سلطان اب قہر وجلال کی مجسم تصویر بن گیا اور اس نے دونوں ملعونوں کو پابہ زنجیر کرکے اپنے سامنے لانے کا حکم دیا۔ جب وہ سلطان کے سامنے پیش ہوئے تو اس نے ان سے نہایت غضب ناک لہجے میں مخاطب ہو کر پوچھا۔ سچ سچ بتاؤ تم کون ہو ؟ اور اس ناپاک حرکت سے تمہارا کیا مقصد ہے ؟ ۔ دنووں ملعونوں نے نہایت بے شرمی اور ڈھٹائی سے جواب دیا۔” اے بادشاہ! ہم نصرانی ہیں ( بعض روایتوں میں یہ ہے کہ یہ دونوں یہودی تھے) اور اپنی قوم کی طرف سے تمہارے پیغمبر کی لاش چرانے پر مامور ہوئے ہیں ۔ ہمارے نزدیک اس سے بڑھ کر اور کوئی کار ثواب نہیں ہے ۔ لیکن افسوس کہ عین اس وقت جب ہمارا کام بہت تھوڑا باقی رہ گیا تھا تم نے ہمیں گرفتارکر لیا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ سرنگ حضرت عمر فارق اعظم رضی الله عنہ کے جسد مبارک تک پہنچ چکی تھی، یہاں تک کہ ان کا ایک پاؤں ننگاہو گیا تھا۔

گستاخانِ رسول صلی الله علیہ وسلم کا انجام
سلطان نورالدین  کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا، اس نے تلوار کھینچ کر ان دونوں بدبختوں کی گردنیں اڑا دیں اور ان کی لاشیں بھڑکتی ہوئی آگ کے الاؤ میں ڈلوادیں۔ یہ کام انجام دے کر سلطان پر رقت طاری ہو گئی اور شدت گریہ سے اس کی گھگی بندھ گئی۔ وہ مدینہ منورہ کی گلیوں میں روتا ہوا گھومتا تھا او رکہتا تھا: زہے نصیب کہ اس خدمت کے لیے حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس غلام کا انتخاب فرمایا۔
منت منہ کہ خدمت سلطان ہمیں کنی
منت شناس ازوکہ بخدمت گذاشت
﴿ یختص برحمته من یشاءوالله ذوالفضل العظیم ﴾
جب ذرا قرار آیا تو سلطان نے حکم دیا کہ روضہ نبوی صلی الله علیہ وسلم کے گرد گہری خندق کھود کر اسے سیسہ سے بھر دیا جائے، چنانچہ اتنی گہری خندق کھودی گئی کہ زمین سے پانی نکل آیا ،اس کے بعد اس میں سیسہ بھر دیا گیا، تاکہ زمانے کی دست بر دسے ہر طرح محفوظ رہے، آج بھی اہل مدینہ سلطان نورالدین کا نام نہایت محبت واحترام سے لیتے ہیں او راس کا شماران نفوس قدسی میں کرتے ہیں جن پر سید البشر صلی الله علیہ وسلم نے خود اعتماد کااظہار فرمایا اور ان کے محب رسول ہونے کی تصدیق فرمائی 
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔

آپ ہر وقت شہادت کی تمنا اور جستجو میں رہتے تھے اسی وجہ سے لوگوں نے آپ کو نورالدین الشہید کا لقب دیا ۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی 532/20 )
 11 شوال 569 ہجری میں سلطان نے انتقال فرمایا اور دمشق شام کے قلعہ میں دفن کیا گیا۔ یہ مدرسہ سلطان نے خوامین کے پڑوس میں مغربی جانب احناف (حنفی المسلک) حضرات کے لیئے تعمیر کرایا تھا۔ علمائے کرام فرماتے  ہیں کہ آپ کی قبر پر مانگی دعا قبول ہوتی ہے۔ 
ابن حورانی نے کتاب "الاشارات الیٰ اماکن الزیارات"میں سلطان کی ایک کرامت نقل کی ہے۔ اس کتاب میں زیارات سے مراد زیاراتِ دمشق ہیں۔ اور ظاہر ہے یہ ہے کہ ابن حورانی دسویں ہجری کے علماء میں سے تھے ۔ جیسا کہ “کشف الظنون” سے مفہوم ہوتا ہے۔ لکھتے ہیں کہ سلطان محمود زنگی کی قبر پر دعا مستحاب ہوتی ہے ۔ یہ بات اہل علم کے ہاں بہت مشہور ہے۔ حافظ محمد بن حسن صاحب “مجمع الاحباب” اور کمال دمیری نے “حیات الحیوان” اور صاحب “طبقات الحنفیہ” اور بصروی نے “فضائل سلطان” میں اسے ذکر کیا ہے۔ ہمارے شیخ جناب ابوالعباس طیبی فرمایا کرتےہیں کہ یقیناً یہ بات مجرب ہے ہم نے بارہا اس کا تجربہ بھی کیا ہے۔"۔ (جامع کرامات الاوليا، جلد 2 صفحہ ۴۴۹/۴۵۰ )